.

چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے

سجاد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر سے نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ ایسی ایسی دانشوری دکھائی جا رہی ہے کہ الاماں۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک طرح کے ہیجانی بحران میں مبتلا ہے۔ مگر لگتاہے پوری دنیا اس سے کہیں زیادہ طوفان کی زد میں ہے اورہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ بہرحال آج سوچا ہے کہ ذرا چین کا رخ کر لیا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف اس طلسماتی سرزمین کے کامیاب دورے سے واپس آ گئے ہیں۔ سرکاری طور پر تو ہر ایسا دورہ کامیاب ہوا کرتا ہے ، مگر اس دورے کے بارے میں سچ مچ گمان گزرتا ہے کہ یہ ان معنوں میں کامیاب رہا ہے جن معنوں میں ہماری نئی حکومت اسے کامیاب دیکھنا چاہتی ہے۔

اس کی پہلی کامیابی تو یہ ہے کہ وزیراعظم کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ چاہے اس کی منصوبہ بندی پہلے ہی ہو چکی ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیراعظم منصوبہ بندی کے بغیر بھی کہیں جا سکتے تھے۔ اور نہیں تو وہ عمرے کے لئے بھی تشریف لے جا سکتے تھے۔ اس پر تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔مذہبی فریضہ بھی ہے، رسم دنیا بھی ہے، دستور بھی ہے پھر میاں صاحب کا سعودی حکمرانوں سے خاص تعلق بھی۔ البتہ پھبتی کرنے والے تیار بیٹھے تھے، دیکھو چل دیئے بھیک مانگنے۔ وہاں سے جھولی میں وہی پڑے گا جس کی امریکہ اجازت دے گا۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے، امریکہ نے اپنی مرضی کے حکمران پاکستان پر مسلط کردیئے ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط خفیہ خفیہ ہم پہلے ہی مان چکے ہیں ۔ میاں صاحب نے اچھا کیا کہ یہ اعلان کردیا کہ وہ عمرے پر حسب دستور ماہ رمضان کے آخری دنوں میں جائیں گے۔ اپنی کس مذہبی تمنا کو بھی مصلحت دین کے تحت ضبط کرنا میرے خیال میں کار ثواب ہے۔ اس سے بڑا صبراور کیا ہو سکتا ہے۔

چین کے حوالے میں بھی ہم جوش خطابت کے قائل ہیں۔ ہمالہ سے بلند تر‘ سمندروں سے گہری دوستی ، وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے صدر آصف زرداری صاحب نے بھی اس ملک کے کوئی نو دورے کئے ہیں۔ پہلے وزرائے اعظم بھی جاتے رہے ہیں۔ پھر اس دورے کی کیا اہمیت ہے۔ چین کی طرف ہمارا محتاط جھکاﺅ کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا۔ تاہم ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ ہم چین کا نام لے کر اپنی طرف سے سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کو ایک طرح کی ”جھکائی“ دے رہے ہیں۔ ہم نے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب سچ پر بھی اعتبار نہیں آتا۔ کبھی روس آ رہا ہوتا ہے اور کچھ اور نہ ہو تو چین کا نام تو زبان پر دھرا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی میں چین نے جیسی ہماری مدد کی ہے کسی اور نے نہیں کی۔ ہم جہاز بنا رہے ہیں، ٹینک بنا رہے ہیں۔ ہیوی میکنیکل اور الیکٹریکل کمپلیکس کھڑے کئے‘ میزائل سازی اور جدید ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھی چین ہمارا مددگار رہا ہے۔ ہمارے جوہری بجلی گھر اسی کی مدد سے تیار ہوئے ہیں، مگر شاید یہ کمرشل طور پر سول کے شعبے میں ہمارا تعاون ویسا نہیں رہا جیسا ہونا چاہیے۔ ہم ڈر جاتے ہیں چین بھارت سے تجارت کیوں کر رہا ہے، اس کی سرمایہ کاری وہاں کیوں ہے۔ ہم نہیں سمجھ پاتے کہ گدا گردوستو ںکی کوئی زیادہ قدر نہیں کرتا۔ ہمارے درمیان باہمی مفاد کی بنیاد پر بہت کچھ ہو سکتا ہے‘ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے حکمران اپنے لئے کاروبار کے مواقع تلاش کرنے کے لئے جاتے رہے ہوں جیسا کہ کہا جاتا رہا ہے۔

یہ مگر ایک اہم مرحلہ ہے ۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت نے گوادر کے منصوبے پر صاد کر دیا ہے۔ ایسی خبریں آ رہی تھیں کہ شاید انہیں پاک ایران پائپ لائن کے علاوہ ا س منصوبے پر بھی تحفظات ہیں اور یہ تحفظات امریکہ کی وجہ سے ہیں۔ اب جب گوادر سے خنجراب تک موٹروے اور ریل کے دشوار گزار رابطے کی بات کی گئی ہے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ گوادر کی بندر گاہ اسی وقت قابل عمل ہو سکتی ہے جب اس کا رابطہ دور دراز کے خطوں سے ہو۔ چین کے لئے یہ راستہ وسط ایشیا کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف جب پاک ایران گیس پائپ لائن کو چین تک لے جانے کی بات کی جا رہی ہے تو اس سے ایک طرح کا اطمینان ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ طاق نسیاں کی زینت نہیں بنا دیا جائے گا۔

اس اعلان کے بعد شہباز شریف وزیراعظم کا پیغام لے کر قطر گئے ہیں اور اب میاں صاحب سعودی عرب جائیں گے۔ سعودی عرب ہمیں بہت عزیز ہے ، مگر اس کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کی معیشت ڈالر سے وابستہ ہے اور ڈالر تیل سے ۔اور یہ سب کچھ امریکہ سعودی معاہدے کی وجہ سے قابل عمل ہوا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ شاید اس بندوست کی امریکہ کو اتنی ضرورت نہیں جتنی ماضی میں تھی، فی الحال مگر یہی نظام چل رہا ہے، خطے میں سعودی عرب کو بہت کچھ عالمی بندوبست کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔ سچی بات ہے یہ سفارت کاری کا ایک بہت بڑا امتحان ہے جس میں ذہانت تو چاہیے ہی ، دیانتداری بھی درکار ہے۔ مجھے تو کم از کم اپنے موجودہ حکمرانوں سے دیانتداری کی توقع ہے ۔میں تو بہت امیدیں باندھے بیٹھا ہوں۔ عالمی سرمایہ داری کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن سے مفر نہیں۔

سفارت کاری کا یہ امتحان اس لئے کہ ایک تو ہمارے اپنے حالات دگر گوں ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہماری جیو پولیٹیکس ہے۔ یہ اثاثہ بھی ہے اوربوجھ بھی۔ عالمی فوجداروں کو اس سال اور اگلے سال یہاں سے بزعم خود رخصت ہونا ہے۔ یہ برائے نام ہی نہیں۔البتہ وہ لڑنے مرنے کا کام اب مقامی لوگوں سے لینا چاہتے ہیں۔ وہ افغانستان میں نیا بندوبست چھوڑنا چاہ رہے ہیں۔ اس کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔ اس تگاپو اور کھینچا تانی کا اثر ہمارے جسد سیاست کے اعصاب پر بھی پڑتا ہے۔ چین بھی اس سے لاتعلق نہیں ہے۔ اس کے بھی اپنے مفادات ہیں۔ امریکیوں نے بڑی کوشش کی کہ بھارت افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری بڑھائے ، مگر وہ چین کا اس میدان میں مقابلہ کرنے کو تیار نہیں۔ وہ ازراہ احتیاط اپنی فوجیں بھی افغانستان بھیجنے کو تیار نہیں۔ تربیت دینے والے فوجی بھی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ آپ افغانوں کو ہمارے ہاں بھیج دیجیے۔ ہم وہاں نہیں جائیں گے ۔ افغانوں میں عمومی اثرو رسوخ کے حوالے سے اس شعبے میں اس کی دلچسپی پاکستان کی حد تک ہے، خاص کر بلوچستان میں کیسے نقب لگانا ہے یا پاکستان کے سرحدی علاقوں پر کیسے اثر انداز ہونا ہے۔ بلوچستان میں پاک ایران پائپ لائن اور گوادر پورٹ کا منصوبہ اگر کامیاب ہوتا ہے اور موٹروے بھی بنتی ہے تو اس کے اثرات اس خطے میں بھی پڑسکتے ہیں۔ اور اگر ہم سچ مچ چین کو اپنے ہاں مخصوص سرمایہ کاری پر قائل کر لیتے ہیں تو ایک فقرے میں عرض کروں اس خطے کی جیو پولیٹیکل صورت حال بدل جائے گی۔ یہ میں نے کیاکہہ دیا کہ کسی ملک کا جغرافیہ بھی بدلا کرتا ہے۔جیوپولیٹیکل کا مطلب جغرافیائی سیاسی صورت حال ہی تو ہے۔ جغرافیہ بدل جایا کرتا ہے۔ جب افغانستان ہمارا پڑوسی تھا تو حالات اور تھے۔ جب روس ہمارا ہمسایہ تھا تو حالات بدل گئے اور جب امریکہ ہماری ہمسائیگی میں آگیا تو نقشہ ہی بدل گیا۔ تو جیوپولیٹیکل صورت حال بدل جایا کرتی ہے۔

ویسے ہمیں اس میں کوئی مزید انقلابی تبدیلی کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ ہمیں انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنی راہیں تراشنا ہوں گی۔ شاید جلد ہی دنیا بھر کی صورت حال میں بڑی تبدیلی آ جائے۔ شاید….

اس وقت میرا قطعاً ارادہ نہیں کہ ان تمام متوقع منصوبوں کی چھان پھٹک کروں جو ہم چین کے ساتھ شروع کر سکتے ہیں یا کرنے والے ہیں۔ کچھ کام فوری کرنے کے ہیں۔ نندی پور اور نیلم جہلم پاور پلانٹ پرفوری کام کا آغاز ،لگتا ہے کہ ہو رہا ہے۔ ہم درست طور پر دنیا بھر سے ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ہمیں توانائی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد دیں۔ امریکہ سے بھی کہا ہے ۔ قطر کے پاس بھی یہی پیغام لے کر گئے ہیں اور سعودی عرب کے لئے بھی ہماری یہی درخواست ہے۔ آج کل ہم ایک یہی صدا لگا رہے ہیں۔ اس سے مگر بات نہیں بنتی ہم اس بات کو کتنی وسعت دیتے رہیں گے۔ کوئلے ، سورج، ہوا، پانی اور جوہری توانائی سے ہمیں بجلی بنانے میں مدد دیجئے۔

ہمیں سستی بجلی چاہیے ۔حتی کہ یہ درخواست بھی کر رہے ہیں کہ بجلی چوری سے محفوظ رکھنے کا گُر بھی سکھائیے۔ یہ سب بجا ہے مگر اس میں کوئی طنطنہ نہیں ہے۔ طنطنہ تو اس سے پیدا ہوتا ہے کہ پشاور سے کراچی تک بلٹ ٹرین چلائی جائے گی یا خنجراب سے گوادر تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا۔ یہ دوسرا منصوبہ تو خیر چین کی بھی ضرورت ہے۔ اس میں مگر جاہ و جلال ہے جب ہم کہتے ہیں کہ دو سو کلو میٹر لمبی سرنگیں پہاڑوں میں بنیں گی۔ مغرب والے تو پہلے ہی واویلا کر رہے ہیں کہ ان شمالی علاقوں میں چینی کام کررہے ہیں۔ ان کے ہاں یہ کام چونکہ فوج کا ایک شعبہ کرتا ہے جیسے ہمارے ہاں این ایل سی اور ایف ڈبلیو او تعمیرات کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے مشہور کردیا کہ چین کا تو دعویٰ ہے کہ اس کی فوج اس کی سرحدوں کے باہر جاتی ہی نہیں، یہاں تو سات ہزار جوان کام کررہے ہیں۔ کسی نے تو یہ تک لکھ ڈالا کہ ایٹمی حملے سے بچاﺅ کے لئے سرنگیں بن رہی ہیں۔قصہ اب سمجھ آیا۔ پہلے اگر ایسے کسی منصوبے پر دھیرے دھیرے کام ہو رہا تھا تو اب اس میں تیزی آ سکتی ہے۔ پہلے اگر ہر موسم میں کھلی رہنے والی سڑک کا منصوبہ تھا تو اب ٹرین بھی ہو سکتی ہے۔

رہ گئی بلٹ ٹرین توتیرے منہ میں گھی شکر، مگر یہ کوئی دو دن کا کام نہیں ہے۔ اس کے لئے صرف انجن اور بوگیاں لا کر کھڑا کر دینا کافی نہیں، نیا ٹریک بچھانا پڑے گا۔ ہم تو آج تک پہلے ٹریک کی حفاظت نہیں کر پا رہے۔ بہرحال یہ کام ہماری زندگیوں میں ہو جا ئے تو اور کیا چاہیے۔ آخر موٹروے پر کیا کیا بات نہ ہوتی تھی۔ اس سے مگر وہ فوائد حاصل نہ کئے جا سکے جو اس کا مقصد تھا۔ کیا ہی اچھا ہو، یہاں صاحب اس پر بھی توجہ دیں۔ یہ انفراسٹرکچر صرف ٹہل لگانے کے لئے نہیں ہوا کرتا۔ کاش ہم نے اس کے گرد مجوزہ صنعتی زون بنا دیئے ہوتے اور اسے سچ مچ گوادر اور کراچی تک لے گئے ہوتے ۔ چلیے اب سہی۔ اس کے اور کتنے فوائد ہیں۔ اس کی تفصیل بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔ اب اگر بلٹ ٹرین سچ مچ چلتی ہے اور ہمارے ریلوے کا انجینئر ایک جدید عہد میں داخل ہوتا ہے تو اسے محض ایک مہنگا پراجیکٹ کے طور پر نہ لیا جائے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ اس سے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ سیاسی نہیں، معاشی اور اگر صاف کہوں تو تہذیبی اور سماجی بھی۔ جلدی کیجئے۔ ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.