سید منور حسن کی تنہائی

خورشید ندیم
خورشید ندیم
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

محمد مرسی کی حمایت میں سید منور حسن تنہا کھڑے ہیں کوئی اسلام پسند انکے شانہ بشانہ نہیں ہے۔ سب انہیں چھوڑ چکے، جیسے "النور" والے اخوان کو۔ جماعتِ اسلامی بدل گئی۔ تجدید واحیائےدین کی ایک تحریک سے جمعیت علمائے اسلام [ق] بن گئی۔ لیکن اہلِ مذہب وہیں پہ کھڑے ہیں جہاں 1960ء کی دہائی میں تھے۔

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو

سچ تو یہ ہے کہ انسان وہموں کے پیچھے بھاگتا ہے۔ خوابوں کا تعاقب کرتا ہے۔ اپنے احساسات کی دنیا آباد کیے رکھتا ہے۔ خواب کی چاہ میں اسے خیال نہیں ہوتا کہ زندگی کے تلخ حقائق خوابوں کی آب یاری کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ خواب بند آنکھوں سے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن تعبیر کا معاملہ یہ ہے کہ حقائق کی وادی میں نمو پاتی ہے۔ زمین سازگار ہو تو برگ و بار آتے ہیں۔ ورنہ دانا خاک میں مل جاتا ہے ، گل و گلزار نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی نے تو خواب بدل کر دیکھ لیا۔ پھر بھی کچھ نہیں ملا۔ دنیا اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلی۔

1960ء کی دہائی میں ، اخوان المسلمین صدر ناصر کا ہدف تھی۔ مرد اور خواتین عزیمت کی داستانیں لکھ رہے تھے تو کسی کو یاد ہے ہمارے اہلِ مذہب کہاں تھے؟ صدر ناصر کے ساتھ ۔ اخوانیوں کو وہ امریکی ایجنٹ کہتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے وہ آج بھی اخوان کے بارے میں خوش گمان نہیں ہیں۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ خادم حرمین شریفین اور امارات کے حکمران مرسی صاحب کے خلاف مصر کی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں؟ یقینا یہ ایک بڑی وجہ ہے لیکن شاید یہی واحد سبب نہیں۔ سیاست اور سماج کے باب میں ان گنت واہمے ہیں ، ہم جن کا پیچھا کر رہے ہیں۔

امت مسلمہ کا سیاسی تصور آج کہیں موجود نہیں ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی قومی ریاستیں ہیں۔ امت یا ملت کاروحانی تصور ہمیشہ زندہ رہا اور آج بھی ہے۔ لوگ روحانی اعتبار سےا یک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر۔ سیاست کا معاملہ البتہ اس سے مختلف ہے۔ محمد مرسی ایران کی مذمت کرتے ہیں اور بشار الاسد مرسی کی۔ مفادات کا معاملہ تو ایسا ہے کہ خیبر پختون خوا کے وزیر خزانہ "امامِ انقلاب" سراج الحق صاحب اپنے صوبے کے مفادات میں دوسرے صوبے کو شریک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، امت تو بہت دور کی بات ہے۔ مذہبی جماعتوں کے سیاسی مفادات متصادم ہوں تو جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ، ماضی قریب میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے مابین بیانات کا جوتبادلہ ہوچکا، صرف اسی پر ایک نظر ڈالنے سے بات واضح ہوجاتی ہے۔ اس پسِ منظر میں امت مسلمہ کا سیاسی تصور کیا محض واہمہ نہیں ہے؟

سعودی عرب کی مثال اگر پیش نظر رہے تو بات مزید واضح ہوجاتی ہے۔ اگر امت کو ایک روحانی وجود خیال کیا جائے تو اس مملکت کی خدمات بے پناہ ہیں۔ صرف قرآن مجید کی اشاعت اور تراجم کاکام ہی اتنا غیر معمولی ہے کہ اسے دیکھ کر بے اختیار سعودی حکمرانوں کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ دنیا بھر میں مساجد کے قیام اور ناداروں کی مدد میں شاید ہی کوئی ان کی ہم سری کرسکے۔ بایں ہمہ اگر ہم امت کو ایک سیاسی وجود سمجھیں تو پھر بہت سے سخن ہائے ناگفتنی زبان بندی پر مجبور کرتے ہیں۔ تازہ ترین "سخن" تو مصری فوج کے لیے سعودی عرب کی تائید و نصرت ہے۔ یہ فرق کیوں ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب اس کے سوا نہیں کہ سعودی عرب ، ایران ، شام ، مصر اور ترکی کی طرح ایک قومی ریاست ہے جس کے اپنے مفادات ہیں۔ وہ ان سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔ میں عرض کرچکا کہ سیاسی اعتبار سے جب آپ صوبے کے معاملات کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو پھر اپنے ہی ملک کا دوسرا صوبہ آپ کے لیے "اغیار" کی فہرست میں شمار ہوتا ہے۔

جب ہم اپنے روحانی اور سیاسی وجود میں فوق نہیں کرتے تو ہمارے تضادات ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ سید منور حسن یہ کہتے ہیں کہ وہ اب بھی محمد مرسی کو مصر کا صدر مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر ملکی معاملات میں مداخلت نہیں؟ سید صاحب مصر کے نہیں پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں یہ حق حاصل نہیں۔ اس کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی صدر بنتا ہے نہ معزول ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ امریکا کے ڈرون حملے ہماری خودمختاری یہ حملہ ہے تو کیا اس وقت ہماری خودمختاری مجروح نہیں ہوتی جب مختلف ممالک سے لوگ بندوق اٹھاتے اور بغیر کسی ویزے اور اجازت کے یہاں آکر نسیرا کرتے ہیں؟ "غیرملکی" کا فیصلہ آخر ہم کس بنیاد پر کرتے ہیں۔ قومی سلامتی کیا شے ہے؟ امریکی غیر ملکی کیوں ہیں؟ جس اصول کا اطلاق ہم امریکا پر کرتے ہیں، کیا ہم پر اسکا اطلاق نہیں ہوتا۔؟

اس سارے معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیے ۔ تبلیغی جماعت ایک عالمی تحریک ہے۔ اس میں بھارت اور پاکستان کے مسلمان شامل ہیں۔ ایران اور عراق کے شہری شامل ہیں ۔ امریکا اور وینزویلا کے باشندے شامل ہیں۔اس تحریک کی عالمگیریت کبھی متاثر نہیں ہوگی۔ لوگوں کی سیاسی شناخت ان کے مابین تعلق کے راستے میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ تبلیغی جماعت میں اجتماعیت کی اساس روحانی یا مذہبی ہے۔ حج کے موقع پر بھی ہمیں کوئی تفاوت دکھائی نہیں دیتا۔ ایک مرتبہ اہلِ ایران نے اپنی سیاسی عصبیت کو نمایاں کرنا چاہا تو ہماری تاریخ کا ایک الم ناک باب رقم ہوا۔ لوگوں کی رائے اس وقت یہی تھی کہ سیاست کو مذہبی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔ میں اسی کو امت کے سیاسی اور روحانی وجود کا فرق کہتا ہوں۔

جب یہ بات کہی جاتی ہے تو کچھ لوگ اسے مذہب اور سیاست کی جدائی قرار دیتے ہیں۔ یہ محض شبہ ہے۔ مذہب اور سیاست کی یک جائی کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں بھی مذہب کو راہنما مانا جائے۔ مذہب جن اخلاقی اقدار کا نمائندہ ہے ، سیاسی رویے میں انکا ظہور ہونا چاہیے۔ اس مفہوم میں مذہب سیاست سے جدا نہیں ہے۔ میں افراد اور اجتماعیت کے سیاسی مفادات کی علیحدگی کی بات کر رہا ہوں۔ اس حوالے سےایران اور عراق کے مفادات متصادم ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تودونوں سے مذہب کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو اللہ کے احکام کے خلاف ہو۔ وہ دوسروں پر ظلم نہ کریں اور حدود سے تجاوز نہ کریں۔ بطور مسلمان مجھے اپنے مذہب کی یہ ہدایت اس وقت بھی ہے جب میں کسی غیر مسلم سے برسرپیکار ہوں۔ میری کامیابی یہ نہیں کہ میں سیاسی اور عسکری اعتبار سے دشمن کو زیر کر لوں، میری کامیابی یہ ہے کہ دنیاوی فتح و شکست سے ماورا میرا اخلاقی وجود سلامت رہے۔ مجھ سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جو میرے پروردگار کی منشا کے خلاف ہو۔

اگر میں اخوانی ہوں اور اسلام کے لیے سرگرم ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ میں چند لاکھ افراد جمع کروں اور مسلح افواج کی مدد سے اسلامی ڈکٹیٹرشب قائم کر دوں کیوں کہ سیکولر ڈکٹیٹرشپ بھی اسے طریقے سے قائم ہوئی تھی۔ جو راستے دوسروں کیلئے کھلے ہیں وہ میرے لیے بند ہیں کیونکہ میں اپنے رب کے حضور جواب دہ ہوں۔ اگر میرے دین میں یہ طریقہ جائز ہوتا تو اللہ کے آخری رسول مکہ میں یہی کرتے، ہجرت نہ فرماتے۔ ذرا تصور کیجیے، اس صورت میں کس کی ہمت ہوتی کہ عمر ابن خطاب اور سیدنا حمزہ کے سامنے کھڑا ہوتا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دین و سیاست کی یک جائی کا علم اٹھانے والے سیاسی حکمت عملی میں دین کی راہنمائی کے زیادہ قائل نہیں ہوتے۔

نہیں معلوم سید منور حسن نے تنہائی میں اپنی تنہائی کے بارے میں کتنا سوچا ہے لیکن میں نے ضرور سوچا ہے۔ اپنا نتیجہ فکر میں نے بیان کر دیا۔ اگر مسلمانوں کے احیا کا خواب دیکھنے والے سنجیدگی سے اس معاملے پر غور کریں تو ممکن ہے وہ ایسا خواب دیکھنے لگیں جس کی تعبیر ممکن ہے۔ اس طرح مسلمان شاید اس ضیاع سے بچ جائیں جو آج انکا مقدر ہے۔


بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size