مصر میں بغاوت کیوں۔۔۔؟

کاشف بشیر خان
کاشف بشیر خان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ افرادی قوت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے تناظر میں اسلامی ممالک اس پوزیشن میں تھے ….ہیں… اور رہیں گے کہ وہ جب چاہیں امریکہ اور یورپ کو اپنی مرضی کے فیصلے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیں۔لیکن اتحاد کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کو دنیا میں وہ عزت اور شہرت نہیں مل سکی جو ان کا مقدر تھا یا جس کے وہ حقدار تھے۔ اس کے باوجود امریکہ اور یورپ مسلمانوں سے خوفزدہ تھا ….ہے ….اور مستقبل میں بھی خوفزدہ رہے گا۔کیونکہ مسلم امہ کو صرف ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ان سب ممالک کو اکٹھا رکھ سکے اور متحرک کر سکے۔ماضی میں یہ بیڑا پاکستان کے ذولفقار علی بھٹو نے اٹھایا تھا لیکن استعمار اور امریکہ کے ایجنٹوں نے ان کا خاتمہ کروا کر مسلم امہ کو ریزہ ریزہ کر دیا۔

سنہ 2010 میں تیونس سے شروع ہونے والا ARAB SPRING مصر لیبیا، یمن، شام اور کویت سے ہوتے ہوئے دوبارہ مصر میں آچکا ہے یا لایا جا چکا ہے۔دراصل ان سب کے تانے بانے 2010ء کے کرغستان انقلاب سے ملتے ہیں ۔یہ انقلاب بھی معاشی نا ہمواریوں اور ایندھن کے ریٹ بڑھانے کے تناظرمیں آیا تھا۔ملک میں جاری کرپشن کا جو نتیجہ انقلاب کی صورت میں نکلا تھا اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام عرب کو اپنے شکنجہ میں لے لیا ۔مصر میں جو کچھ پچھلے دنوں ہوا ہے وہ مصر میں دوسال میں دوسری مرتبہ ہوا ہے اور اس میں حصہ لینے والے وہ ہی لوگ ہیں جو جمال عبدالناصر کے دور سے حکومت پر قا بض رہے ہیں ۔پاکستان اور مصر میں تقریباًایک ہی وقت میں ایوب خان اور جمال عبدالناصر نے حکومتوں پر قبضہ کر کے اپنی اپنی غاصبانہ حکومتیں شروع کی تھیں۔جمال عبدالناصر نے ایک کام ایسا کیا تھا جس نے استعمار اور امریکہ کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ پین عرب اور عرب لیگ جیسے معاہدے ۔ماضی میں مصر میں عوام کی مرضی کے بغیر فیصلے کیے جاتے رہے جس کی وجہ سے مصر کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا تھا ۔ مصر ی عوام اپنے آپ کو عرب کہلانے کے کبھی بھی شوقین نہیں رہے ہیں۔ ماضی میں نہر سویز کے تنازع کے تناظر میں شام اور مصر کی متحدہ ” United Arab Republic “کی حیثیت سے ایک” متحدہ ریپبلک” کی بنیاد رکھی تھی لیکن یہ ایک فیڈریشن ہر گز نہیں تھی۔اس کے بعد1958ء میں مصر ،عراق اور شام نے دوبارہ United Arab Federation کے نام سے الحاق کر لیا اور اس کے بعد مصر عرب اتحاد کا ترجمان بن گیا اور مصر کا نام عرب ریپبلک آف مصر رکھ دیا گیا۔عربوں کی آپسی چپقلش نے 1967ء میں اسرائیل کو ہمت دی کہ وہ عربوں کو عبرتناک شکست دے سکے۔اس جنگ میں عرب اتحاد کچھ بھی نہ کر سکا اور 70 کی دہائی میں عرب اتحاد کی کوششیں عملی طور پر صفر ہو چکی تھیں گو کہ تمام عرب مسلمان ممالک کی خواہش تھی کہ استعمار ،یورپ اور امریکہ کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہنے کے لئے عرب مسلمانوں کو اکٹھا ہونا چائیے ۔لیکن متحدہ عرب کا خواب پورا نہ ہو سکا ۔ 70 کی دہائی میں کرنل قذافی کی آمد کے بعد اس پر دوبارہ کوششں ہوئی لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔

مراکش کے شہر رباط میں 24 ستمبر1969ء میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا جب انعقاد ہوا توپاکستان کی نمائندگی اس وقت کے صدر پاکستان جنرل یحیے خان کر رہے تھے ۔ان کو بریفنگ د ی گئی کہ بھارت کے مسلمانوں کا ایک وفد بھی کانفرنس میں شرکت کی ٖغرض سے آرہا ہے اور اس کی قیادت وہاں کے مسلمان وزیر فخرالدین احمد کریں گے۔جب کانفرنس کا آغاز ہوا تو صدر پاکستان کو بتایا گیا کہ بھارتی وفد کسی وجہ سے بر وقت کانفرنس میں پہنچ نہیں سکا اس لئے بھارتی سفیر گوریجن سنگھ بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں،اس پر جنرل یحےٰی خان مشتعل ہو گئے اور اسی وقت شاہ فیصل ، شاہ حسین اور شاہ ایران کی موجودگی میں کہا کہ ” جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون میں رنگے ہوں میں ان کی موجودگی میں اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتا” یہ کہہ کر انہوں نے کانفرنس روم سے باہر کی راہ لی۔ اس پر تمام دنیا میں آناًفاناً یہ خبر پھیل گئی کہ پاکستان کے صدر نے اسلامی سربراہی کانفرنس کا بایکاٹ کر دیا ہے ۔ اور بہت سے مسلم سربراہان مملکت پاکستان کے صدر کومنانے کے لئے کانفرنس روم سے باہر آگئے اور کئی گھنٹے کوششں ہوتی رہیں لیکن جنرل یحیے خان اپنے اصولی موقف پر اکڑے رہے۔ کافی دیر کی بحث و تمحیص کے بعد جنرل یحےٰی خان اور شاہ فیصل نے مراکش کے فرمانروا کو کہا کہ بھارت کے سفیر کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک سے نکلنے کا فوری حکم دیا جائے۔گوریجن سنگھ کو فوری طور پر ملک سے نکلنے کا حکم دیا گیا ۔اس کے بعد جنرل یحیے خان نے کشمیراور بھارت میں مسلمانوں کے مسائل پر ایسی جاندار تقریر کی تھی کہ جس نے مسلم امہ کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔اس کے بعد ہی شاہ فیصل نے کشمیر اور فلسطین پر کھل کر اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

صدر مرسی کا فوج کے ہاتھوں معزول ہونا مسلم امہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔شاہ فیصل کو اس کے بھتیجے نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے شہید نہیں کیا تھا۔حواری بومدین کی موت بیماری سے نہیں بلکہ سلو پوائزننگ سے ہوئی تھی۔ یوگنڈا کے عدی امین کو اس کے عوام نے نہیں بلکہ امریکہ مخالف بیانات اور حرکتوں نے معزول کروایا تھا۔ایران کے شاہ رضا شاہ پہلوی کو اس کے عوام سے زیادہ امریکہ اور استعمار نے اپنا کام نکلنے پر ذلیل وخوار کیا۔مصر کے انور السادات کو کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ کے بعد سرعام قتل کروانے والا امریکہ کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ترکی میں عدنان مینڈریس کو پھانسی دلوانے والا استعمار ہی تھا۔ عراق سے کویت پر قبضہ کروا کر بعد میں صدام حسین کو معتوب ٹھہر انے والا امریکہ بہادر ہی تھا۔فلسطین کے یاسر عرفات کو زہر دے کر ہلاک کرنے والا امریکہ اور اسرائیل ہی تھا۔ لبنان کے رفیق حریری کو بم دھماکے میں کس نے قتل کروایا تھا؟کیا صدام حسین کو نشان عبرت بنانے والے امریکہ کو عراق میں کیمیائی ہتھیار ملے تھے ؟افغانستان مین تباہی پھیلانے والا امریکہ کیا ملا عمر اور اسامہ بن لادن سے دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کا کوئی ثبوت دنیا کو پیش کر سکا؟استعمار اور امریکہ کے بدترین مخالف اور مسلم امہ کے عظیم قائد ذولفقار علی بھٹو کو اپنے ایجنٹ ضیاء الحق کے ذریعہ عدالتی قتل کروانے والا امریکہ ہی تھا۔کرنل قذافی کو کیا عوام کی بھلائی کے لئے نشان عبرت بنایا گیا؟ اس کی قوم تو خوشحال تھی ۔ماضی میں ایران و عراق کی آپس میں 10 سال سے زیادہ عرصہ جنگ کروانے والا کون تھا؟

مسلم امہ اور پاکستان کو موجودہ حالات میں پہنچانے والا کون ہے؟اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ماضی میں زیادہ پیچھے نہیں جانا پڑے گا ۔یہ سلسلہ ذولفقار علی بھٹو کی امریکہ کے حکم پر عدالتی پھانسی سے شروع ہوتا ہے اور اسلامی دنیا کو آج تک ریزہ ریزہ کرتا نظر آتا ہے ۔مصر کے موجودہ حالات مسلم امہ کے باقی ملکوں سے مختلف ہرگز نہیں ہیں۔آج مسلم امہ پھر سے ذولفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل جیسے عالمی اسلامی رہنماؤں کا متلاشی ہے جو استعمار اور امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر مسلم امہ کے اتحاد کی بات کر سکیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size