.

مرسی، نکسن اور مصری فوج

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جو لوگ مغربی جمہوریتوں میں محفوظ اور مامون طور پر رہ رہے ہیں، وہ مصر کی صورت حال کا بآسانی اندازہ نہیں کرسکتے ہیں۔ مطلق باتیں اور اس طرح کے بیانات کہ فوج نے جمہوری طور پر منتخب صدر کو ہٹا کر غلط کام کیا ہے، مکمل طور پر حقیقت سے لاتعلق ہیں۔

اس اصول سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ کسی قوم کی فوج کو سیاست میں دخل نہیں دینا چاہیے، لیکن مصر میں جو کچھ ہوا ہے، اس تناظر میں اس پر غور کرنے کے لیے بہت سی تفصیل موجود ہے۔ مثال کے طور پر آپ اس وقت کیا کریں گے جب آپ کا جمہوری طور پر منتخب صدر ہی غیر جمہوری طرزعمل اپنا لے؟

بہت سے اہلِ مغرب شاید اس سوال کا جواب نہ دے سکیں کیونکہ یہ ایک ایسی صورت حال ہے کہ وہ اس کے عادی نہیں ہیں۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جس سیاسی نظام میں رہ رہے ہیں، اس میں ہمیشہ یہ صلاحیت رہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو از خود ہی درست کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ جیسی ایک سکہ بند جمہوریت میں ایک ہوم سیکریٹری کو محض اس بنا پر مستعفی ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ اس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔ سنہ 2005ء میں یہ معاملہ ڈیوڈ بلنکٹ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ انھوں نے اپنی سابقہ محبوبہ کی آیا کی ویزا درخواست کو خلاف معمول بڑی تیزی سے نمٹا دیا تھا۔

سنجیدہ معاملات، مثال کے طور پرعدلیہ میں مداخلت کے بارے میں تو سوچنا بھی محال ہے۔ اگر کوئی وزیراعظم یا صدر اپنے حلف یا آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو نظام میں ان دونوں کے مواخذے کا طریق کار موجود ہے اور ان کا احتساب کیا جا سکتا ہے۔


نکسن کی مثال

سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کے برطرف مصری ہم منصب محمد مرسی میں شاید ہی کوئی قدر مشترک ہو، لیکن ان دونوں کی اپنے اپنے اقتدار کے دوران عدلیہ سے محاذ آرائی جاری رہی ہے اور اسی کے نتیجے میں دونوں کے اقتدار کا سورج گہنا گیا۔

ان دونوں صدور کو ان کے عہدوں سے ہٹانے میں بنیادی فرق یہ رہا ہے کہ امریکا میں ایک طویل عرصے سے قائم پیچیدہ سیاسی ڈھانچا موجود ہے، عدلیہ مضبوط ہے اور سینیٹ بھی صدر نکسن کو مستعفی ہونے پر مجبور کرسکتی تھی۔

مرسی نے گذشتہ سال 22 نومبر کو جاری کردہ متنازعہ فرمان کے ذریعے بنیادی طور پراختیارات پر ہاتھ مارنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے عدلیہ اور انتظامی اداروں کے درمیان حدود کا تعین نہیں کیا۔ اس کے ذریعے انھوں نے ایسے کسی بھی چینل کے دروازے ہی بند کردیے جس کے ذریعے ان کو چیلنج کیا جا سکتا تھا۔ بین الاقوامی جمہوری تنظیم فریڈم ہاؤس کا مرسی کے اس اقدام پر کہنا تھا کہ ''یہ مصر میں قانونی اتھارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا اور یہ مطلق العنان حکمرانی کی جانب ایک خطرناک قدم تھا''۔

دوسری جانب (سابق امریکی صدر) نکسن اور عدلیہ کے درمیان واٹر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے وقت تنازعہ پیدا ہوا تھا، دوبارہ صدر امریکا منتخب ہونے کے لیے انھوں نے انتخابی مہم کی جو ٹیم ترتیب دی، وہ غیر قانونی طور پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہوگئی تھی۔ نکسن نے واٹرگیٹ کے اسپیشل پراسیکیوٹر آرچی بالڈ کاکس کی اوول آفس میں تیار کردہ ٹیپس فراہم کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

نکسن کی جانب سے کاکس کو برطرف کرنے کی کوشش کوعدلیہ کے دو ارکان اٹارنی جنرل الیوٹ رچرڈسن اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ولیم رکل شاس نے ناکام بنا دیا تھا اور انھوں نے نکسن کے احکامات پر عمل درآمد کے بجائے مستعفی ہونے کو ترجیح دی تھی۔

مرسی نے اپنے مختصر دورحکومت میں عدلیہ کے ساتھ طویل محاذ آرائی کی۔ انھوں نے 22 نومبر کو پبلک پراسیکیوٹرعبدالمجید محمود کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا،اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مدت ملازمت کو چار سال تک محدود کردیا اور صدارتی اختیارات کو عدالتی جائزے سے ماورا قرار دے لیا۔انھوں نے مذکورہ تاریخ کو جاری کردہ اپنے صدارتی فرمان میں مصر کے نئے آئین پر ریفرینڈم کی تاریخ بھی مقرر کردی تھی۔

مرسی عدلیہ کی آزادی کو تحفظ مہیا کرنے والے ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہے تھے اور وہ انتظامی سربراہ کے طور پر اپنے دائرہ اختیار سے ماورا بھی اقدامات کر رہے تھے۔ انھوں نے محمود کی جگہ طلعت ابراہیم عبداللہ کو مصر کا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا تھا۔ مصر کی ایک عدالت نے مرسی کے اقدام کو غیر قانونی قراردیا اور صدارتی فرمان کی تنسیخ اورعبدالمجید محمود کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ مرسی نے پراسیکیوٹر جنرل کو برطرف کرکے نہ صرف اپنی حدود سے تجاوز کیا تھا بلکہ انھوں نے آئینی ریفرینڈم کے لیے تاریخ مقرر کرکے اور دستور ساز اسمبلی کو تحفظ مہیا کرکے قانونی اداروں کے علاوہ سپریم دستوری عدالت کو بھی چیلنج کردیا تھا۔

مرسی، رچرڈ نکسن کی طرح نہ صرف عدلیہ کو چیلنج کررہے تھے کیونکہ نکسن نے واٹر گیٹ کے اسپیشل پراسیکیوٹر کو برطرف کردیا تھا اور دستاویزات تک رسائی سے بھی انکار کر دیا تھا بلکہ وہ عدلیہ کی آزادی کو چیلنج کرنے والے ڈھانچے کو بھی چیلنج کررہے تھے اور انتظامی سربراہ کے طور پر اپنے دائرہ کار سے باہر اقدامات کررہے تھے۔

فرق کہاں واقع ہوا؟

ان دونوں لیڈروں کو ان کی عدلیہ اور حزب اختلاف اس نظر سے دیکھ رہے تھے کہ وہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کررہے تھے۔ نکسن کے مواخذے کے مسودے میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے آئینی فریضے سے انحراف کیا تھا جو ان سے پورے ایقان کے ساتھ قانون کی پاسداری کا تقاضا کرتا تھا۔

مرسی نے نہ صرف عدالتی عمل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں بلکہ انھوں نے آئین کو تبدیل کردیا اور اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا۔ حزب اختلاف کے اتحاد قومی محاذ آزادی کے لیڈر محمد البرادعی کے بہ قول:''مرسی کا حکم نامہ اور آئین سے متعلق ریفرینڈم پر اصرار ایک دھماکا، فنا کرنے والا اور لاقانونیت کا ماحول پیدا کرنے والا تھا جس سے ملک کی تباہی کی راہ ہموار ہوئی''۔

بین الاقوامی مبصرین نے بھی مرسی کے اقدامات کی مذمت کی تھی۔ ''انھوں نے وہی مطلق العنان طرز حکمرانی اختیار کرنے کی کوشش کی جس سے مصری عوام نے 2011ء میں سخت جدوجہد کے بعد چھٹکارا پایا تھا''۔ فریڈم ہاؤس کے صدر ڈیوڈ جے کریمر کا کہنا تھا۔

جہاں تک نکسن کا معاملہ ہے، انھوں نے جاسوسی کی اجازت دے کرغیر قانونی اقدام کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے تحقیقات کے عمل میں تعاون سے انکار کرکے عدلیہ کو زیر کرنے کی کوشش کی۔ مرسی کی جانب سے تنقید کی مزاحمت کی طرح واٹر گیٹ اسکینڈل کے دوران یہ اشارے مل رہے تھے کہ نکسن اقتدار سے چمٹیں رہیں گے۔ ان کے وکلاء یہ دلائل دے رہے تھے کہ انھیں ''انتظامی استثنیٰ'' حاصل ہے، اس لیے انھیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکتا۔

نکسن نے اپنی نومبر 1973ء کی مشہور پریس کانفرنس میں اپنے اقدامات پر کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا تھا اور نہ اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ کوئی ''کروک'' (جارح) نہیں ہیں۔ ان کے تقریر نویس رے پرائس نے صدر کے استعفے دینے سے انکار کے فیصلے کی صورت میں ایک تقریر بھی لکھ دی تھی۔

امریکی نظام میں نکسن اقتدار سے چمٹے نہیں رہ سکتے تھے۔ انھوں نے ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے مواخذے سے بچنے کے لیے غیر آئینی طور پر مستعفی ہونے کی پیش کش کی تھی۔ نکسن کے مستعفی ہونے کے لیے مواخذے کی دھمکی ہی کافی تھی کیونکہ سینیٹ ان کا مواخذہ کرنے والی تھی اور عدلیہ آزاد تھی۔

کاکس نے لکھا ہے کہ عدلیہ کے پاس صدر کے خلاف حکم ناموں کے نفاذ کے لیے کوئی اختیارات نہیں تھے لیکن مصر کے برعکس امریکا میں مضبوط جمہوریت قائم تھی جہاں عدلیہ کو سینیٹ کی قوت کی حمایت بھی حاصل تھی اور وہاں قانون کی حکمرانی کا گہرا احترام پایا جاتا تھا۔

امریکا میں نکسن کے معاملے کی طرح کی پہلے کوئی مثال نہیں تھی اور اسی طرح کا اس پر ردعمل ہوا تھا۔ غیر آئینی اقدام اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہرائے گئے صدر کو طاقت کا استعمال کیے بغیر بھی ہٹانا ممکن تھا کیونکہ وہاں کا قانونی اور سیاسی نظام مستحکم تھا۔ وہاں ایک طریق کار موجود تھا جس کی پیروی کی جا سکتی تھی۔

لیکن مصر میں ایسا کوئی طریق کار موجود نہیں تھا۔ مختلف اداروں کے درمیان الجھاؤ موجود تھا۔ مرسی نے اپنے اختیارات میں توسیع کرلی تھی، ان کے حامی ججوں کو ڈرا دھمکا رہے تھے۔ ایک سال کی نوزائیدہ جمہوریت لڑکھڑا رہی تھی۔ اس صورت حال میں فوج نے مداخلت کی لیکن امریکا میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ وہاں ایک سے زیادہ قانونی طریق کار موجود تھے۔ اس کے برعکس مصر میں ایک مرتبہ پھر عوام نے بغاوت کی اور فوج ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ آرمی کی صرف ایک ہی غلطی ہے کہ اس نے اپنے کیس کو پیش کرنے اور اس کی تشہیر کے لیے کوئی بہت زیادہ کوشش نہیں کی۔

مصر کی سیاسی حقیقت کے پیش نظر کچھ کیا جانا چاہیے۔ مصریوں کو آرمی یا عبوری حکومت کی خودکار طور پر حمایت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ملک کی انتظامیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے کوششوں کو بتدریج نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اسی لیے تو کاکس نے لکھا ہے کہ ''قانون یا ادارے ہر مسئلے کو حل نہیں کریں گے''۔

مصر میں عشروں کی آمریت نے عدلیہ کے اختیارات محدود کردیے ہیں اور بعد از انقلاب آنے والے حکومت بھی اپنے پیش رو کی طرح مروجہ طریق کار کے لیے کوئی احترام نہیں رکھتی تھی اور یہی بات زیادہ درست ہے۔ اس تمام صورت حال اور تباہ حال معیشت کے ہوتے ہوئے مصری عوام نے ایک مرتبہ پھر بغاوت کردی اور فوج ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی مگر معاملہ جو بھی ہو فوجی اسٹیبلشمنٹ ہی کو ملک میں چیک اور بیلنس کا واحد ضامن نہیں ہونا چاہیے اور نہ وہ ہوسکتی ہے۔

مصر کی نوزائیدہ جمہوریت کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ حقیقی طور پر اور فعال انداز میں اختیارات کی تقسیم کے ذریعے پورے خطے کے لیے ایک نمونے کے طور پر ابھرے۔ اختیارات کی ایسی تقسیم کہ جس میں تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.