’’ایوانِ پیرصاحب ‘‘

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یہ عوام، خاص طور پر ٹیکس دھندگان کے مفاد میں ہو گا کہ وہ جان سکیں کہ آج کل وزیرِ اعظم ھاؤس میں کون سے پیر صاحب قیام پذیر ہیں۔ ماضی میں نواز شریف کے پیر صاحب دیوانہ باباتھے جن کا تعلق دھنکا شریف ، ضلع مانسہرہ سے تھا۔ اُن کا اصل نام رحمت اﷲ تھا۔ وہ 2008 میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ جب نواز شریف دوسری مدت کے لیے وزیرِ اعظم بنے تھے تو اُنھوں نے پیرصاحب کے گاؤں کو بجلی سے روشن کر دیا تھا۔

جب نواز شریف کو 1993میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تو وہ بے نظیر بھٹو کے لیے وزیرِ اعظم ھاؤس میں جو نشانی چھوڑ گئے وہ دیوانہ بابا تھے۔ محترمہ نے با با جی پر یقین کیا ہو گا کہ اگر اُن کی دعائیں اور نظرِ کرم نواز شریف کو دو مرتبہ وزیرِ اعظم بنا سکتی ہیں تو وہ یقیناًبہت پہنچے ہوئے ہوں گے اور اس کا مطلب ہے کہ اُن کو بھی بابا جی کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ محترمہ بابا جی کی خدمت میں اُن کے پہاڑی آستانے پر حاضری دیتی تھیں۔ وہاں بابا جی ملنے آنے والی اہم شخصیات کی ’’ڈنڈے ‘‘ سے تواضع کر تے تھے۔ اُس کرامتی ڈنڈے سے جس کو جتنی ’’پھنٹی ‘‘ لگ جاتی ،اتنا ہی وہ بابا کی روحانی توجہ اور فیوض وبرکات کا مستحق ٹھہرتا…( شیخ سعدی سے معذرت، ’این سعادت بزورِ بازو است ‘)۔ اس کے بعد محترمہ نے وہاں ہیلی پیڈ بھی بنوا لیا تا کہ آنے جانے میں آسانی رہے اور دھنکا شریف کو بیرونی دنیا سے ملانے کے لیے سڑک بھی تعمیر کر ا دی ۔ دوسری اہم شخصیت جو دیوانہ بابا سے ملنے جاتے ، وہ غلام اسحاق خان کے ہاتھوں محترمہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد نگران وزیرِ اعظم بننے والے غلام مصطفی جتوئی مرحوم تھے۔ جب بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سرکاری جوڑے کے طور پر وائٹ ھاؤس میں گئے تو اُن کے ساتھ ایک عجیب دکھائی دینے والی شخص کی موجودگی سے بہت ہنگامہ بپا ہوا۔ اُن صاحب کی موجودگی کی وجہ سمجھ سے بالا تر تھی، لیکن نجم سیٹھی سمیت وزیرِ اعظم کے ساتھ جانے والے تمام صحافی حضرات کا خیال تھا کہ وہ ’’سرکاری پیر ‘‘ ہیں۔

اسی طرح کی ایک اور بزرگ ہستی چک شہزاد ، اسلام آباد، کے ملتانی بابا تھے۔ محترمہ بے نظیر اُن کے پاس بھی اکثر جاتی تھیں اور راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ اُن کی دہلیز پر زمین پر بیٹھ جاتیں۔ میں بھی ایک مرتبہ ’’نیاز مندی ‘‘ کے طور پر اُن کے پاس گئی۔ دھوتی میں ملبوس ملتانی بابا ایک چھوٹے سے کمرے میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اُنھوں نے مجھ سے کچھ کہا مگر میں الفاظ نہ سمجھ سکی، تاہم مجھے اُن کہانیوں کی ضرور سمجھ آگئی جو اُنھوں نے خود سے ملنے آنے والی اہم ہستیوں کے بارے میں سنائیں۔ چونکہ ایسے مواقع پر نذرانہ پیش کرنا رسم ہے، اس لیے میں نے کچھ نذر پیش کی اور واپس آگئی کیونکہ ، بقول اقبال…تیرا علاج نذر کے سوا کچھ اور نہیں‘‘(شعر میں تبدیلی کی معذرت)۔

اب دوبارہ وہی سوال اٹھاتی ہوں کہ آج کل نواز شریف کا پیر کون ہے؟ ایک بات تو طے ہے کہ ’’کوئی تو ہے‘‘ جو ایوانِ صدر میں بیٹھ کر زرداری صاحب کے ستارے کنٹرول کرتا ہے اور اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ کے محمد اعجاز ہیں ، جو شہرت کے زیور کو فقر کے لیے عار نہیں سمجھتے ، اس لیے ببانگِ دھل اعلان فرماتے ہیں کہ اُن کے بامراد مرید چاہیں تو سمند ر کے پاس رہ لیں، یا دور پہاڑوں کے درمیان ٹھکانہ کر لیں، یہ اُن کی مرضی ہے۔ محمد اعجاز ایوانِ صدر میں ہونے والے ہر اہم موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے ایوانِ صدر 2008 سے ذاتی رہائش گاہ کی طرح ہے ، اس لیے قیاس اغلب ہے کہ اُن کا بوریا بستر بھی صدر صاحب کے ساتھ ہی گول ہوگا۔ شنید ہے کہ یہ پیر اعجاز کا ہی اعجاز ہے کہ اُن کے مریدِ خاص کی طرف اٹھنے والی ہر بری آنکھ بری طرح ناکامی سے ہمکنارہوئی ۔ وہ صدارتی مدت، جو ستاون دنوں بعد تمام ہونے والی ہے، کی کامیاب تکمیل کا کریڈٹ لیتے ہیں۔

ایک موقع پر پیر صاحب نے وجدانی لہجے میں صدر صاحب کو بتایا کہ وہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے دور بلاول ھاؤس کراچی میں قیام کریں تو بہتر ہے۔ ایسے مواقع پر ستارہ شناس پیر کو صدر صاحب کے گرد کچھ شرانگیز طاقتیں منڈلاتی دکھائی دیں۔ شہر کی تبدیلی کا ’’شکار ‘‘ ہونے والوں میں اٹھ سفارت کار بھی شامل تھے ۔ اُنھوں نے اپنے کاغذات صدر صاحب کو پیش کرنے تھے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق یہ تقریب دو مرتبہ التوا کا شکار ہوئی۔ ایک مرتبہ سفارت کاروں سے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں کاغذات پیش کریں، لیکن صدارتی ترجمان فرحت اﷲ بابر نے ہدایت دی کہ وہ کراچی جا ئیں۔ پھر پیراعجاز کی چشمِ رسا نے دیکھا کہ خطرہ ٹل چکا ہے کیونکہ وہ شرانگیز قوتیں اسلام آباد سے دور جا چکی ہیں، چناچہ صدر صاحب واپس پہاڑیوں کے درمیان آسکتے ہیں۔ اس لیے صدر صاحب اسلام آباد سدھارے۔ اس پر اُس سفارت کاروں سے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کا رخ کریں۔ صدر ضیا پیروں کو زیادہ نہیں مانتے تھے، ورنہ اُنہیں بھی آموں اجتناب کا مشورہ دیا ہوگا مگر اُنھوں اس کی نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے راولپنڈی جانے کے لیے طیارے میں آموں کی پیٹیاں رکھوا لیں، باقی تاریخ ہے۔

صوفیوں، بزرگوں، درویشوں، جوتشیوں وغیرہ پر یقین برِ صغیر میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، تاہم وہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور اہل اقتدار اُن پر یقین بھی کرتے ہیں۔ جین ڈیکسن (Jeane Dixon) نامی ایک درویش خاتون روز ویلٹ سے لے کر رونالڈ ریگن تک کو مشوروں سے نوازاکرتی تھی۔ یہ وہی تھی جنھوں نے جان ایف کینڈی کے قتل کی پیشین گوئی کی تھی۔ڈیکسن دو مرتبہ وائٹ ھاؤس بھی آئی جبکہ اُن کی آستین کے اندر ایک شیشے کا گولہ چھپا ہوا تھا۔ اُنھوں نے صدر روز ویلٹ، جبکہ وہ بیمار تھے، کو بتایا کہ وہ کتناعرصہ اور زندہ رہیں گے۔ اُنھوں نے پیشین گوئی کی کہ ایک وقت آئے گا جب امریکہ جرمنی کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف جنگ آزما ہو گا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ روز ویلٹ نے بھی اُن سے روحانیت کے موضوع کچھ باتیں کیں۔ یہ دیکھا جانا ابھی باقی ہے کہ ہمارے حکمران اگرچہ بابوں کی صحبت میں رہتے ہیں، کچھ روحانیت سے روشناس ہوئے ہیں یا نہیں؟

ڈیکسن نے پچاس اور ساٹھ کی دھائی میں بہت اہم پیشین گوئیاں کی تھیں۔ اُنھوں نے سپتونگ کی پرواز، یو این کے سیکرٹری جنرل کے طیارے کے حادثے، تین خلابازوں کی اموات وغیرہ کی درست پیشین گوئیاں کر دی تھیں۔ اب معاملہ یہ ہے کہ امریکی ’’پیر ‘‘ نے تو صرف رونما ہونے والے واقعات کی پیشین گوئیاں کی تھیں مگر ہمارے پیرصاحبان ایک قدم آگے بڑھا کر حکومتوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں، گویا بہت ہی پہنچے ہوئے ہیں۔ تاہم اس حفاظتی اقدام میں ایک خطرہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنی قسمت کو ان پیرروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر عوام سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اب دیکھیں پیراعجاز زرداری صاحب سے کب غفلت برتتے ہیں؟اور پھرلوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے لوگ کہیں یہ نہ کہنا شروع ہو جائیں…’’ہم کوتو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی، گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن ‘‘، یا شاید ابھی عوام اتنے بھی باغی مرید نہیں بنے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں