.

الطاف بھائی کا حال اور مستقبل

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایم کیوایم پر ماضی میں بھی مشکل وقت آئے ہیں لیکن اب کی بار کی مشکل نہایت سنگین اور منفرد ہے۔ الطاف حسین کے لندن منتقلی کے بعد اگر مشکل آئی بھی تو صرف ایم کیوایم پر اور وہ بھی اس کے پاکستان چیپٹر پر آتی رہی لیکن اب کی بار الطاف حسین اور ایم کیوایم پر بیک وقت مشکل وقت آگیا ہے اور جو زلزلہ ہے‘ اس کے جھٹکے نائن زیرو اور ایم کیوایم کے لندن سیکرٹریٹ میں ایک ساتھ محسوس کئے جارہے ہیں ۔ عمران فاروق قتل کیس کی پہلے عمومی تحقیقات ہورہی تھیں ۔ پھر اس کا دائرہ متحدہ قومی موومنٹ تک محدود ہوگیا اور اب چند ہفتوں سے وہ دائرہ الطاف حسین اور ان کے قریبی لوگوں کے گرد تنگ ہوگیا ہے۔ ان کے دست راست اور قریبی عزیز افتخار حسین کی گرفتاری معمول کا واقعہ نہیں ۔ ان سے صرف تفتیش نہیں کی گئی بلکہ اب وہ ضمانت پر ہیں ۔

گزشتہ ہفتہ جب الطاف حسین استعفیٰ دے کر اور پھر اسے واپس لے رہے تھے تو میں لندن میں تھا اور وہاں قیام کے دوران اس معمے کو بھی سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ لندن کی پولیس اور عدالتی نظام کو سمجھنے والے وکلاء نے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ اور پاکستانی پولیس کا نظام یکسر مختلف ہے ۔ پاکستان میں پہلے کیس درج ہوتا ہے اور بعد میں تحقیقات کی جاتی ہیں جبکہ برطانیہ میں پہلے تحقیقات ہوتی ہیں اور یقین ہوجانے کے بعدہی ملزم کو چارج کیا جاتا ہے ۔ وہ سمجھارہے تھے کہ الطاف حسین صرف ایک پاکستانی جماعت کے قائد نہیں بلکہ برطانوی شہری بھی ہیں۔ یوں بغیر شواہد کے ان کے گھر پر چھاپہ نہیں مارا جا سکتا تھا۔ اس طرح کے کام کیلئے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو مجسٹریٹ سے اجازت لینی پڑتی ہے اور جب مجسٹریٹ نے چھاپے کی اجازت دی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کے پاس الطاف حسین کے خلاف اس قدر مواد پہلے سے موجود تھا کہ اس سے مجسٹریٹ مطمئن ہوگیا۔

دوسری طرف ان سے عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں تفتیش کے دوران بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات یا پھر گھر پر چھاپے میں لاکھوں پاؤنڈ کی نقدی کی برآمدگی سے منی لانڈرنگ کا کیس بھی بن گیا۔ یوں برطانوی نظام کو سمجھنے والے لوگوں کے نزدیک اب دونوں حوالوں سے ان کا بچنا مشکل نظر آتا ہے لیکن اس پیش رفت کے جواب میں ایم کیو ایم کی قیادت جس طرح کا ردعمل ظاہر کررہی ہے ‘ اس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو مزید پھنسارہی ہے ۔ شاید الطاف حسین برطانوی اور عالمی اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ دیرینہ قربت کی وجہ سے مطمئن تھے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ ان کے خلاف جارحانہ رویہ نہیں اپنائے گی لیکن چونکہ پاکستان کے برعکس اسکاٹ لینڈ یارڈ برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے اثر سے بڑی حد تک آزاد ہے ‘ اس لئے جب معاملہ ایک حد سے آگے بڑھا تو برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے بھی ہاتھ اٹھا لیا۔ دوسری طرف پچھلے پانچ سالوں میں اگر کسی موقع پر برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ یا کسی اور ادارے کی طرف سے الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا تو حکومت پاکستان یا زرداری صاحب ان کے دفاع میں سامنے آجاتے لیکن اب پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد وہ معاملہ بھی الٹ ہوگیا۔ اب اگر میاں نوازشریف برطانوی حکومت کو جلدی کرنے کا نہیں کہیں گے تو کم ازکم وہ الطاف حسین کیلئے کسی رعایت کے طلبگار بھی نہیں ہوسکتے ۔

ادھر سے برطانیہ کے اندر جارج گیلوئے اور لارڈ نذیر جیسے پارلیمنٹیرینز نے بھی اپنی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔ ایک بڑا فیکٹر تحریک انصاف کا بھی سامنے آیا۔ برطانیہ میں عمران خان کے چاہنے والے نہ صرف پاکستانیوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں بلکہ خود انگریزوں میں بھی وہ نہایت پاپولر ہیں ۔ ان لوگوں نے الطاف حسین کے خلاف اتنی بڑی تعداد میں ای میل بھیجے کہ ا سکاٹ لینڈ یارڈ کو مزید ای میل نہ بھیجنے کی اپیل کرنا پڑی ۔ اس تناظر میں برطانیہ کی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کیلئے الطاف حسین صاحب کو کوئی رعایت دلوانا ناممکن ہوگیا لیکن اس کی مجبوری کو سمجھنے کی بجائے الطاف حسین کو شاید یہ احساس ہوگیا کہ ان کے ساتھ بے وفائی کی گئی ۔ چنانچہ انہوں نے ایسے بیانات دیئے کہ جن کی وجہ سے اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی حکومت کی پوزیشن پر بھی حرف آگیا ۔ چنانچہ ا سکاٹ لینڈ یارڈ اپنی ساکھ کی بحالی کیلئے مزید متحرک ہوگئی جبکہ برطانوی حکومت کی طرف سے بھی ہمدردی کی بجائے اب غصے کے ردعمل کا خطرہ ہے ۔

ایک طرف اگر الطاف حسین کو برطانیہ کی حکومت سے بے وفائی کا شکوہ ہے تو دوسری طرف برطانوی حکومت بھی اس بنیاد پر ردعمل کی شکار ہوسکتی ہے کہ اس کے احسانات کا بدلہ الطاف حسین کی طرف سے الزامات کی شکل میں دیاجارہا ہے ۔ نہ جانے مذکورہ کیسوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے ‘ بیماری کا اثر ہے یا کوئی اور وجہ لیکن کچھ عرصہ سے الطاف حسین کے اقدامات اور فیصلے بھی ان کی روایتی ذہانت کے برعکس نظرآرہے ہیں ۔ پہلے انہوں نے رابطہ کمیٹی کے آدھے سے زیادہ ممبران کو کھڈے لائن لگا کر خود ہی دنیا کو یہ تاثر دیا کہ پارٹی پر ان کی گرفت کمزور ہوگئی ہے ۔ ان کے اور ان کے قریبی لوگوں کے گھروں پر چھاپے پڑے تو پاکستانی میڈیا خوف کی وجہ سے نام ظاہر نہیں کررہا تھا لیکن الطاف حسین نے استعفیٰ دیتے وقت خود ہی اعلان کردیا کہ ان کے اور ان کے قریبی لوگوں کے گھروں پر چھاپے پڑے ۔ انہوں نے جس انداز میں اپنے کیس کو بیان کیا اس کی وجہ سے پاکستان کے اندر بھی یہ پیغام ملا کہ وہ پھنس گئے ہیں ۔یوں میڈیا سے لے کر سیاستدانوں تک ‘ سب نے ان سے متعلق رویہ بدل دیا۔ انہوں نے جس طریقے سے استعفیٰ دیا اور پھر اسے واپس لے لیا تو اس کا بھی منفی اثر پڑا ۔ ایم کیو ایم کے قائدین جیسی بھی اور جتنی بھی وضاحتیں کریں ‘ پاکستان میں اب لوگ کسی بڑے خبر اور اس کے بعد ایم کیوایم میں ٹوٹ پھوٹ کے منتظر ہیں ۔ میری دانست میں ایم کیوایم کو مزید مشکل سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ الطاف حسین اپنی ذات کی قربانی دے کر قیادت سے خود کو الگ کردیں اور ایم کیوایم کو اپنی ذات کا یرغمال بنانے کی بجائے خاموشی کے ساتھ عدالتی اور قانونی محاذ پر اپنی جنگ لڑیں ۔ اگر وہ الزامات سے بری ہوگئے تو کسی بھی وقت دوبارہ قیادت سننبھال لیں گے لیکن اگر وہ خود مجرم قرار پائے بھی تو ایم کیوایم بچ جائے گی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم کیوایم کی تشکیل اور اس کی موجودہ حیثیت الطاف حسین کی ذات کی مرہون منت ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ آج ایم کیوایم الطاف حسین کا اور الطاف حسین ایم کیوایم کا نام ہے لیکن اگر متبادل قیادت کا فیصلہ ہوئے بغیر الطاف حسین کو کچھ ہوگیا تو پھر ایم کیوایم کا متحد رہنا مشکل ہوگا۔ اگر ایم کیوایم متحد رہے گی تو مستقبل میں ذاتی حوالوں سے بھی الطاف حسین کے کام آسکے گی لیکن اگر وہ انتشار کی شکار ہوگئی تو ذاتی حوالوں سے بھی الطاف حسین کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی ۔ اس لئے حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بڑے حادثے سے قبل الطاف حسین ایم کیوایم کی قیادت کیلئے اپنے جاں نشین یا جاں نشینوں کا تقرر کرلیں ۔ پاکستان کے اندر ایم کیوایم پر یوں بھی مشکل وقت آن پڑا ہے کہ مرکز اور صوبے میں الگ الگ جماعتوں کی حکومتیں قائم ہوگئی ہیں۔ اب اگر ایم کیوایم پی پی پی کے ساتھ جاتی ہے تو مرکزی حکومت اس کے ساتھ سختی کرے گی اور اگر مرکز میں نوازشریف کا ساتھ دیتی ہے تو پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اس کے ساتھ حساب برابر کرنے کو تیار بیٹھی ہے ۔

ادھر یوں دکھائی دیتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا میڈیا‘ مخالف سیاسی جماعتیں ہوں یا پھر لیاری گروپ جیسی تنظیمیں سب ایم کیوایم کے ساتھ ماضی کا حساب بے باق کرنے کی تیاری کررہی ہیں لیکن میرے نزدیک انتقامی سوچ کے تحت کوئی بھی قدم اٹھانا کراچی اور پاکستان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ کچھ بھی ہوجائے ایم کیوایم اب ایک سیاسی حقیقت ہے اور رہے گی ۔ وہ اب اگر مدافعانہ پوزیشن میں آکر ایک جمہوری اور سیاسی تنظیم بننا چاہتی ہے تو سب کا فرض ہے کہ اسے راستہ دیں اور اس کی مدد کریں ۔ بحیثیت تنظیم ایم کیوایم سراپا شر نہیں۔ وہ بعض خوبیوں کی حامل بھی ہے ۔ اس سے وابستہ ہر لیڈر بھتہ خور نہیں ۔ اس کے وابستگان کی صفوں میں بڑی تعداد میں مڈل کلاس ‘ پڑھے لکھے اور محب وطن لوگ بھی موجود ہیں ۔ اب اگر پورے ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائیگی تو اس کا نتیجہ ملک اور خود کراچی کیلئے نہایت بھیانک نکلے گا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.