.

پولیو وائرس پاکستان سے اسرائیل کیسے پہنچے؟

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر نیماعابد حیران اور پریشان ہیں کہ پولیو کے وائرس پاکستان سے اسرائیل کیسے پہنچ گئے جب کہ ان دونوں ملکوں کے آپس میں سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور پاسپورٹ اور ویزے کی سہولت بھی نہیں ہے مگر ڈاکٹر نیما عابد جانتے ہیں کہ بیماریوں، خرابیوں، آلائشوں اور قدرتی آفات کو سفارتی تعلقات۱۱ ، ویزے اور پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سیلابوں اور زلزلوں کو بھی کسی ملک کی سرحد عبور کرتے وقت پاسپورٹ اور ویزے دکھانے کو نہیں کہا جاسکتا۔ درندے پرندے بھی بغیر ویزے اور سفارتی تعلقات کے کسی ملک میں جا سکتے ہیں اور وہاں سے واپس بھی آ سکتے ہیں۔ سفارتی تعلقات اور ویزے کی ضرورت صرف انسانوں کو ہوتی ہے۔

ڈاکٹر عابد کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں پہنچنے والے پولیو وائرس کی نسلی ساخت بالکل پاکستان میں پائے جانے والے پولیو وائرس جیسی ہے۔ ماہرین صحت کی تحقیق یہی بتاتی ہے مگر یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ یہ وائرس پاکستان سے اسرائیل کیسے پہنچ گیا؟ اس کاجواب بھی طبی ماہرین ہی دیتے ہیں جن کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ بالکل اسی ساخت کا پولیو وائرس مصر میں بھی دیکھنے کو ملا ہے چنانچہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ پولیو کے وائرس پہلے پاکستان سے مصر میں اور پھر مصر سے اسرائیل میں پہنچے ہوں گے۔ اب تحقیق یہ ہورہی ہے کہ پولیو کا وائرس اگر پہلے مصر گیا تو کب گیا اور پھر مصر سے اسرائیل گیا تو کب گیا؟

سمگلنگ کی روک تھام پر مامور ادارے یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کہ سمگل ہونے والی اشیاء یا منشیات کہاں سے سمگل کی گئی ہیں اور کون کون سے علاقوں سے گزری ہیں۔ ان اداروں کے سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیزوں میں ان کے اصلی وطن اور دوران سفر کے علاقوں کے کچھ نہ کچھ اثرات کا ثبوت مل جاتا ہے اور اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ ہیروئن افغانستان سے چل کر کون کون سے علاقوں سے گزر کر یہاں پہنچی ہے مگر وائرس سے اس نوعیت کی معلومات کشید نہیں کی جاسکتیں۔ خاص طور پر پولیو کے وائرس اس نوعیت کی معلومات فراہم نہیں کرسکتے۔

پولیو کے وائرس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ انسانی جسم کی انتڑیوں میں وجود رکھتا ہے اور بہت سالوں تک اپنے وجود کو قائم رکھ سکتا ہے چنانچہ یہ وائرس زیادہ عمر کے لوگوں کی انتڑیوں میں بھی ہوتے ہیں اور معدے خالی کرتے وقت یعنی رفع حاجت کے دوران خارج ہوتے ہیں اور اشیائے خوردنی کے ذریعے انسانی جسموں میں جاتے ہیں اور پولیو کے عارضے یا مرض کا باعث بنتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پولیو سے سب سے زیادہ متاثرین ملکوں میں نائجیریا ،پاکستان اور افغانستان کے تین ممالک شامل ہیں ۔

صرف شامل ہی نہیں سر فہرست بھی ہیں۔ پاکستان کے حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ پولیو کے مرض کے متاثرین کو ملک سے باہر جانے اور اس مرض کو پھیلانے کی اجازت نہیں دیتے ملک سے باہر جانے والوں کو پولیو کے قطروں(ٹیکوں)کا ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں ماہرین اور حکام کے دعوؤں پر شاید یقین نہیں کیا جائے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پولیو کے متاثرین میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2012ء میں پاکستان میں پولیو کے 25مریضوں کی نشاندہی ہوئی تھی ،سال رواں میں ایسے بدنصیبوں کی تعداد اٹھارہ بتائی جاتی ہے یہ اٹھارہ مریض”فاٹا“ اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں پولیو کے خلاف مہم کو سب سے زیادہ مشکلات اور خطرات کا سامنا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.