.

پاکستان، بھارت اور ترک جمہوریتیں

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی بھی ریاست کا وجود وہاں مضبوط اداروں کے قیام سے ہی مشروط ہوتا ہے۔ ایک جمہوری ریاست کا وجود اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہاں کی سیاسی جماعتیں جمہوری تقاضوں کے مطابق منظم ہوں۔ جدید سیاسی تعریف میں سماج اور ریاست کی اصلاحات جمہوری سیاسی جماعتوں کے مرہونِ منت ہے۔ایک حقیقی، عوامی اور فلاحی ریاست میں اصلاحات کا Instrument صرف سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل بڑا واویلا ہے کہ ادارے برباد ہو گئے ہیں اور یوں ریاستی مشینری بے بس، بے اختیار اور غیر اہم ہوتی جارہی ہے۔یہ تجزیہ کرتے ہوئے ہمارے زیادہ تر تجزیہ نگار سیاسی جماعتوں، ان کی حیثیت اور ان کیInner Dynamics کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جمہوریت کا جنم سیاسی جماعتوں کے بطن سے ہوتا ہے جب کہ ہمارے ہاں جمہوریت کی تعریف صرف انتخابات کے انعقاد تک محدود کر دی گئی ہے اور انتخابات کے عدم تسلسل کو جمہوریت کے پروان نہ چڑھنے کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کا بیج کئی سیاسی جماعتوں کے اندر تیار ہوتا ہے اور اگر سیاسی جماعتیں جدید جمہوری سیاسی تعریف کے زمرے میں ہی نہ آتی ہوں،تو سماج اور ریاست میں جمہوریت کیسے جنم لے گی۔

ہماری زیادہ تر جماعتیں، خاندانیت، موروثیت اور اندرونی آمرانہ نظام کے تحت اپنا سیاسی کردار اور کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں دراصل مختلف سیاسی جماعتوں کے ذریعے خاندان کی حکومتوں کا قیام ممکن ہوتا ہے آپ پچھلے تیس برسوں کی تاریخ (1970ء کے بعد) پر نظر دوڑا کر دیکھ لیں، کسی بھی عام انتخابات کے بعد خاندانی حکومت کا قیام ممکن ہوا، تاریخی جبر یہ ہے کہ ان کو جمہوریت تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پاکستان میں انتخابات کے ذریعے جو حکومتیں قائم ہوئی ہیں، انہوں نے مخصوص خاندانوں کی حکمرانی کے ادوار کو قائم کیا۔ اگر اس کی یہ تعریف کی جائے کہ ووٹوں کے ذریعے خاندانی بادشاہت کا نظام قائم ہوا تو غلط نہ ہوگا۔ سیاسی دھڑوں میں منقسم ووٹرز کو ہر منعقد ہونے والے انتخابات میں مخصوص خاندانوں کے حق میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔ انہی خاندانوں کے افراد حکومتی فیصلوں پر حتمی اختیارات کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے نظام میں سیاسی جماعتیں ایسی قیادت جنم ہی نہیں دے سکتیں جو سماج اور ریاست کو Democratize کر دیں۔ پارٹی کے اندر عہدوں کی نامزدگی سے لے کر انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم تک اور حکومت کی تشکیل سے حکومتوں میں عہدوں کی تقسیم تک، تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی کے چند افراد کے پاس ہے اور یہ افراد اس پارٹی کے خاندان کے لوگ، اعلیٰ قیادت یا خاندان کے رفقاء تک محدود ہے۔

ہمارے ہاں جمہوریت کی تاریخی جڑیں برطانوی کلونیل نظام سے اُبھری ہیں، جس کا آغاز محدود جمہوریت سے ہوا، اس لیے ہندو پاک میں قائم جمہوریت میں کلونیل، فیوڈل اور موروثیت مزاج پایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھارت کی معاشی ترقی کو وہاں کے انتخابی نظام (کلونیل ڈیموکریسی) سے جوڑتے ہیں ان کو تجزیہ کرتے ہوئے انڈونیشیا، سنگاپور، چین اور دوسری ریاستوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ معاشی ترقی کا سبب صرف انتخابی نظام سے وابستہ نہیں ہے۔ آزادی کے بعد بھارتی جمہوریت نے درحقیقت برطانوی کلونیل ازم کو کامیابی سے “Mantain” کیا ہے، جب کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوا۔ البتہ ہم نے برطانوی کلونیل ڈیموکریسی کے علاوہ، کلونیل آرمی کا سہارا لے کر سیاسی نظام کو سہارا دیاہے۔ اگر آپ بھارتی ڈیموکریسی کا بغور مطالعہ کریں تو اس کی ساخت بھی عوامی نہیں ہے، وہاں انتخابات تسلسل سے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بلدیاتی انتخابات بھی۔ یہ ایسے ہی جیسے بھارتی ریاست دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سیکولر ہے لیکن چھیاسٹھ برسوں میں بھارتی ریاست سماجی Democratize نہیں ہوسکی،اسی طرح سماج سیکولر بھی نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کی ساخت کلونیل ڈھانچے پر قائم کی گئی ہے اور جب اس ریاست کی معاشی ترقی بڑھتی چلی گئی تو بھارتی ریاست بھی عملاً سکیورٹی سٹیٹ بنتی چلی گئی، جو ریاست کے اندر بھی سیکیورٹی سٹیٹ کے طور پر اپنا آپ دکھارہی ہے اور بڑی معاشی اور وارمشینری رکھنے کے سبب عملاً Expansionist ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ بھارت رواں دہائی میں دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ کی خرید کرنے والی ریاست ہے۔ وہاں کے منتخب نظام کو دنیا کے سیاسی مفکرین Gangster’s Democracy قرار دیتے ہیں۔ بھارت کی سیاست میں خاندانیت اور موروثیت کا راج ہے۔ 1935ء کے برطانوی کلونیل ایکٹ پر قائم پاک و ہند کا ریاستی ڈھانچا ایک حقیقی جمہوریت کو جنم دینے سے قاصر ہے، بلکہ بانجھ ہے۔

برصغیر کے ان ممالک میں عوامی، سیاسی اور سماجی اصلاحات کے لیے ہر دَور میں تحریکوں نے جنم لیا، لیکن ان کو حتمی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ یہ سب تحریکیں ترقی پسند نظریات کی علم بردار تحریکیں ہیں جو سماج اور ریاست میں حقیقی سماجی انصاف اور فکر و خیالات کی آبیاری کے لیے سیکولر ازم کے علم بردار سامراجی مفادات کی مخالف اور برطانوی کلونیل ڈھانچے کو ڈھا کر عوامی ریاستی ڈھانچے کی خواہاں ہیں۔ برصغیر و پاک ہند کے مقابلے میں مصطفی کمال اتاترک کی قائم کردہ ترکی کی جمہوریہ (Republic) کی تاریخ کہیں زیادہ شان دار ہے۔ یہ تیسری دنیا کی واحد جمہوریت ہے جو کسی کلونیل ریاست کے بطن سے قائم نہیں ہوئی۔ یعنی یہ جمہوریت، برطانوی، فرانسیسی یا کسی بھی مغربی کلونیل کی Legacyنہیں اور وہاں حقیقی جمہوریت کا قیام وہاں کی ترقی پسند تحریکوں کے مرہون منت ہے، جنہوں نے ترک جمہوریت کو نیو کلونیل ازم کو مسترد کرکے اور سماج میں Social Welfare State کے نظریات کی آبیاری کرکے ریاست اور سماج میں پائے جانے والیMilitarism کے خلاف بھرپور تحریکیں برپا کیں اوریوں ترکی ساٹھ کی دہائی کے بعد ایک تنگ نظر نیشنل ازم سے نکل کر Welfare State کی جانب گامزن ہونے لگا۔

معذرت کے ساتھ، ہمارے دائیں اور بائیں بازو کے دانشور، ترک جمہوریہ (Turkish Republic) کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہے۔ ترکی ،ناٹو کا دوسرا بڑا رکن اور ایک طاقتور دار مشینری رکھنے والا ملک تو ہے لیکن ترکی، پاکستان یا بھارت کی طرح Security State نہیں بنا، اسی لیے کہ وہاں کی جمہوریت کلونیل Legacy سے نہیں جڑی اور نہ ہی اس میں فیوڈل اور نیو کلونیل ازم کا مزاج پنپ پایا۔ اپنی تمام تر عسکری طاقت کے ساتھ ترک جمہوریہ، وسطی یورپ کی جمہوریتوں کے انداز میں پروان چڑھی اور اس کی ہیئت میں سیکولرازم بنیادی عنصر کے ساتھ موجود ہے۔ ترکی میں جمہوریت اوپر سے نیچے اورنیچے سے اوپر تک قائم ہوتی چلی گئی جب کہ برصغیر پاک و ہند میں جمہوریتیں، خاندانوں، موروثیت کلونیل وراثت اور فیوڈل مزاج کے گرداب میں گھوم رہی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی ب

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.