.

حب الوطنی کا مقدس جنون

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی طربیہ ڈرامے کی مضحکہ خیزی اس اسلامی جمہوریہ میں حب الوطنی کے جنون اور اس کے نتیجے میں پڑنے والے دوروں کی گرد کوبھی نہیں پہنچ سکتی۔ اس ڈرامے کی موجودہ پیش کش ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے حوالے سے ہے۔ اس سے پیدا ہونے والا جذباتی اشتعال معتدی امراض کی طرح متعدد لوگوں، حلقوں اور گروہوں کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔میڈیا کے تمام نہیں تو زیادہ تر دھڑے اسی رو میں بہہ چکے ہیں۔

اس رپورٹ میں دو الفاظ قابل ِ غور ہیں…”نااہلی اور غفلت“۔ حب الوطنی کے جنون میں مبتلا افراد اپنی توپوں کا رخ ہر دکھائی دینے والی چیز کی طرف کئے ہوئے ہیں، تاہم آئی ایس آئی اور فوج کی اعلیٰ کمان اُن کا خصوصی ہدف ہیں…” یہ کیسے ہو سکتا تھا؟شیخ اسامہ کافی دیر سے روپوش تھا جبکہ امریکی کمانڈوز پہاڑوں کے اوپر سے سرحد کے اندر تک گھس آئے ، حملہ کیا اور واپس چلے گئے جبکہ ہماری فورسز کو ان کی کارروائی کا پتہ ہی نہ چلا۔“ بات تو سچ ہے، تاہم ندامت اور توہین محسوس کرنے میں بال برابر کا فرق ہوتا ہے۔ ہمارے غصے کا محور امریکی حملہ ہے، تاہم شیخ صاحب کی ایبٹ آباد میں موجودگی پر ہمیں کوئی دھچکا نہیں لگا ہے، حالانکہ ان کی ایبٹ آباد میں موجودگی دراصل باعث ندامت تھی، تاہم، اگر ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے تو پھر امریکی حملے نے کس قومی وقار کی دھجیاں بکھیر دی ہیں؟

سقوط ڈھاکہ توہین آمیزتھا لیکن ہم نہایت سبک رفتاری ، بلکہ چابک دستی سے اس پر قابو پا گئے ۔ کارگل مہم جوئی توہین آمیز تھی کیونکہ ہم نے پہل کی، شکست کھائی اور ہم پر ”سرحد پارمداخلت “ کا داغ لگ گیا، تاہم ، جیسا کہ اردو محاورہ ہے، ایک دو ٹانگیں ٹوٹنے سے ہزار پا لنگڑا نہیں ہوجاتا، ہم آگے بڑھ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کمیشن نے اچھا کام کیا ہے اور ایبٹ آباد کے واقعہ سے حاصل ہونے والے سبق، جو ہمیں سیکھنا چاہئے، کی نشاندہی کردی ہے، لیکن جس دوران ہم اشتعال سے اپنے بال نوچ رہے ہیں اورمیڈیا کے کچھ سدابہار معمر دانشوروں کا چیخ چیخ کر گلہ رندھ گیا ہے، ہم تصویرکے اصل پہلو سے اغماض برت رہے ہیں۔

اُسامہ بن لادن کا خاتمہ امریکیوں کے لئے اہم ترین مسئلہ تھا اور وہ ہمہ وقت اُس کے گرم تعاقب میں تھے حالانکہ بہت عرصے سے اُس انتہائی مطلوب شخص کاکوئی سرا غ نہیں مل پایا تھا، تاہم اسامہ کی تلاش ہماری ترجیح نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے دفاعی ادارے کسی قسم کا دہرا کھیل کھیل رہے تھے بلکہ اگر اپنی قوم کی ذہنیت اور افغانستان میں امریکی کارروائی کو مدِ نظر رکھیں توبہت سے پاکستانی بن لادن کو ایک مجرم کی بجائے ایک ہیرو سمجھتے تھے۔ اسی طرح بہت سے لوگ امریکیوں کو دوست کی بجائے دشمن گردانتے تھے۔ تاہم یہ سوچ بھی بن لادن کی تلاش میں ہماری طرف سے برتی جانے والی سستی کا باعث نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری فوج اور آئی ایس آئی کچھ اور معاملات میں مصروف تھے اور وہ ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے بن لادن کی تلاش میں پوری توانائیاں صرف نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اگراس کیس کاجنرل (ر) مشرف پر ہونے والے دونوں حملوں سے موازنہ کریں تویہ بات علم میں آئے گی کہ اُن دونوں حملوں کے سراغ بھی نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے پکڑے گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی سب جانفشانی سے اس کیس کی تحقیقات کررہے تھے۔ اُس وقت جنرل کیانی، جو کور کمانڈر تھے، نے نہایت توجہ سے اس کاوش پر نظر رکھی۔ یہ بات قابل ِ فہم تھی کیونکہ اُس کیس میں فوج کی دلچسپی تھی، اس لئے دفاعی اداروں نے مربوط طریقے سے کارروائی کی اور مجرموں کو ڈھونڈھ نکالا۔

نائن الیون کوہونے والی دہشت گردی کی کارروائی ، جس میں ورلڈ ٹریڈسنٹر کے ٹاورز زمیں بوس ہوگئے، نے امریکیوں کو بن لادن، ایمن الظواہری اور خالد شیخ (جو 9/11 کے واقعات کا ماسٹر مائنڈ تھا) کے حوالے سے شدید ترین دفاعی اور جذباتی اشتعال میں اس لئے مبتلا کردیا کیونکہ 1812ء میں جب برطانوی دستوں نے واشنگٹن پر حملہ کیا تھا، کے بعد سے امریکی سرزمین پربراہ راست حملہ نہیں ہوا تھا۔ تاہم اس کارروائی کے حوالے سے ہمارے جذبات یقیناً ایسے نہ تھے، اور اگرچہ ہم نے طالبان القاعدہ کے ہاتھوں اُس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں اور بربادی برداشت کی ہے جو9/11 کے نتیجے میں ہوئی تھی، ہماری سو چ تبدیل ہوناہنوز باقی ہے… اس کے امکانات معدوم ہیں۔ ایک اور بات بھی فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ کسی شخص کے لئے پاکستان آنا اور انسانوں کی بھیڑ میں گم ہوجانا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ کے تمام چوٹی کے قائدین، جیسا کہ ابو زبیدہ، ال لیبی، رمزی اور ان سب سے اہم خالد شیخ، کی گرفتاری پاکستان سے ہی عمل میں آئی تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان القاعدہ کے نظریات کے لئے نرم گوشہ رکھتا تھا ، بلکہ یہ 80ء کی دہائی میں ہونے والے افغان جہاد میں ہماری شمولیت کا ثمر تھا۔جس وقت ہم اُس جہاد کا بیس ، بلکہ ہیڈ کوارٹر بنے ہوئے تھے، یہ سوچ ہمارے ذہن میں نہیں تھی کہ وہ وقت آنے والا ہے جب ہم افغانستان، بلکہ اس سے بھی زیادہ، کی طرح اس جہاد کی سرزمین بن جائیں گے۔ نہ صرف القاعد ہ کی اعلیٰ قیادت پاکستان آگئی بلکہ دیگر طالبان گروہ، جیسا کہ حقانی نیٹ ورک اور غیر ملکی جنگجو، شمالی وزیرستان میں مقیم ہوگئے۔ اس پس ِ منظر میں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اتنی حیران کن نہیں جتنی نظر آتی ہے۔

جب لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا گیا (خوش قسمتی سے مہمان کھلاڑی محفوظ رہے ) تو تمام حملہ آور لاہور کی گنجان آبادی میں روپوش ہوگئے۔ کیا اُن میں سے کسی کو گرفتار کیا جا سکا ؟ کم از کم میرے علم میں تو نہیں۔ سلمان تاثیر کے بیٹے کو لاہور کے قلب سے نہایت آسانی سے اغوا کر لیا گیا، اسی طرح سابق وزیر ِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو بھی الیکشن جلسے میں خطاب کے تھوڑی دیر بعد اغوا کر لیا گیا(کیا کسی کو ان کی موجودگی کا علم ہے؟)کیا ہم جانتے ہیں بلوچستان اور کراچی میں کیا ہورہا ہے؟یہ فتنہ فساد پوری دنیا میں اس اسلامی جمہوریہ کے علاوہ کہیں اور نہیں ہے۔ کیا اس کی وجہ انٹیلی جنس کی خوفناک ناکامی نہیں؟تاہم اگر ہم اسے ایک مخصوص زاوئیے سے دیکھیں تو ایسی ہی ناکامی امریکیوں کو بھی ہوئی تھی جب وہ 9/11 کو ہونے والی تباہی سے پہلے اس کا سراغ لگانے میں ناکام رہے۔ اُ س وقت سی آئی اے کے ایک سیکشن میں اسامہ بن لادن اور اس کی متوقع حملے کے خدشے کے بارے میں کچھ باتیں کی جاتی تھیں۔ 2001 کے موسم ِ بہار کو صدر بش کو القاعدہ کے بارے میں ایک یا دومرتبہ آگاہ کیا گیا لیکن امریکی صدر نے اس میں کوئی دلچسپی نہ لی اور کہا کہ اس طرح کی مکھیوں کومارنا اُنہیں زیب نہیں دیتا ہے۔ کنڈولیزا رائس ، جیسا کہ اُن کی تعلیم اور سوچ کا تقاضا تھا، کی آنکھیں ماسکو پر مرکوز تھیں، بالکل جس طرح ہمارے دفاعی اداروں کو بھارتی خطرے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ اُ س وقت امریکی قیادت سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ امریکی سرزمین پر کوہ ہندوکش سے بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔

سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکی بھی غرور میں مبتلا ہو چکے تھے۔ یاد کریں کارل رو نے نیویارک ٹائمز کے ایک نمائندے سے کس رعونت آمیز لہجے میں بات کی تھی․․․”اب ہم ایک عالمی سلطنت ہیں اور ہم جو بھی کریں، ہم اس کا جواز تخلیق کر سکتے ہیں۔ ہم تاریخ ساز ہیں اور آپ صحافی لوگ بس اس بات کا جائزہ لینے کے لئے رہ جاؤگے کہ ہم کیا کرتے ہیں“، اگرچہ مجھے یہ کہنا اچھا نہیں لگ رہا ، لیکن امریکی غرور کا بت بن لادن اور القاعدہ نے ہی پاش پاش کیا ہے۔ 9/11 کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کی سوچ اور امریکی سرکاری موڈ اس قدر پر غرور اور تکبر آمیز تھا کہ آج بارہ سال بعد اُن کے بیانات ناقابل ِ یقین لگتے ہیں۔ ڈک چینی کا ”ایک فیصد خطرے کا فارمولہ“ یہ تھا کہ اگر امریکہ کو کہیں سے حملے کا ایک فیصد خطرہ بھی محسوس ہواتو اُس کے پاس طاقت کے استعمال سمیت کسی بھی کارروائی کا حق ہے۔ ان سے پہلے دنیا کی کسی عالمی طاقت نے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔

اب جبکہ کہ اس پُرغرور غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور وہ بڑھکیں منتوں میں بدل چکی ہیں تو اس کی تین بڑی وجوہات ہیں: عراق میں امریکی قبضے کے خلاف سنّی مزاحمت، افغانستان میں طالبان کی مزاحمت اور ایران کا امریکیوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہونا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 9/11 کے بعد امریکہ انتہا پسندی کو ختم کر نا چاہتا تھا لیکن آج ایک عشرے بعد انتہاپسندی کی جڑیں پھیل چکی ہیں اور طالبان اور القاعدہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ شام میں جاری اور مصر میں متوقع خانہ جنگی وہ صورت ِ حال پیش کر رہی ہے جسے چیئرمین ماؤ نے پسند کیا تھا… ”دنیا میں ہنگامہ بپا ہے، چنانچہ صورتحال نہایت شاندار ہے۔“چنانچہ ان ممالک میں بپا ہونیوالی ہنگامہ آرائی القاعدہ اور اسلامی انتہا پسند تنظیموں کے لئے مناسب ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ 9/11 صرف دہشت گردی کی ایک کارروائی نہیں بلکہ القاعدہ کی طرف سے لگائی ہوئی ایک ایسی کاری ضرب اور فیصلہ کن گھاؤ تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف دنیا بھر میں فتنہ و فساد پھیل گیا بلکہ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد امریکہ کو حاصل ہونے والی بالا دستی اور دفاعی طور پر غیر متنازعہ طاقت کاا سٹیٹس بھی زوال پذیر ہوگیا۔ امریکہ ابھی بھی ایک عالمی طاقت ہے لیکن اس کو حقائق کا ادراک ہو چکا ہے اور اس نے زیادہ سنجیدہ لہجہ اپنا لیا ہے۔ اب وہ افغانستان سے انخلا کیلئے بے چین ہے اوراس کیلئے وہ اس طالبان سے یہ بات کرنے کیلئے بھی تیار ہے کہ 2014 کے بعد اُن کا کوئی دستہ افغانستان میں نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ ”سنجیدگی “کا مظاہر ہ اور کیا ہوگا؟اس وقت بن لادن کی روح، جہاں بھی ہے، قہقہے لگا رہی ہوگی جبکہ ہمارے فرشتو ں کو بھی علم نہیں کہ ہمارے مقدر میں اب کیا ہے۔ کوہ ہندوکش کے اُس پار، جب روانہ ہوتے ہوئے فوجی دستوں کے بوٹوں کی دھمک مدہم ہوتی جائے گی اور طالبان کی فتح کے نقارے گونجنے لگیں گے تو اسکے ساتھ ہی ہماری رنگ برنگی تاریخ کا ایک اور باب شروع ہوجائے گا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.