.

ترسیل زر کا نیا قومی ریکارڈ

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بینک دولت پاکستان کے مطابق محنت کی عالمی منڈیوں میں روز گار کمانے والے پاکستانی محنت کشوں نے مالی سال 2013ء کے دوران اپنے وطن عزیز میں چودہ ارب ڈالرز کی مالیت کے برابر ترسیل زر کی ہے جو اس شعبے میں ایک نیا قومی ریکارڈ ہے۔

سرکاری طور پر فراہم کئے گئے کوائف کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران باہر کے ملکوں سے اوورسیز پاکستانیوں نے 13 ارب بانوے کروڑ ڈالروں کی مالیت کی ترسیل زر قانونی اور باضابطہ ذرائع سے کی ہے جبکہ اس سے پچھلے مالی سال کے دوران یہ ترسیل زر تیرہ ارب ڈالروں کی مالیت سے کچھ زیادہ تھی۔ اگرچہ ترسیل زر میں یہ اضافہ گزشتہ سے پیوستہ مالی سال کے اضافے کے برابر نہیں تھا مگر ساڑھے پانچ فیصد اضافے کے ساتھ ترسیل زر میں یہ بڑھوتری سال 2012ء کی ترسیل زر سے 80 کروڑ ڈالروں کی مالیت کے برابر ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ مالی سال کی ترسیل زر میں اضافے کا تناسب ساڑھے سترہ فیصد سے بھی زیادہ تھا۔

مالی سال 2013ء کے دوران سب سے زیادہ ترسیل زر سعودی عرب میں روز گار کمانے والے پاکستانی محنت کشوں نے کی ہے جو محنت کی تمام عالمی منڈیوں سے آنے والی رقم ساڑھے 29 فیصد سے زیادہ ہے۔ غیر ممالک میں روز گار کمانے والے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران 30 جون تک چار ارب ڈالروں سے زیادہ کی ترسیل زر کی۔ ترسیل زر میں سب سے زیادہ اضافہ برطانیہ میں روز گار کمانے والے پاکستانی محنت کشوں نے کیا ہے جو اس سے پہلے مالی سال میں بھیجے گئے پیسوں سے ساڑھے 29 فیصد زیادہ بیان کیا جاتا ہے۔

برطانیہ سے یہ ترسیل زر ایک اعشاریہ چھ فیصد ارب ڈالروں کی مالیت سے زیادہ ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ملکوں سے ترسیل زر گزشتہ مالی سال کے دوران پہلے سے کم رہی۔ ان ملکوں سے پونے تین ارب ڈالروں کی مالیت کے برابر ترسیل زر رہی جو اس سے پہلے مالی سال کی ترسیل زر سے نو کروڑ 80 لاکھ ڈالر کم ہے۔ خلاف معمول امریکہ میں روز گار کمانے والے پاکستانی محنت کشوں نے بھی پاکستان میں دو ارب اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز کی مالیت کے برابر ترسیل زر کی جو گزشتہ سال کی ترسیل زر سے چودہ کروڑ 80لاکھ ڈالرز کی مالیت کے برابر کم رہی۔چودہ ارب ڈالروں کی صورت میں غیر ملکی کرنسی کی پاکستان میں آمد ان حالات میں بہت بڑی نعمت ثابت ہو سکتی ہے جبکہ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور غیر ملکی کرنسی کے قومی ذ خائر میں خطرناک حد تک کمی ہو رہی ہے اور حکمرانوں کو آئی ایم ایف سے قرضہ میں اضافہ کرنے کی درخواستوں کی حاجت ہو رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ مالی سال 2013ء کے پہلے گیارہ مہینوں میں جاری اکاؤنٹ کا خسارہ ایک ارب 95 کروڑ بیس لاکھ ڈالروں کا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیرونی ملکوں میں روز گار کمانے والے پاکستانی محنت کش اپنے عزیزوں، رشتہ داروں کی مالی مدد کے علاوہ پاکستان کو زرمبادلہ فراہم کرنے کے سلسلے میں کس قدر لائق تحسین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.