زرداری صاحب اور واپسی

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

صدر آصف علی زرداری ،تین ہفتے کے بیرونی دورے پہ دبئی روانہ ہو گئے۔ وہاں سے وہ لندن چلے جائیں گے۔ عین ممکن ہے غروب آفتاب کی دل فگار ساعتوں میں وہ کسی اور دورے کا امکان بھی تراش لیں۔ اس وقت میرے پاس اعداد و شمار نہیں لیکن میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سب سے زیادہ بیرونی دورے کرنے والے پاکستانی سربراہ ریاست ہیں۔ ان دوروں پہ کتنا قومی خزانہ صرف ہوا ،ان کے نتیجے میں کتنے ثمرات شیریں پاکستان کی جھولی میں پڑے، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ پارلیمینٹ کے کسی نہ کسی رکن کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہئے۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والا کوئی صدر بھی ان کا یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکے گا چاہے وہ سیرو سیاحت کا شوق رکھنے والا کیساہی جہاں گشت کیوں نہ ہو۔

مجھے یاد ہے صدر رفیق تارڑ ساڑھے تین سالہ عرصہ صدارت میں صرف ترکی اور مراکش کے مختصر دوروں پہ گئے تھے۔ ترکی کی سالگرہ کی تقریبات اور شاہ مراکش کے انتقال پر نماز جنازہ میں شرکت کے لئے۔ پارلیمانی نظام میں صدر کا کردار محض آرائشی و زیبائشی ہوتا ہے۔ اس لئے بھارت سمیت دیگر پارلیمانی ممالک کا مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا ۔ اگر اس طرح کے تحقیقی جائزوں میں مہارت رکھنے والے ہمارے رفیق کار صابر شاہ کچھ وقت نکال سکیں تو شاید یہ حقیقت آشکار ہو جائے کہ جنابزرداری محض قومی ہی نہیں، بین الاقوامی اور عالمی ریکارڈ بھی قائم کر چکے ہیں۔

اب ان کے اقتدار کا آفتاب جہاں تاب مغرب کے افق سے آ لگا ہے۔ حکومت نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے ذریعے الیکشن کمیشن سے پوچھ لیا ہے کہ نئے صدارتی انتخاب کا شیڈول کب دیا جا رہا ہے۔ آئین کے مطابق 8/اگست سے پہلے پہلے ہر حال میں شیڈول کا اعلان ہو جانا چاہئے۔ سو جب صدر عالی مقام وطن لوٹیں گے تو نئے صدارتی انتخاب کا ناقوس بج چکا ہو گا اگر انہوں نے کچھ دن اور مغرب کی خنک فضاؤں میں گزارنے کا فیصلہ کر لیا تو عین ممکن ہے ان کی واپسی تلک ،نئے صدر کا انتخاب ہو چکا ہو ۔

زرداری صاحب کا عہد کئی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اپنے آپ کو حقیقی وارث قرار دیتے ہوئے انہوں نے پارٹی کی میراث اپنے قبضے میں لے لی۔پارلیمانی، جمہوری اور خود پی پی پی کی سیاسی روایت کے پیش نظر انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ملتان کے سید زادے کا انتخاب کیا ۔ بہت سے لوگوں کا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا کہ پنجاب سے وزیر اعظم لے کر زرداری صاحب نے سندھی صدر کی راہ ہموار کر لی ہے۔ پرویز مشرف اس زعم میں رہا کہ این آر او کی روح کے مطابق اس کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں لیکن زرداری صاحب ایک فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے وار آن ٹیرر کے حوالے سے امریکہ کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا اور چپکے سے صدارت کا پروانہ حاصل کر لیا فوج نے بھی مزاحمت نہ کی ۔ اپوزیشن کے دل میں مشرف کے بارے میں کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔ سو دیکھتے دیکھتے ڈکٹیٹر کے سارے مور پنکھ جھڑ گئے۔ بے بال و پر کا زادہ راہ لئے وہ ملک سے باہر چلا گیا۔ زرداری صاحب کو منصب صدارت تک رسائی میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔

ایک روایت شکنی کے بعد ان کی راہیں آسان ہو گئیں۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کے باوجود پارٹی کی سربراہی نہ چھوڑی ان کے عہد میں پہلی بار ایوان صدر، ایک سیاسی جماعت کا سیکرٹریٹ بن کر رہ گیا انہوں نے منصب صدارت کے آئینی تقاضوں ہی سے روگردانی نہیں کی، اس کے عمومی تقدس کو بھی تاراج کر دیا۔ کسی لمحے انہوں نے ”بابائے قوم“ یعنی ”فادر آف دی نیشن“ ہونے کا ثبوت نہ دیا۔ وہ سیاسی اجتماعات میں تقریریں کرتے، اپنے حریفوں پر کرخت حملے کرتے اور اپنے پارٹی ایجنڈے کی پرورش کرتے رہے۔ مشرف عہد کی سترھویں ترمیم کو بہرحال ختم ہونا تھا لیکن صدر زرداری اس کار خیر میں تاخیر کرتے چلے گئے۔ شدید دباؤ کے زیر اثر کوئی ایک سال بعد اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے چیف ایگزیکٹو کے غضب شدہ اختیارات بحال کئے گئے تو پی پی پی اور خود صدر زرداری نے بھی اسے اپنے سر کی کلغی بنا لیا۔ معتوب ججوں کی بحالی کے تحریر ی عہد ناموں کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا اور کامل ایک برس تک مشرف ہی کے انداز میں ان کی مزاحمت کرتے رہے۔

ابھی وہ صدر نہیں بنے تھے جب ایک دن انہوں نے مجھے گپ شپ کے لئے اپنے ایف8والے گھر میں بلایا ۔معاہدہ بھوربن ہو چکا تھا لیکن زرداری صاحب کے بیانات سے انحراف کی بو آنے لگی تھی۔ میں نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا ” آصف بھائی ایسا نہ کریں ۔ اپنے عہد نامے کے مطابق جج بحال کر دیں۔ آپ کو اس کا بڑا فائدہ ہو گا “انہوں نے اپنا مخصوص قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ”تم کالم اچھا لکھ سکتے ہو۔ سیاست کو میں اچھا سمجھتا ہوں، چائے پیو “۔ میں نے کہا آصف بھائی یقیناً سیاست کو مجھ سے کہیں اچھا سمجھتے ہیں لیکن کسی ڈائری پر نوٹ کر لیجئے یہ جج ایک نہ ایک دن بحال ہو جائیں گے، چاہے وہ ایک ہفتے میں ہوں یا ایک ماہ بعد یا ایک سال بعد“ انہوں نے ایک اور قہقہہ لگایا اور کہنے لگے “ ڈائری کی ضرورت نہیں، دل پہ لکھ دیا ۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد جج بحال ہو گئے۔ تب زرداری صاحب صدر بن چکے تھے ،ججوں کی بحالی کا فرمان ان کے دستخطوں سے جاری ہوا ۔ کوئی ڈیڑھ دو ماہ بعد ان کا فون آیا ”یار اب ملتے ہی نہیں، کل آؤ۔ لنچ میرے ساتھ کرو“ اگلے دن ان کی گاڑی آ گئی۔ صدر کے دفتر میں چھوٹی سی میز پر سادہ سے لنچ میں بس ہم دو آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ججوں کا ذکر آیا تو میں نے کہا ”جناب صدر وہ دن یاد ہے جب میں نے کہا تھا کہ یہ جج ایک نہ ایک دن بحال ہو جائیں گے اور کریڈٹ کوئی اور لے جائے گا “۔ بولے ”ہاں اچھی طرح یاد ہے“۔ میں نے ازراہ مذاق کہا ” تو میں کالم بھی اچھا لکھتا ہوں اور سیاست دان بھی کم از کم آپ سے اچھا ہوں“۔انہوں نے باریک باریک کٹی بھنڈی کا لقمہ ہاتھ میں لئے اپنا مخصوص قہقہہ لگایا اور بات بدل دی ۔

زرداری صاحب کا آشوب یہی رہا کہ وہ خود کو انتہائی اعلیٰ پائے کا سیاست دان ،مدبر اور شاطر سمجھتے رہے۔ وہ اپنی وقتی کامیابیوں کو اپنے ہنر سیاست کا اعجاز خیال کرتے رہے۔ ان کی نظر صرف ”پانچ سال“ کے ہدف پہ رہی جس کے لئے وہ روزمرہ کی بنیادوں پر سیاسی چالیں تراشتے رہے۔ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم جیسے قبیلوں کو انہوں نے صرف نمبر گیم کے لئے اپنے ساتھ جوڑے رکھا اور ان کی کھرلیوں میں ان کا من پسند چارہ ڈالتے رہے۔ امریکہ کو ہمنوا بنائے رکھنے کے لئے انہوں نے مشرف کو بھی مات کر دیا اور ”وار آن ٹیرر“ کا شیش ناگ پھنکارتا رہا۔

فوج کی آسودگی کے لئے انہوں نے مدت ملازمت میں توسیع کا حربہ اختیار کیا اوربیشتر معاملات فوج کی صوابدید پر چھوڑ دیئے۔ کرپشن کو انہوں نے ایک آرٹ کا درجہ دیتے ہوئے سیاسی کلچر میں ڈھال دیا۔ ہر بدعنوان شخص کو ان کا سائبان شفقت میسر آ گیا۔ دہشت گرد عناصر سے چھیڑ چھاڑ کو انہوں نے اپنی ترجیحات سے خارج کر دیا۔ اپنے طے کردہ اہداف و مقاصد کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے لہو کو بھی فراموش کر دیا جو ان کے اپنے عارض اقتدار کا غازہ بنا تھا۔ پانچ سال تو بہرحال پورے ہونا تھے سو وقت کی کشتی کنارے آن لگی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ جناب زرداری کے نامہٴ اعمال میں کوئی ایک کارنامہ بھی ایسا نہیں جسے وہ اپنے سینے کا تمغہ بنا سکیں۔

ناکامی و نامرادی کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی کو ایک ایسی گہری کھائی میں پھینک کر رخصت ہو رہے ہیں جہاں سے نکلنے کے لئے کوئی معجزہ ہی درکار ہو گا ۔میں نے یہ کالم کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے جہاز میں بیٹھ کر لکھا۔ سندھ کے ایک کہنہ مشق بیورو کریٹ میرے قریب بیٹھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ زرداری صاحب اب چلے گئے، واپس نہیں آئیں گے“ میرا خیال یہ ہے کہ وہ بیرونی دورے سے ضرور واپس آئیں گے…لیکن سیاست میں واپسی اور ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی شاید اب خواب ہی رہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں