.

بھارتی اہلکار کے انکشافات!

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت نے پاکستان مخالفت میں کیا کیا نہیں کیا۔ اس کی فہرست کافی طویل ہے۔ جس کا ذکر اکثر و بیشتر مضامین اخباری خبروں اور کالموں میں دیکھا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی برملا ایسی کہانیاں جاری رکھتا ہے لیکن حالیہ خبروں کے منظر عام پر آنے سے ایسی صورت حال سامنے آئی ہے جس کے بارے میں سوچ کر بھی دل دہلنے لگتا ہے۔ مکاری اور عیاری کی داستانیں اور بھی بہت ہیں لیکن اس داستان کی بنیاد، عمل درآمد اور انجام اپنی مثال آپ ہے۔ ان خبروں کے مطابق بھارت کی تفتیشی ٹیم کے ایک اعلیٰ افسر ستیش ورما نے انکشاف کیا ہے۔

کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ اور ہوٹل تاج پر حملہ بھارت نے خود ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کروایا تھا۔ ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کی داستانیں چلائی گئیں۔ غیر ملکی میڈیا جو پہلے ہی پاکستان کے خلاف اس قسم کی خبروں کی تلاش میں رہتا ہے بھرپور طریقے سے بھارت کا ساتھ دیا تھا۔ حتیٰ کہ بھارت نے پاکستان کو دیوار سے لگانے کی آخری کوشش کرتے ہوئے دہشت گرد ملک قرار دینے کے لیے بھی کوشش کی۔ یہ تو شکر ہے کہ نہ ہو سکا۔ لیکن پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے بسیار جتن کرنے پڑے اور پوری دنیا میں پاکستان کی پوزیشن کو خاصا دھچکا لگا۔ بھارت کے سینئر اہلکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حملے منصوبہ بندی سے کرائے گئے تھے تا کہ بھارتی حکومت ’’دہشت گردی کی کارروائیوں سے بچاؤ کے قوانین کو پارلیمنٹ سے منظور کروا سکے۔ اس کے علاوہ ’’غیر قانونی حرکات سے بچاؤ‘‘ کے قوانین میں ترامیم بھی چاہتی تھی۔ ان قوانین کی منظوری کے لیے اتنے بھیانک ڈرامے رچائے گئے اور ان میں ملوث جائز اور ناجائز کرداروں کو پھانسی کی سزائیں تک بھی دے دیں۔

اب جب ایسے انکشاف بھارت کے ذمہ دار اہلکار جو خود ان تفتیشوں میں شامل تھے، ان سارے واقعات کی صحت کے بارے میں ایسے حقائق سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ اتنے بڑے ملک کے لیے جو کہ ایک طرف جمہوریت کا دعویدار ہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔ اور دہشت گردی کے خلاف ہونے کا عزم رکھتا ہے۔ اس قسم کے گھناؤنے فعل کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی ملک کو اس میں مورد الزام ٹھہرا کر اپنے ملک میں قوانین پاس کروا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اخلاقیات کی گراوٹ کی آخری حدیں ہیں ایسے ملک کے لیے اس قسم کے معاملات کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ اگرچہ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ ایسی حرکات صرف پاکستان کے خلاف ہیں لیکن درحقیقت اس قسم کی حرکات بین الاقوامی برادری کے خلاف ہیں۔

جب ان دونوں واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کے پس منظر میں واقعی کچھ ایسے عوامل تھے جن میں بطور خاص پاکستان کو ملوث کر کے کچھ مقاصد کا حصول تھا۔ 13 دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت میں پانچ دہشت گرد اس وقت داخل ہوئے جب لوک سبھا اور راجیا سبھا کے اجلاس کو ختم ہوئے 40 منٹ کا وقت گزر چکا تھا۔ اس واقعہ میں پانچوں دہشت گرد مارے گئے۔ اس کے علاوہ پانچ پولیس اہلکار، پارلیمنٹ کا سکیورٹی گارڈ، ایک مالی مارے گئے۔ 18 دوسرے لوگ زخمی ہوئے۔ حیرت کی بات ہے کہ دہشت گرد پارلیمنٹ پر خود کش حملے کی غرض سے آئے تھے لیکن وہ اس وقت حملہ آور ہوئے جب اجلاس کو ختم ہوئے چالیس منٹ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اگر دہشت گردوں کا نشانہ پارلیمنٹ تھا تو وہ یقیناًاجلاس کے دوران حملہ آور ہوتے۔ یہ بھی حقائق ہیں کہ حملہ کے وقت وزراء اور ارکان پارلیمنٹ عمارت میں موجود ہونے کے باوجود ان میں سے کوئی بھی زخمی تک نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے کیس میں افضل گرو کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے تانے بانے پاکستان سے ملائے گئے اور بالآخر افضل گرو کو سزائے موت دے دی گئی۔ افضل گرو دہلی کی تہار جیل میں 9 فروری 2013ء کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افضل گرو کشمیری ہے اور بھارت نے ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش کی کہ پارلیمنٹ پر حملے کا پروگرام کشمیری شخص نے کیا جس کے پیچھے پاکستان ہے۔ یعنی کشمیریوں سے بدلہ، پاکستان کی بدنامی اور اپنے ملک میں قانون برائے دہشت گردی کا اطلاق۔

جب 26 نومبر 2008ء کے ممبئی تاج محل ہوٹل کے واقعے کو دیکھا جاتا ہے تو اس کے واقعات بھی بڑے عجیب ہیں۔ اس حملے میں مجموعی طور پر 166 لوگ ہلاک ہوئے اور 308زخمی ہوئے۔ اس حملے کو بھی پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ایک شخص اجمل قصاب نامی کو گرفتار کر کے اس کا تعلق پاکستان سے جوڑا گیا اور اس کے بیانات کی روشنی میں اس حملے کی پلاننگ پاکستان میں ہونا قرار دی گئی۔ اس حملے کو بھارت نے اپنے لیے ’’امریکی 9/11‘‘ جیسا حملہ قرار دیا اور امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف نہ صرف زہر اگلا بلکہ عملی طور پر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بڑی حد تک متاثر ہوئے۔ اس حملے میں چونکہ کچھ امریکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس لیے اس کا ایک شدید ردعمل امریکہ کی طرف سے بھی آیا۔ اگرچہ یہ ردعمل بھارت کے خلاف ہوناچاہیے تھا جو کہ نہ صرف غیر ملکی شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہوا بلکہ اپنے شہریوں کی بھی حفاظت نہ کر سکا اور الزام تمام تر پاکستان پر لگا دیا۔

غیر ملکی طاقتوں نے بھی اس حملے سے خوب فائدہ اٹھایا اور پاکستان جو کہ پہلے ہی افغانستان کی وجہ سے خود دہشت گردی کی لعنت سے نبرد آزما تھا ، ایک نئی آزمائش میں آ گیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے سخت قسم کی وارننگ جاری ہوئیں۔ پاکستان کی طرف سے تمام تر تعاون کے باوجود بھارت اس بات پر مصر رہا کہ حملے کے اسباب پاکستان میں موجود ہیں۔ بالآخر اس مقدمے میں بھی اجمل قصاب کو سزائے موت ہوئی جس پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

بھارت میں دہشت گردی کے بے شمار واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ان دوسرے واقعات میں بھی بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح سے پاکستان کو ملوث کیا جاتا رہے۔ بھارت اپنے ان مذموم عزائم میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہے اور عالمی برادری میں پاکستان کے خلاف نفرتیں پھیلاتا رہا ہے۔

ان واقعات کے منفی اثرات خاص حد تک پاکستان کو متاثر بھی کرتے رہے ہیں لیکن ان دو واقعات میں جبکہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد تک بھی ہو چکا ہے کے خلاف اس قسم کی شہادت کا منظر عام پر آنا اور ان واقعات کی اصلیت کے بارے میں ٹھوس حقائق معلوم ہونا بھارت کی بدنیتی کا اہم ثبوت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس قسم کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کار کا خواہاں رہا ہے لیکن بھارت کی طرف سے ہمیشہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ ہوتا رہا ہے جو کہ تمام تر اصولوں اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ اب جبکہ بھارت کے اپنے ان سینئر اہلکاروں کی طرف سے بیان حلفی داخل ہوا ہے کہ یہ واقعات بھارت کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں اور ان کے ملک کے اندر ہی بنائے گئے منصوبے ہیں تو اسے اپنی اس قسم کی پالیسیوں کو ترک کرنا چاہیے۔ خاص طور پر پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ جو کہ بھارت کی طرف سے کئی دہائیوں سے رواں ہے۔ اس میں بتدریج شدت آ رہی ہے۔ اس سے قبل یہ جارحانہ رویہ صرف مشرقی سرحدوں کی طرف سے ہوتا تھا۔ اب بھارت کو امریکہ کی مدد سے افغانستان میں جگہ ملنے سے یہ جارحانہ رویہ مغربی سرحدوں تک بھی پھیل چکا ہے۔

بھارت پاکستان کے خلاف کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا لیکن ان انکشافات کے بعد اخلاقی طور پر کوئی جواز نہیں بنتا کہ بھارت پاکستان کے خلاف کوئی مزید بات کرے یا پاکستان کو کسی اور سازش میں ملوث کرنے کا بہانہ تراشے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.