امریکا اسامہ کو لے گیا، کیا ایٹمی اسلحہ بھی لے جائے گا

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

نعوذ باللہ۔ میرے منہ میں خاک۔

ہم ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا رونا رو رہے ہیں ، خدا وہ وقت نہ لائے جب ہم ایٹمی اسلحہ چوری ہونے کی رپورٹ افشا ہونے پر سٹپٹا رہے ہوں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں تازہ تازہ نوکری پانے والے نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ جس نے بھی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو افشا کیا ہے، اسے انعام ملنا چاہئے۔ ضرور ملنا چاہئے۔ کیا نجم سیٹھی یہ انعام اپنے لئے تو نہیں مانگ رہے۔ مگر میرا مسئلہ نجم سیٹھی نہیں۔ محمد سرور ہیں جنہوں نے یا تو وارننگ دی ہے یا دھمکانے کی کوشش کی ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے مسلمان اور پاکستانی نژاد رکن محمد سرور نے کہا ہے کہ امریکا کو سب پتہ ہے کہ آپ نے ایٹمی اسلحہ کہاں کہاں چھپا رکھا ہے، جس طرح وہ اسامہ کو لے گیا، اس طرح وہ آپ کا ایٹمی اسلحہ بھی اٹھا لے جائے گا۔

محمد سرور کا اعزاز صرف یہ نہیں کہ وہ برطانوی پارلیمنٹ میں تین مرتبہ رکن منتخب ہوئے، بلکہ یہ اعزاز بھی ہے کہ وہ موجودہ وزیر اعظم کے مقربین میں شامل ہیں اور انہیں لندن میں ہائی کمشنر بنانے کی تیاری مکمل کر لی گئی تھی۔ انہوں نے خود ہی مجھے فون کر کے بتایا کہ انہوں نے ہائی کمشنر بننے کی پیش کش قبول کر لی ہے اور ایک روز بعد اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ چائے کی پیالی نوش فرمائیں تاکہ ان سے پاک برطانیہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ وہ اسی روز شام کو تشریف لے آئے، بات پھر یہیں سے چلی کہ اگر وہ ہائی کمشنر بنتے ہیں تو پاکستان اور برطانیہ کے مابین مفادات کے ٹکراﺅ کی صورت میں ان کا وزن کس پلڑے میں ہو گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ آئینی ماہرین سے مشورہ کر چکے ہیں کہ ان کی دوہری شہریت یہ عہدہ سنبھالنے کی راہ میں حائل نہیں۔

مسئلہ آئینی ماہرین کی رائے کا نہیں،بلکہ ایک ایسے ہائی کمشنر کے کردار کا ہے جس کے پاس پاکستان اور برطانیہ دونوں کی شہریت ہے لیکن کسی خاص صورت حال میں وہ پاکستان کا ساتھ دے پائیں گے یا برطانیہ کی طرفداری کریں گے۔محمد سرور نے سوال کاجواب سیدھے طریقے سے نہ دیا تو ہم نے مختلف سیناریوز بیان کر کے ان کے رد عمل کو جاننے کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ نشست کی کچھ روداد میں پہلے ہی اپنے دو کالموں میں تحریر کر چکا ہوں۔

گفتگو کے دوران ایک موقع پر انہوں نے امریکی احسانات گنوانا شروع کئے، ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار دو میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو امریکا نے رکوایا تھا۔ میں نے کہا کہ امریکا نے نہیں ، پاکستان کے ایٹمی اسلحے اور میزائلوں کی تنصیب نے یہ جنگ رکوائی تھی۔ مگر محمد سرور نے اپنے موقف پر اصرار کیا تو میں نے ان سے کہا کہ آئندہ ایسی نوبت آئے تو آپ امریکا کو جناب ڈاکٹر مجید نظامی کا یہ پیغام ضرور دے دیجئے گا کہ دنیا میں اسلامی ممالک پچاس سے زائد ہیں، مگر ہندو اکثریت کی ریاست صرف ایک ہے، ہم تومٹ جائیں گے مگر اس کا بھی نام و نشان مٹا دیں گے۔

محمد سرور نے جو جواب دیا، اس پرمیرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، انہوں نے کہا کہ امریکا کو آپ کے ایٹمی اسلحے کے ایک ایک پرزے کی خبر ہے اور ا س سے پہلے کہ ا ٓپ ان کو استعمال کر سکیں امریکا ان کو اچک لے جائے گا۔

محفل میں موجودحاضرین کے منہ سے نکلا: جیسے امریکا اسامہ کو لے گیا۔ محمد سرور نے کہا کہ ہاں ، جیسے امریکا اسامہ کو لے گیا۔

اس پر میں نے محفل کے تناﺅ کو دور کرنے کے لئے محمد سرور سے پوچھا کہ آپ لڑکی والوں کی طرف سے بول رہے ہیں یا لڑکے والوں کی طرف سے۔

امریکا کو کیا معلوم ہے یا کیا معلوم نہیں ہے، اس کا فیصلہ تو ہوتا رہے گا لیکن محمد سرور کا ذہن ہمارے سامنے کھل گیا کہ وہ پاکستان کو کس کی نظر سے دیکھتے ہیں،میں سوچ رہا تھا کہ محمد سرور ہمارا ہائی کمشنر بن کر ہماری نمائندگی کیسے کر پائے گا۔

اگلے روز محمد سرور سے پھر ملاقات ہوئی، میںنے پوچھا، کیا آپ کے ہائی کمشنر بننے کی پریس ریلز جاری ہو گئی۔ کہنے لگے ، میں نے معذرت کر لی ہے، کئی اور دوستوں نے بھی مشورہ دیا ہے کہ مفادات کے ٹکراﺅ کی صورت میں مجھے مشکل پیش آئے گی۔

اخبارات میں آیا کہ محمد سرور کو پاکستان ہی میں کسی بڑے عہدے پر فائز کیا جائے گا۔ کوئی دو ہفتے گز ر گئے ہیں، ایسا کوئی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا اور اگر وزیر اعظم کی میز پر محمد سرور کی کوئی فائل پڑی ہو تو براہ کرم اس فائل پر دستخطوں سے پہلے پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس بلائیں اور اس میں محمد سرور سے وضاحت لی جائے کہ انہوں نے کس بنیاد پر کہا ہے کہ امریکا ہمارے ایٹمی اسلحے کو چر الے جائے گا، کیا یہ ایک عمومی بات ہے جو زباں زد عام ہے اور جس کا خطرہ ہر کوئی محسوس کرتا ہے یا محمد سرور کے پاس کوئی ٹھوس اور مسلمہ شہادت موجود ہے۔محمد سرور پر ویسی ہی جرح کی جائے جیسی امریکی کانگرس میںا علی عہدیداروں کی تعیناتی سے قبل کی جاتی ہے یا محمد سرور سے کہا جائے کہ نوکری لینی ہے تو وہ اپنی برطانوی شہریت چھوڑدیں۔

پاکستان میں جتنے بھی سرکاری ملازم ہیں ، ان سب کی دوہری شہریت کی چھان پھٹک کی جائے اور انہیں پاکستان کے خزانے سے تنخواہ پانے کے لئے غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا پابند بنایا جائے۔ جس طرح آئین میں پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے دوہری شہریت حائل ہے، اسی طرح پاکستان کی سرکاری ملازمت کے لئے بھی دوہری شہریت والوں سے معذرت کر لی جائے اور اس کے لئے آئین یا قواعدمیں ضروری ترامیم کر لی جائیں۔

میں محمد سرور کا وہ جملہ نقل کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے انہوں نے ہائی کمشنر بننے سے معذرت کی ہے۔ لیکن اگر محمد سرور کو غیر ملکی مفاد عزیز ہے اور وہ میرے ملک کے مفادات کا تحفط نہیں کر سکتے تو انہیں کسی بھی پوزیشن پر بٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچ لیا جائے۔

مجھے ان اوور سیز پاکستانیوں پر بے پناہ ناز ہے جو محنت مشقت کی کمائی پاکستان واپس بھیجتے ہیں۔ وہ میرے سر کا تاج ہیں۔وہ میری قوم کے محسن ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار ہدائت جاری فرمائیں کہ نادرا کی طرف سے ان کے لئے وی وی آئی پی کارڈز جاری کئے جائیں تاکہ ایئر پورٹ سے لے کر کسی بھی سرکاری اور غیر سرکاری دفتر میں انکے ساتھ عزت و تکریم کا سلوک روا رکھا جائے۔انہیں ووٹ کا حق بھی دیا جائے۔

میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف، ایئر چیف، نیول چیف اور بالخصوص نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سربراہ سے توقع کرتا ہوں کہ وہ ہمارے ایٹمی اسلحے کی حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ ضرورت ہو توایٹمی اسلحے پر پہرہ دینے کے لئے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہوں۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size