.

اسامہ کی تلاش پاکستان کی ذمے داری کیسے بن گئی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں اس رپورٹ پر حیران ہوں جس نے اسامہ کی تلاش میںناکامی کی ذمے داری پاکستان پر عائد کی ہے۔ یہ رپورٹ چونکہ اصل حالت میں منظر عام پر نہیں آئی، اس لئے مجھے یہ یقین کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ الجزیرہ ٹی وی چینل نے کسی خود ساختہ رپورٹ کا خلاصہ نشر کر دیا ہے۔

میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ اسامہ کی تلاش کا فریضہ کسی بھی لحاظ سے پاکستان پر عائد ہوتا تھا۔ اسامہ کی تلاش امریکیوں کو تھی، پاکستان کو ہونی بھی نہیں چاہئے تھی۔ میں تو ایبٹ آباد کمیشن کی دوہری پالیسی پر بھی حیران ہوں کہ اگر ایک طرف اس نے اسامہ کی موجودگی میں پاکستانی ایجنسیوں کو مطعون کیا ہے تو دوسری طرف ایک ڈاکٹر پر غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم کیوں دیا۔ اگر کمیشن کو اسامہ کے سراغ سے ذرا بھی دلچسپی تھی تو یہی کام پاکستانی ڈاکٹر انجام دے رہا تھا، پھر وہ پاکستان کا غدار کیسے ہو گیا، اسے تو محسن پاکستان کا خطاب ملنا چاہئے تھا، مگر اس کو تو ایسی سزا دی گئی کہ ایک مدت کے بعد اس کے کسی گھر والے کو گزشتہ روز اس سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسامہ کے سلسلے میں دوہرا معیار صرف ایبٹ آباد کمیشن کا ہی نہیں، کئی پاکستانیوں کا بھی ہے۔اور اس کی کئی ایک معقول وجوہ ہیں۔ اسامہ پاکستان کا ہیرو تھا، امریکیوں کا بھی ہیرو تھا۔سووئت روس کے خلاف جہاد کو کامیاب بنانے میں اس کے ڈالروں کا ہاتھ تھا۔اور اس جہاد نے پاکستان کو بھی سووئت روس کی دست برد سے محفوظ رکھا۔کون نہیں جانتا کہ اس جہاد کی پشت پناہی امریکی سی آئی اے نے کی تھی۔اب اس راز سے اسامہ یا امریکہ ہی پردہ اٹھا سکتے ہیں کہ دونوں میں اختلاف اور دشمنی کی وجہ کیا تھی۔میں نے پچھلے ایک کالم میں سن دو ہزار میں پینٹگان کی ایک میٹنگ کا حوالہ دیا تھا جس میں بار بار اسامہ کا ذکر چھڑا تو میں نے امریکی جرنیلوں سے کہا کہ آپ اسامہ کا طعنہ پاکستان کو کیسے اور کیوں دیتے ہیں، وہ آپ کا آدمی تھا، آپ ہی نے ہمیں دیا،اب پاکستان پر کیا اعتراض ہے۔

اسامہ پاکستانی سیاست میں بھی سرگرم رہا، بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اس نے اسلامی جموری اتحاد کی بھر پور مدد کی۔ میں نے ایک بار منصورہ کے دارالضیافت میں قاضی حسین احمد سے اس کی تصدیق چاہی تو وہ شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے کہ یہیں، اسی صوفے پر تو بیٹھا کرتے تھے۔

جی ٹی روڈ پر مدرسہ حقانیہ میں مولانا سمیع الحق سے میں نے پوچھا تھا کہ آپ کے فارغ التحصیل نوجوان افغان جہاد میں سرگرم رہے ، کیا اسامہ بھی یہاں آتے جاتے رہے۔ مولانا نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جاﺅ کچھ تصویریں لا کر دکھاﺅ۔ یہ تصویریں اسی نوجوان کی شادی کی تھیں جس میں اسامہ نے شرکت کی تھی، میںنے کہا کہ یہ تصویریں عنائت فرمائیں تاکہ کسی ا خبار میں شائع کی جائیں ، مولانا نے اپنے بیٹے کو ہدایت کی کہ وہ ان تصویروں کو تہہ خانے میں چھپا دے۔

نائن الیون کے بعد دنیا ہی بدل گئی۔ جنرل مشرف پر آج تک پھبتی کسی جاتی ہے کہ اس نے ایک فون کال پر اباﺅٹ ٹرن لے لیا۔ لیکن جنرل مشرف جب تک اقتدار میں رہا ، اس نے اسامہ کی تلاش میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، امریکی کہتے ہی رہے کہ اسامہ پاکستان میں ہے، مگر مشرف کہتا تھا کہ اسامہ کہیں تورا بورا کے غاروں میں دب کے رہ گیا ہوگا۔مشرف کے چلے جانے کے بعد کی کسی حکومت نے بھی اسامہ کی تلاش میں کوئی تگ و دو نہ کی۔کون کہہ سکتا ہے کہ امریکیوں کو کب سے پتہ تھا کہ اسامہ کہاں ہے اور اس کے خلاف کس وقت آپریشن کرنا ہے۔ امریکی فوجیں تو افغانستان کا تورا بورا بنا کر عراق چلی گئی تھیں اور انہوںنے ا س ملک کا فالودہ بنا دیا۔ اس دوران انہیں اسامہ کی کوئی فکر لاحق نہ رہی۔کیوں نہ رہی، امریکہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور پھر اچانک اس نے ایبٹ آباد میں آپریشن کر دیا۔اس آپریشن کی کوئی فلم منظر عام پر نہیں آئی۔ امریکہ جانتا ہے یا خدا جانتا ہے کہ ایبٹ آباد میں کیا ہوا، ہم خواہ مخواہ ایک دوسرے کا گریبان چاک کر رہے ہیں۔

اسامہ کے بارے میں پاکستانی معاشرے کی تقسیم کا میں نے اوپر ذکر کیا۔ میں جب بھی نوائے وقت دیکھتا تھاا ورا سکے اندرونی صفحے پر افغان باقی ، کہسار باقی کے مصرعے کے ساتھ اسامہ کی تصویر دیکھتا تھا تو مجھے مرد شجاع ڈاکٹر مجید نظامی پر فخر محسو س ہوتا۔ انہوں نے تو ایک بار کہا تھا کہ امریکہ انہیں اٹھا کر گوانتا نامو بے لے جانا چاہتا ہے تو لے جائے ، وہ اپنے جہادی نظریات ترک نہیں کریں گے۔اب محترم ڈاکٹر مجید نظامی میرے ایڈیٹر ہیں اور میں چاہوں گا کہ وہ کسی وقت اس راز سے پردہ اٹھائیں کہ انہیں کن حالات میںاسامہ کی تصویر اندرونی صفحے سے اتارنا پڑی۔میں جانتا ہوں یہ تصویر تو نوائے وقت کے قارئین کے دلوں پر نقش ہے، اسے کون کھرچ سکتا ہے۔ایبٹ آباد کمیشن بھی نہیں کھرچ سکتا۔اسامہ نہ رہا نہ وہ افغان تھا۔ کہسار باقی ہے اور رہے گا (ادارہ)

اسامہ کو پناہ دی گئی یا اس کی موجودگی سے چشم پوشی کی گئی یا اس کا سراغ لگانے میں تردد نہیںکیا گیا تو پاکستان سے کیاجرم سرزد ہوا۔کیا روس کے ہوائی اڈے پر امریکی جاسوسی کے بھید کھولنے والاسنوڈن موجود نہیں ہے، کیا وکی لیکس کا جولین اسانج لندن میں ایک غیر ملکی سفارتخانے میں موجود نہیں ہے۔اور پاکستان کے کتنے ہی مجرم ہیں جو یورپ اور امریکہ میں پناہ گزین ہیں۔ مجھے یاد ہے مشرف نے سن دو ہزار میں پہلی مرتبہ یو این او میں تقریر کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ امریکہ ایک دہشت گردکو پناہ دینے کے لئے ہر کسی کو مورد الزام ٹھہرا رہاہے ۔لیکن اقوام عالم کے مالی دہشت گرد امریکی سرزمین پر عیاشی میں مصروف ہیں۔

اسامہ کا قصور کیا تھا، کراس بارڈر ٹیرر ازم یا کراس کانٹی نینٹل ٹیررازم۔ امریکہ نجانے کب سے اس جرم کاا رتکاب کر رہا ہے۔ایبٹ آباد میں اس نے کراس کانٹی ننیٹل ٹیرر ازم کا ارتکاب کیا، ویت نام، عراق اور افغانستان میں کیا۔اورخفیہ طور پر وہ کتنی حکومتوں کے تختے الٹاتا ہے، کتنی قوموں کے خزانوں پر ہاتھ صاف کرتا ہے، وہ کس منہ سے کسی دوسرے کو مجرم ٹھہراتا ہے۔

ہمیں یک سوئی اختیار کرنا ہوگی۔ اگر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ ہم امریکی جنگ کا حصہ کیوں ہیں تو پھر اسامہ ہمارا ٹارگٹ نہیں ٹھہرتا۔امریکہ غلط نہ ہوتا تو ویت نام سے نہ بھاگتا، عراق سے فوجیں نہ نکالتا اور اب وہ افغانستان سے جان چھڑانے کے لئے طالبان کی منتوں پر نہ اترآتا۔ اور اگر اسامہ کو پناہ دینا جرم تھا اور اس کی تلاش ہمارا فرض بنتی تھی تو سب سے پہلے ہمیں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کرنا ہو گا جس پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے۔

وزیر اعظم گیلانی نے تاریخی فقرہ کہا تھا کہ اسامہ کے بارے میں اکیلے ہم سے نہیں، عالمی انٹیلی جنس سے کوتاہی سرزد ہوئی۔
میں ایک ایسی رپورٹ کو مسترد کرتا ہوں جس میں میری قوم، میری حکومت، میرے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف انگلی اٹھائی گئی ہو،یہ پاکستان کی مرتب کردہ رپورٹ نہیں ہو سکتی۔ یہ الجزیرہ کی در فنطنی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.