.

پاکستان میں اختیارات کا معاملہ

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں عسکریت کو عمومیت پر واضح فوقیت حاصل ہے تاہم وہ بھی تنقید و نکتہ چینی سے یکسر مبرا نہیں ہیں۔ مجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید فوج اب پہلے جیسی ’’مقدس گائے‘‘ نہیں رہی بالخصوص جب حال ہی میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا افشا ہوا ہے۔

اس واقعے کے کچھ ہی دن بعد‘ وزیر اعظم نواز شریف اپنے وزیر داخلہ کے ہمراہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز پہنچے جہاں پر آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی بھی موجود تھے۔ بعد میں سرکاری طور پر یہ بیان جاری کیا گیا کہ اس ملاقات میں صرف افغانستان سے متعلق درپیش سیکیورٹی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

اس میں تو کچھ شک نہیں کہ پاک آرمی کا کردار صرف ملک کے دفاع تک ہی محدود نہیں ہے۔

اسی طرح‘ زیر بحث امر کو مزید تقویت ملتی ہے اگر ہم سابقہ ملٹری چیف پرویز مشرف کے خلاف بننے والے غداری کے مقدمے کا جائزہ لیں۔ ان کو اپنے آرام دہ اور کشادہ گھر کے اندر ہی زیر حراست رکھا گیا ہے جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں اور ایک عام ملزم میں کتنا فرق ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے پرویزمشرف کے خلاف مقدمہ کا اندراج نہیں کیا۔ یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہو گا کہ پرویز مشرف کو اس بات کی یقین دہانی کرا دی جا چکی ہے کہ ان کا بال بھی بیکا نہیں ہو گا اور ان کے خلاف سب مقدمات کو ختم کر دیا جائے گا اگر وہ ہمیشہ کے لیے پاکستان چھوڑ دیں لیکن ابھی تک پرویز مشرف ان مقدمات کا سامنا کرنے پر مصر ہیں جن میں جرم ثابت ہونے پر ان کو سزائے موت یا عمر قید سنائی جا سکتی ہے۔

اس غداری کے مقدمے کا جو بھی فیصلہ سنایا جاتا ہے اورپرویز مشرف پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں فوج کا جو بھی ردعمل آئے گا اس سے پتہ چل جائے گا کہ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے کتنے مضبوط ہیں۔

مجھے اسلامی معاملات کا کوئی علم نہیں ہوں لیکن مجھے میرے بعض مسلمان دوستوں سے معلوم ہوا ہے کہ اسلامی معاشرے میں جمہوریت کی گنجائش نہیں ہے۔ میں اپنے دوستوں کو کہنا چاہوں گا کہ اصل ثالث اور فیصلے کی طاقت بیلٹ باکس میں ہوتی ہے۔ عرب ممالک میں حکومتوں کا تختہ الٹنے والی تحاریک کو دنیا میں بہت پذیرائی ملی لیکن ایسے انقلاب کے نتیجے میں جمہوریت نہیں آتی۔ جمہوریت کے پودے کو جڑ پکڑنے اور پنپنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک اور ابھرتا ہوا غیر جمہوری طرز عمل یہ ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی علیحدہ شناخت کا دعویٰ کریں۔ مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرانی ہوئی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور لبرل جامعہ ملیہ دہلی کے طلباء نے داڑھی رکھی ہوئی تھی اور طالبات نے حجاب لیا ہوا تھا جب کہ شدت پسند ہندو اس ظاہری تفریق سے خوش تھے۔ ’بی جے پی‘ جو آر ایس ایس‘ کی پشت پناہ جماعت ہے اس نے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو اپنا ماوا و ملجا بنا لیا ہے کیونکہ وہ ’ہندو توا‘ کے نظریے کا پرچار کرتے ہیں۔ ایک غیر ملکی ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے 2002ء کے گجرات کے فسادات میں مرنے والے مسلمانوں کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ انھیں تو اپنی گاڑی کے نیچے آ کر کچلے گئے کتوں کا بھی دکھ ہوتا ہے۔

میرے کچھ مسلمان دوستوں کے مطابق ’گلوبلائزیشن‘ کے نتیجے میں اپنی شناخت کا تعین کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے لوگ اپنی اپنی کمیونٹی سے تعلق جوڑ رہے ہیں۔ مودی اور بی جے پی کا الحاق بھی شاید اسی کا نتیجہ ہو۔ اور شاید یہی وجہ ہو کہ عیسائی بھی اپنے گرجا گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں جہاں ان کے رہنما اپنی تقریروں کے ذریعے نفرت پھیلا رہے ہیں۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اس میں یقیناً مذہبی منافرت کا عنصر شامل ہے اور بات صرف اپنی کمیونٹی سے رابطہ استوار کرنے تک محدود نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان شروع میں سیکولر ریاست تھی۔ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد اپنی پہلی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان اس لیے وجود میں آیا ہے تا کہ ریاست اور سیاست کے معاملات میں مذہب کی بالادستی نہ ہو لیکن سب کچھ بھلا دیا جا چکا ہے۔

آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کے کئی فرقے ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں۔

میرے خیال میں مشرف کے کچھ اچھے کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے شدت پسندوں کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ انھوں نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ اپنی ریاست میں شدت پسندی اور بنیاد پرستی کو برداشت نہیں کریں گے۔ وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن بھی پرویز مشرف کے ایما پر ہوا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے وہ جمہوری اداروں سے بھی الجھ بیٹھے خاص طور پر عدلیہ سے محاذ آرائی نے انھیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اپنے ذاتی انتقام کے نتیجے میں انھوں نے بگٹی قبیلے کے سردار پر بھی حملہ کیا۔ گو کہ انھوں نے طالبان کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا لیکن آج طالبان پہلے سے بھی زیادہ قوی اور مضبوط ہیں اور پاکستان میں کہیں بھی کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ نواز شریف کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ شدت پسند مبینہ طور پر ان کی اپنی صفوں میں بھی ہیں اور ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی سوچ طالبان سے ملتی جلتی ہے۔ ان کے لیے اس سے بھی بڑا چیلنج تب ہو گا جب امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہو گا۔

بھارت کو اس سے بھی بڑے خطرے کا سامنا ہے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ افغانستان میں زور پکڑیں گے اور جو بھی اسپتال‘ اسکول وغیرہ بھارت نے افغانستان میں تعمیر کیے ہیں‘ وہ تباہ کر دیے جائیں گے۔ میری خواہش ہے کہ حامد کرزئی کی مسلح افواج میں اتنی اہلیت ہو کہ وہ طالبان کا مقابلہ تن تنہا کر سکیں۔ یہ امر بلاشبہ حیران کن ہے کہ نئی دہلی نے اسلام آباد کی طالبان کے خلاف مشترکہ ایکشن لینے کی تجویز کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ حتی کہ بھارت نے افغانستان کو طالبان کے خلاف لڑائی میں استعمال ہونے والے روائتی ہتھیار بھی مہیا نہیں کیے۔

کرزئی کا امریکا کو آڑے ہاتھوں لینا بالکل بجا ہے جس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ لیکن امریکا تو ہمیشہ وہی کرتا ہے جو کہ اس کو محسوس ہو کہ وہ اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ نئی دہلی کو پاکستان اور افغانستان کے باہمی اشتراک سے ایک نیا لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔ طالبان کے خلاف لڑائی کو اولین ترجیح دینی ہو گی۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اسلام آباد سے جو بھی ایکشن لیا جائے گا وہ در حقیقت آرمی ہیڈ کوارٹرز کی ہدایت کے مطابق ہی ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.