.

کیا بشارالاسد واقعی جنگ جیت گئے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ تین ماہ کے دوران میں نے جو سب سے زیادہ بات سنی، وہ یہ کہ شامی انقلاب کا رنگ پھیکا پڑ چکا ہے اور یہ کہ شامی عوام کی صدر بشارالاسد کے جبرواستبداد والے رجیم کے خاتمے کی خواہشات دم توڑ گئی ہیں۔

کیا یہ درست ہے کہ شامی عوام گذشتہ ڈھائی سال کے دوران خون اور آنسو بہانے کے بعد ناکام ہوگئے ہیں؟ مایوسی کا بیج بونا جنگ کے ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے۔ بعض لوگوں کے لیے اس کو محسوس کرنا معمول کی بات ہے۔ جو لوگ مایوسی کا شکار ہوئے یا اس کو محسوس کر رہے ہیں، ان میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے سردی کے دو موسم مہاجر کیمپوں میں گزارے، یا وہ تھوڑی بہت رقم کے ساتھ گزارا کر رہے ہیں، ان میں محاصرے کا شکار لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے کئی ماہ تک اپنے گھروں کو نہیں چھوڑا تھا اور وہ کنووں کے پانی پر گزارا کرتے رہے اور اب ان کے پاس ذخیرہ شدہ خوراک بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

ان کے علاوہ لاکھوں شامی در بدر ہیں۔ ان میں سے اس وقت بہت سے بے گھر ہیں خواہ وہ شام کے اندر ہیں یا گھر بار چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں۔ اس صورت حال کو جس چیز نے مہمیز دی، وہ باغی جنگجوؤں کے درمیان تقسیم ہے۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان قیادت پر تنازعات پائے جاتے ہیں جبکہ انھیں بہت کم اسلحہ اور گولہ بارود مہیا ہو رہا ہے۔

سب سے خوف ناک بات یہ ہے کہ جہادی گروپ آزاد کرائے گئے علاقوں کے لوگوں پر مصائب مسلط کر رہے ہیں اور اب شامی ان جہادی گروپوں کے خلاف بالکل اسی طرح احتجاج کر رہے ہیں جس طرح وہ پہلے صدر بشارالاسد کے خلاف کر رہے تھے۔ القاعدہ سے وابستہ گروپوں نے بھی شامی باغیوں کی پیٹھ پر خنجرگھونپا ہے۔ وہ ان کی توجہ اپنے فرائض سے دوسری جانب مرکوز کر رہے ہیں اور ان کے لیڈروں کو ہدف بنا رہے ہیں۔

اگرچہ باغیوں نے اسدی فورسز کو کمزور کردیا تھا اور رواں سال کے اوائل میں وہ انھیں شکست سے دوچار کرنے کے قریب تھے مگراس دوران ایرانی، روسی، حزب اللہ کے جنگجو اور عراقی ملیشیائیں بشارالاسد کی مدد کو آئیں۔ انھوں نے خلا کو پُر کرنے کے لیے ہزاروں تربیت یافتہ جنگجوؤں کو شام بھیج دیا اور ان کی مدد سے شامی رجیم اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

اس صورت حال میں یہ کوئی حیران کن امر نہیں جب کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ یہ شامی انقلاب کا اختتام ہے اور یہ اپنی تدفین کا منتظر ہے۔ اس عقیدے کو بشارالاسد اور ان اتحادی پروپیگنڈے باز بھی بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور وہ باغیوں کے برسرزمین نقصانات اور حزب اختلاف کے درمیان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔

اسکیلوں کا مڑنا

یہ درست ہے کہ شامی باغی بحران میں ہیں اور وہ پیش رفت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے کہ اسد رجیم جیتنے کی پوزیشن میں ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ ان کی فورسز نے اپنے چھینے گئے علاقے باغیوں سے دوبارہ واپس لے لیے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ باغی مشکل حالات کے باوجود غیر متزلزل ہیں اور انھوں نے گذشتہ سال شام کے جن شمالی، جنوبی اور مشرقی علاقوں پر قبضہ کیا تھا، وہ ابھی تک ان کے کنٹرول میں ہیں۔

ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شامی رجیم کی مدد کے لیے بھیجے گئے ہزاروں تربیت یافتہ جنگجوؤں کی آمد کے باوجود باغیوں کی صلاحیتوں پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور نہ وہ کم زور ہوئے ہیں۔ اس بھاری اسلحی اور افرادی مدد کے باوجود اسد رجیم جنگ کو حتمی طور پر ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور وہ اس بھرپور مدد کے باوصف میدان جنگ میں نمایاں کامیابیوں کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ القصیر پر اس کا کنٹرول اس کی بڑی کامیابی گردانا گیا ہے لیکن رجیم حمص، حلب، ریف، دمشق اور درعا میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس نے ان شہروں پر جنگی طیاروں، ٹینکوں اور توپوں سے بمباری اور گولہ باری کی اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا لیکن وہ فیصلہ کن کامیابیوں میں ناکام رہا۔ طاقت کے اس بے مہابا استعمال کے باوجود محض چند ایک چیک پوائنٹس اور قصبوں پر قبضہ بعد میں اس کی ناگزیر شکست کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت بشارالاسد کا شام کے قریباً چالیس فی صد حصے پر کنٹرول ہے اور یہ کوئی جامع کنٹرول نہیں ہے۔ تو پھر ان کے خلاف طاقت کے توازن کو کیسے تبدیل کیا جاسکے گا؟ خاموشی سے جو کچھ رونما ہو رہا ہے اور کئی ماہ کے مباحثوں اور مذاکرات کے بعد اہم کامیابی یہ ہے جو انقلاب کے حق میں جنگ کے توازن کو تبدیل کردے گی کہ انھوں نے (حزب اختلاف نے) سیاسی ڈھانچے کی تشکیل مکمل کر لی ہے اور اس کو اس انداز میں توسیع دی گئی ہے کہ اب شامی قومی اتحاد تمام شامیوں کے لیے ایک کونسل بن جائے گا۔

اس سے ان لوگوں کا انجام یقینی ہوگیا ہے جو خود کو مٹائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ شامی انقلاب کو ایک اور صومالیہ اور افغانستان بننے سے بچانے کے لیے اس وقت باغی فوجی قوتوں کو منظم کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے اور ان کو جہادی گروپوں سے الگ تھلگ کیا جارہا ہے۔ اسد رجیم کے خلاف یہ ہے شامی انقلاب۔دوسرے ایجنڈے رکھنے والے القاعدہ اور النصرۃ محاذ ایسے گروپوں کو انقلاب کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ چنانچہ اس طرح وہ ممالک جو جدید ہتھیار بیچتے ہیں اور جنھیں یہ خوف لاحق ہے کہ یہ ہتھیار ان گروپوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو مستقبل میں ان کے سفارت خانوں کو اڑائیں گے اور ان کے مسافر طیاروں کو گرائیں گے، ان کے لیے بھی باغیوں کو جدید ہتھیاروں سے لیس نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں رہے گا۔

شامیوں نے شام اور مغرب کے لیے خطرے کا موجب بننے والی طوائف الملوکی کو درست کردیا ہے لیکن باغیوں میں دراندازی کرنے والے گروپوں کو الگ تھلگ کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔

اب باغیوں نے جدید ہتھیار وصول کرنا شروع کردیے ہیں۔ اس معاملے پر نظر رکھنے والے ایک مبصر کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کو ایک مرحلے پر نوفلائی زون کے قیام کی ضرورت نہیں رہے گی، باغی جنگجو اسد رجیم کے جیٹ طیاروں کے لیے خطرے کا موجب بن جائیں گے اور وہ ایک مرتبہ پھر دارالحکومت دمشق کا محاصرہ کر لیں گے۔

اس سیاسی کام میں شریک ایک شخص نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مغربی ممالک اپنے عوام کو جو کچھ سمجھا رہے ہیں، اس سے قطع نظر وہ ایک فریق بن چکے ہیں اور انھوں نے باغیوں کو اسلحہ اور معلومات فراہم کرنا شروع کردی ہیں۔ ان صاحب کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک بشارالاسد اور روس پر تنازعے کے سیاسی حل کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس سیاسی حل کے تحت موجودہ شامی رجیم کو مکمل طور پر تبدیل کردیا جائے گا۔ اس طر ح تنازعے کا خاتمہ روسی، ایرانی حل کے مطابق نہیں ہوگا جو بشارالاسد کی جلاوطنی کے تو حق میں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سکیورٹی، فوجی اور مالیاتی اداروں کا کنٹرول شامی رجیم کے ہاتھ ہی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

حرف آخر۔ میرا اب بھی یہ خیال ہے کہ روس اور ایران بشارالاسد کو جوکچھ دے رہے ہیں اور مغربی ممالک باغیوں کو اپنے جدید ہتھیار مہیا نہ کرنے پر جو اصرار کررہے ہیں، اس سے قطع نظر یہ بالکل ناممکن ہے کہ شامی انقلاب الٹی چال چل پڑے۔ جو ہوچکا ہے، وہ ہوچکا ہے۔ اگر رجیم اپنے اقتدار کو بچانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو وہ صرف اپنے فرقہ وارانہ زونز ہی میں زندہ رہ سکے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.