.

وزیر اعظم سے سعودی سفیر کی دو ملاقاتیں

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عزت مآب سعودی سفیر عبد العزیز بن ابراہیم بن صالح الغدیر دو مرتبہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کر چکے ہیں۔ پہلی ملاقات انہوں نے الیکشن کے فوری بعد کی، اس میں انہوں نے وزیر اعظم کو نیا مینڈیٹ ملنے پر مبارکباد دی تاہم چند روز پہلے کی ملاقات میں ممکنہ طور پر وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب پرغور کیا گیا۔ وزیر اعظم نے عزت مآب شاہ عبداللہ کی صحت کے لئے دعا کی اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو نئی رفعتوں سے آشنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

عام خیال یہ تھا کہ وزیر اعظم حلف اٹھانے کے بعد فوری طور پر شکرانے کے لئے حرمین شریفین حاضری دیں گے۔ جہاں ان کی ملاقات سعودی فرمانروا سے بھی ہو جائے گی اور وہ ان سے پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لئے مدد کی درخواست کریں گے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی گرانی کے مسئلے کے حل کے لئے میزبان ملک سے رعایتی نرخوں بلکہ طویل ادھار پر سودا بھی کر سکیں گے۔ وزیر اعظم لوگوں کی توقع کے مطابق یہ دورہ نہ کر سکے بلکہ انہوں نے پہلا دورہ چین کا کیا۔

میاں نواز شریف اور سعودی شاہی خاندان کی قربت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جنرل مشرف کے مارشل لاء کے بعد یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے شریف خاندان کو پناہ دی اور طویل عرصے تک ان کی میزبانی کی۔ ایسی میزبانی کہ حاتم طائی کی روایات بھی دھندلا گئیں۔

اصل میں سعودی عرب کی محبت پاکستان کے لئے ہے اور اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ بادشاہی مسجد میں آنسووں کی زبان میں شاہ فیصل کی دعائیں کس کو یاد نہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سرمایہ کاری کے لئے سعودی شاہی خاندان نے ایثار کی لا زوال تاریخ مرتب کی اور پاکستان کو اس قابل بنایا کہ وہ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بن سکے، اس طرح پاکستان تمام اسلامی ممالک کے لئے ایک نا قابل تسخیر فصیل اور ڈھال بھی بن گیا۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو یہ سعودی عرب تھا جس نے پاکستان کی معاشی اور مالی مشکلات کے ازالے کے لئے دل کھول کر امداد کی۔

میں قارئین کو قبل از تقسیم کے دور میں لے جانا چاہتا ہوں۔ سنہ 1943 میں بنگال میں شدید قحط پڑا۔ قائد اعظم نے چندے کی اپیل کی، ان کے اکاﺅنٹ میں دس ہزار پاﺅنڈ کا جو پہلا عطیہ موصول ہوا، وہ سعودی عرب کی طرف سے تھا۔ سنہ 1946 میں اصفہانی اور بیگم شاہ نواز کی قیادت میں تحریک پاکستان کا ایک وفد اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے گیا تو ہندو لابی نے ان کو کسی اجلاس میں شریک نہ ہونے دیا۔ اس وقت سعودی وفد کی قیادت شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز کر رہے تھے، انہوں نے مسلم لیگی وفد کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا اور یو این ا و کے تما م ارکان کو اس میں مدعو کیا، اس طرح پاکستان کا پیغام ساری دنیا تک پہنچ گیا اور ہندو وفد ہاتھ ملتے رہ گیا۔ سنہ1947 میں آزادی کا اعلان ہوا، یہ جمعتہ الوداع کا دن تھا، حرم کعبہ اور مسجد نبوی میں پاکستانی زائرین کو سعودیوں نے بے پناہ مبارکباد دی اور انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ وہ اب غلام ملک میں نہیں، ایک آزاد وطن میں واپس جائیں گے۔

کیا میں اپنے قارئین کو اپریل 1940 میں واپس لے جاﺅں جب ولی عہد کی حیثیت میں شاہ سعود بن عبد العزیز نے کراچی اور ممبئی کا دورہ کیا ۔ان کے ہمراہ ان کے پانچ بھائی فیصل، عبداللہ، سعد، منصور اور فہد بھی تھے۔ مسلم لیگ کی طرف سے جناب اصفہانی نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا ۔ یہ وفد واپس سعودیہ گیا تو اس نے شاہ عبدالعزیز اور اپنی قوم کو ہندوستانی مسلمانوں کی اس عظیم جدوجہد کے بارے میں آگاہ کیا جو وہ بیک وقت انگریز اور ہندو سے آزادی کے لئے کر رہے تھے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں آزادی کے فوری بعد پاکستان کو سعودی عرب نے سب سے پہلے تسلیم کیا۔

پہلی عراق، امریکا جنگ کے دوران سعودی عرب کے دفاع کے لئے پاکستان نے اپنے فوجی دستے وہاں بھجوائے۔ ان دنوں پاکستان میں میاں نواز شریف ہی ملک کے وزیر اعظم تھے۔ ساتویں اور آٹھویں عشرے کے دوران پاکستان کے پندرہ ہزار فوجی سعودی عرب میں تعینات رہے۔ بہت پہلے 1969 میں جنوبی یمن سے دفاع کے لئے پاکستانی ہوا باز سعودی ایئر فورس کے طیاروں میں محو پرواز رہے۔

پاکستانی عوام بھی سعودیہ سے محبت میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ حرمین شریفین کی سرزمین سے والہانہ محبت کے چشمے ہر پاکستانی کے دل سے پھوٹتے ہیں۔ حرم کعبہ اور مسجد نبوی میں توسیع کے منصوبوں نے پاکستانیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سعودی شاہی خاندان کا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ اسلام آباد میں فیصل مسجد کی تعمیر اور لائل پور کو فیصل آباد کا نام دے کر پاکستانیوں نے سعودی عرب سے اپنے بے پناہ جذبوں کا اظہار کیا۔ کراچی میں سعود آباد اور شاہراہ فیصل بھی ہماری عقیدت کے مظہر ہیں۔

افغانستان پر سوویت افواج کی جارحیت نے پاکستان کی سیکورٹی کو خطرات لاحق کر دیئے تو سعودی عرب نے اس عظیم جہاد کی کھل کر سرپرستی کی جس کے نتیجے میں سوویت روس کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور سوویت روس پارہ پارہ ہو گیا اور اس کے بطن سے وسط ایشیائی اسلامی ممالک نے جنم لیا اور یوں پاکستان کے گرم ساحلوں کو کریملن کی طرف سے درپیش خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔

افغان جہادی گروپوں کے باہمی اختلا فات کے خاتمے کے لئے بھی سعودی عرب نے اپنی خدمات پیش کیں اور حرم کعبہ میں بٹھا کر ایک صلح نامہ تحریر کروایا۔ طالبان کی حکومت آئی تو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب نے بھی ان کی حکومت کو تسلیم کیا۔

پاکستان میں جب کبھی کوئی افتاد آئی، زلزلے کی صورت میں یا سیلاب کی شکل میں، سعودی عرب نے امدادی کاموں میں ہمیشہ پہل کی اور کھل کر امداد دی۔ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے پاک آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ریاض میں ملاقات کے دوران کہا کہ ہم ایک جسد واحد کی حیثیت رکھتے ہیں، آپ کا دکھ ہمارا دکھ ہے۔

اب پاکستان پھر مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ 'وار آن ٹیرر' ہے جو سعودی عرب اور پاکستان کا مشترک مسئلہ ہے۔ پاکستان کے وسائل اس جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، ہمارے بے گناہ شہری ا پنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور ہمارے فوجی اس میں قربان ہو رہے ہیں اور ہماری معیشت کو ارب ہا روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ دنیا اگر چین کی نیند سونے کے قابل ہوئی ہے تویہ پاکستان کی قربانیوں کے طفیل ہے تو کیا دنیا پاکستان کو تنہا چھوڑ دے گی۔ کم از کم سعودی عرب تو ایسا نہیں کر سکتا اور خاص طور پر عزت مآب سعودی سفیرعبد العزیز بن ابراہیم بن صالح الغدیر کی موجودگی میں پاکستان اپنے آپ کوتنہا نہیں پاتا۔ وہ سفیر تو سعودی عرب کے ہیں لیکن درد انہیں پاکستان کا لاحق رہتا ہے۔ وزیر اعظم کے دورے کی تفصیلات طے ہو رہی ہیں اور سعودی سفیر اس کی جز ئیات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دورہ اب زیادہ دور نہیں رہا اور اس کے ثمرات سے پاکستانی قوم بہرہ مند ہونے والی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.