.

کارگل چوٹی، جنگ اور واشنگٹن کا میدانی درخت

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان سے دور امریکا میں زندگی بسر کرتے ہوئے بھی بعض ایسے لمحات اور واقعات کا عینی مشاہدہ کرنے کا قدرت نے موقع دیا جو آبائی وطن پاکستان کے حکمرانوں، پاکستان کی سیاست، معیشت اور معاشرت میں نہ صرف تبدیلیوں کا محرک اور باعث بنے بلکہ بعض واقعات تو قوم کی سوچ، سمت اور منزل کو بھی متاثر کرنے کا موجب بنے البتہ ان تاریخ ساز لمحات و واقعات کو اقتدار کے ایوانوں سے دیکھنے اور برتنے والے حکمرانوں، سرکاری منصب داروں، سفارت کاروں، جنرلوں اور خفیہ اداروں نے وقتی ضرورتوں، اقتدار کے تقاضوں، ”ملکی مفادات“ اور ”قومی راز“ کے غلافوں میں لپیٹ کر اسے عوام سے چھپا کر رکھ دیا۔ یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جاری ہے جس میں کارگل کی شدید سرد چوٹیوں پر پاک، بھارت مقامی جنگ کے شعلوں اور شہادتوں کے بعد پاک بھارت مکمل بلکہ ایٹمی جنگ کے خطرات کے ساتھ واشنگٹن میں بل کلنٹن، نوازشریف ملاقات و مذاکرات اور انجام پر مبنی حقائق بھی قوم سے چھپانا شامل ہے۔ گو کہ اب بروس ریڈل سمیت متعدد اخبار امریکی مصنفین اور صحافیوں کی کتابوں اور تحریروں کے ذریعے کارگل کی جنگ کے ذمہ داروں، واقعات، مذاکرات اور انجام کے بارے میں امریکی نقطہ نظر کے ساتھ بہت سے حقائق سامنے آچکے اور اس پر تجزیہ، جوابی یا وضاحتی موقف بھی ریکارڈ پر آچکا ہے لیکن کارگل کی جنگ میں جان دینے والے ایسے فوجی اور شہری جوانوں کے والدین اپنے بچوں کی شہادت کو بھی خوشی خوشی قبول کرلینے کے 14سال بعد بھی کارگل کی جنگ کے ذمہ داروں کی حقیقی اور عملی نشاندہی اسباب اور جزا یا سزا جاننے کے منتظر ہیں۔

آج سے 14سال قبل اسی جولائی کے مہینے میں پاک، بھارت مکمل جنگ کے خطرات کے دوران 4جولائی کو وزیراعظم نواز شریف اور صدر بل کلنٹن کے درمیان واشنگٹن میں جو ملاقات و مذاکرات ہوئے اور امریکا میں تعطیل کے دن صدر بل کلنٹن نے وقت دے کر جس طرح پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کو مشکل سے نکالا اور برصغیر میں جنگ کے خطرات کو ٹالا؟ اس بارے میں واشنگٹن میں شدید گرمی کے دوران وہائٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر سرکاری گیسٹ ہاؤس بلیئر ہاؤس کے باہر ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر ”جنگ“ اور ”دی نیوز“ کیلئے کوریج کے علاوہ ان آنکھوں سے جو کچھ دیکھا امریکی ذرائع امریکی ترجمان سے جو کچھ سنا پھر میاں نوازشریف کی کابینہ کے تین سہمے ہوئے وفاقی وزراء جنرل (ر) مجید ملک، چوہدری نثار علی خاں اور سرتاج عزیز کی جانب سے پاک امریکا اعلان کو میڈیا سے چھپانے کی بھرپور کوشش اور پاکستانی صحافیوں کا احتجاج وزیراعظم نوازشریف کی ہمت اور وقار کے ساتھ صورتحال کا سامنا کرنا، نیویارک میں وزیراعظم نوازشریف کی مجھ سے تفصیلی اور آف دی ریکارڈ گفتگو اور پھر نیویارک سے لندن روانگی اور اس کے بعد پھر خوفزدہ آرمی چیف پرویز مشرف سے استعفیٰ لینے کے بجائے اس کا اعتماد بحال کرانے کی نوازشریف کی کوششوں کے بعض پہلوؤں سے واقف ہونے کے تناظر میں چند واقعات آنکھوں دیکھا حال ،رپورٹوں کی شکل میں تحریری ریکارڈ، اپنے تجزیہ اور دلائل کو قارئین کے سامنے ان کی رائے اور فیصلہ کیلئے پیش کرتا ہوں۔

مقصد اپنے چشم دید حقائق فہم اور رائے کے ساتھ کارگل کی جنگ کی ذمہ داری اور اس کے منفی اثرات اور ممکنہ مکمل پاک بھارت جنگ کے خطرے سے نمٹنے کیلئے نوازشریف اور پرویز مشرف کا رول، اس کارگل کی ناکام پاکستانی جنگ کے منفی طویل المیعاد اثرات کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ قارئین اس بارے میں اپنی کوئی حتمی رائے قائم فرما سکیں۔ میری رائے بعض امریکی ذرائع، امریکی میڈیا رپورٹس، امریکی حکام سے آف دی ریکارڈ اور آن دی ریکارڈ گفتگو، وزیراعظم نوازشریف سے واشنگٹن اور نیویارک میں ملاقات اور گفتگو جولائی کو واشنگٹن میں کلنٹن شریف مذاکرات کا آنکھوں دیکھا حال اور دیگر معلومات ہیں جن میں بعض معلومات وہ بھی ہیں جو بعد کے سالوں میں حاصل ہوئی ہیں آپ کو رائے قائم کرنے میں یہ تناظر بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ مئی 1998ء کے پاکستانی ایٹمی تجربہ کے بعد فروری 1999ء میں بھارتی وزیراعظم واجپائی امریکی صدر بل کلنٹن کی حمایت اور کوششوں کے ساتھ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے خود لاہور آئے اور بڑی اہم پیشرفت کیلئے ماحول سازگار ہو رہا تھا مگر واجپائی کے دورہ کو ناکام بنانے کی کوششوں کے تین ماہ بعد ہی آرمی چیف پرویز مشرف نے کارگل کی سرد چوٹی پر مسلح فوجی اقدامات کے ذریعے مقامی سطح پر پاک، بھارت جنگ کے وہ شعلے بھڑکائے کہ جون 1999ء کے آخری ایام میں بھارت نے سندھ راجستھان سرحد عبور کرکے سخت گرمیوں میں مکمل پاک، بھارت جنگ کا فیصلہ کرکے امریکا کو مطلع بھی کرڈالا تاکہ امریکا علاقے میں اپنے فوجی اور قومی مفادات کی حفاظت کیلئے اقدامات کرے۔

اس کی تفصیل کیلئے جون/جولائی 1999ء کی ”جنگ“ اور ”دی نیوز“ میں میری دو خبریں ریکارڈ میں موجود ہیں کہ بھارت نے 26جون کو سندھ کی پاکستانی سرحد عبور کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس طرح جولائی 1999ء کے آغاز میں چند سطور کی میری یہ تہلکہ خیز خبر کہ کارگل کی جنگ کے حوالے سے آئندہ 72گھنٹوں میں بڑی اہم ”پیش رفت“ ہونے کا امکان ہے اور اگلے 48گھنٹوں میں وزیراعظم نواز شریف کسی اعلان یا توقع کے بغیر واشنگٹن میں اپنے تین وزراء سرتاج عزیز، جنرل (ر) مجید ملک اور چوہدری نثار علی خاں کے ساتھ 4جولائی کو صدر کلنٹن سے ملاقات اور مذاکرات کیلئے موجود تھے۔ وہ امریکا کے پہلے جنرل جارج واشنگٹن کی فتوحات اور حاصل کردہ آزادی سے بنائے گئے ملک امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اپنے پاکستانی جنرل پرویز مشرف کی کارگل کی سرد چوٹیوں پر لگائی گئی جنگ کی آگ کو مکمل پاک بھات جنگ بلکہ ممکنہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے اپنے اقتدار کو لاحق تمام خطرات مول لے کر آئے تھے ان کے آنے میں جنرل پرویزمشرف کی التجائی حمایت بھی شامل تھی کیونکہ وہ اپنی بھڑکائی ہوئی مقامی جنگ کی آگ کے شعلوں کے خطرات سے اب خود بھی خوفزدہ ہو چکے تھے۔ نوازشریف آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لینے کے بعد کے فوجی ردعمل اور اثرات کی زد میں خود بھی تھے اور 4جولائی کو وہ پاک بھارت جنگ کے خطرات ٹالنے اور اپنے آرمی چیف اور چند جنرلوں کی فوجی غلطیوں کا مداوا کرنے کے لئے واشنگٹن میں موجود تھے۔ اب یہ جنرل ریٹائر ہو کر خاموش اور پُرامن زندگیاں گزار رہے ہیں لیکن واجپائی کے دورہ پاکستان کو مسترد کرکے کارگل میں چھیڑی گئی جنگ کے ذمہ دار پرویز مشرف کی لگائی گئی آگ کے اثرات کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام بھارت سے برابری کی سطح سے نیچے ہو کر بھی بھارت سے امن اور دوستی چاہتے ہیں مگر علاقے کی سپر طاقت بھارت اب اپنی شرائط پر پاک بھارت دوستی میں بھی محتاط رویہ لئے ہوئے ہے۔ اس بارے میں پرویز مشرف سے ان کے دور اقتدار اور محرومی اقتدار کے بعد کے ایام میں بھی نیویارک اور واشنگٹن میں ملاقاتوں اور گفتگو کے نتیجے میں یہ قائم کردہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ کارگل کی جنگ کے سلسلے میں کمانڈو جنرل (ر) پرویز مشرف کے اقدامات خود سر کے اقدامات تھے اور ان کی ذمہ داری بھی پرویزمشرف پر ہی عائد ہوتی ہے۔

بہرحال 4 جولائی1999ء کو واشنگٹن میں بلیئر ہاؤس کے باہر شدید گرمی کے موسم میں ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر پیاس کی شدت کے ساتھ ساتھ صدر بل کلنٹن اور وزیراعظم نوازشریف کی بلیئر ہاؤس آمد سے لے کر مذاکرات کے آغاز اور اختتام تک اندر سے لمحہ بہ لمحہ ذرائع اور دوستوں کے ذریعے آنے والی گرم گرم خبروں کے اجزاء جنگ اور دی نیوز تک پہنچانے کا عمل میرے لئے ایک تاریخی یادگار ذمہ داری تھی۔ خدا بھلا کرے وہائٹ ہاؤس کی ایک معمر اور مقبول خاتون گائیڈ میری کا جو چھڑی کے سہارے سے چلتے ہوئے درخت کے نیچے کھڑے پیاس کے مارے صحافیوں کیلئے پانی اور سوڈے کی چند ٹھنڈی بوتلیں اور ڈبے کہیں سے لے آئیں تو کئی گھنٹے سے پیاسے صحافیوں نے میری کو شکریہ کی بھر مار سے خوش کر دیا۔

مذاکرات کے اختتام پر صدر بل کلنٹن اور وزیراعظم نوازشریف کے درمیان جو اعلان طے پایا وہ 180/ الفاظ اور 18سطور پر مشتمل تھا۔ جسے بھارت کی منظوری اور حمایت بھی حاصل تھی۔ ان مذاکرات کے دوران نوازشریف کے اندیشے ان کے ساتھی وزراء کا رویہ، صدر بل کلنٹن کی ناراضی، نرمی اور تعاون، بھارت کا رویہ اور پھر امریکی ترجمانوں بروس ریڈل اور کارل انڈر فرتھ کی پریس بریفنگ سخت سوال و جواب، پاکستانی وزراء کی خوفزدگی اور اعلان کارگل کو چھپانے کی کوشش، صحافیوں کو بریفنگ سے انکار اور غلط بیانی پر پاکستانی صحافیوں کا احتجاج اور دیگر چشم دید واقعات بھی ایک تاریخی اہمیت اور حیثیت رکھتے ہیں جن کا ذکر پھر کبھی سہی لیکن مجھے اس رائے کے اظہار کی اجازت دیں کہ 1999ء میں وزیراعظم نوازشریف نے اپنی حکومت، اپنی عزت نفس کی پروا کئے بغیر اپنے آرمی چیف کے بھڑکائے ہوئے جنگ کے شعلوں کو بجھانے کے لئے کلنٹن کے تعاون سے نہ صرف پاک بھارت جنگ کو روکا بلکہ اپنے فوجی جنرل اور فوج کے وار کا دفاع بھی کیا اور پھر جون/جولائی میں انتہائی خوفزدہ اور مایوس پرویزمشرف نے جس طرح چند ہفتوں میں ایک بہادر جنرل بن کر اکتوبر 1999ء میں ہی نواز شریف حکومت کا جس طرح تختہ الٹا اور پاکستان کے پہلے چیف ایگزیکٹیو بنے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے.

اس سے آگے نوازشریف کی ابتلاء، قید اور جلاوطنی اور پھر واپسی بھی، مختصر یہ کہ امریکا کے پہلے جنرل اور پھر پہلے صدر جارج واشنگٹن کے دیس امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں 4 جولائی 1999ء کو پاکستان کے سویلین وزیراعظم نوازشریف نے کارگل کی سرد چوٹی پر پاک بھارت جنگ کی آگ لگانے کے بعد خوفزدہ جنرل پرویز مشرف کی التجائی کیفیت کے بعد پاکستان اور پاکستانی فوج کا وقار بچانے کیلئے تمام خطرات مول لے کر صدر بل کلنٹن کے تعاون سے اعلان کارگل کے ذریعے بحران ختم کیا۔ یہ خوفزدہ جنرل مشرف چند ہفتوں میں شریف برادران کی حکومت کے لئے ایک جرأت مند گوریلا کمانڈو کیوں اور کیسے بنا؟ یہ بھی ایک الگ داستان ہے بہرحال یہ کہنے دیجئے کہ 4 جولائی جنرل جارج واشنگٹن کے ملک میں کارگل کی چوٹی پر پاکستانی جنرل کی غلط حکمت عملی اور شکست خوردہ اقدامات کے منفی اثرات سے اپنے جنرل اور پاکستانی فوج اور پاکستانی مملکت کا دفاع کیا۔ اسی جنرل کے اقتدار پر قبضہ اور من مانے فیصلوں کے باعث تباہ شدہ پاکستان کی بقاء کو خطرات لاحق ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.