بی بی زینب اور خالد بن ولید کے مزارات پر بمباری

طیبہ ضیاء چیمہ
طیبہ ضیاء چیمہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں خانہ جنگی کے دوران نواسی رسول بی بی زینب بنت علی رضی اللہ عنھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نڈر صحابی و سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے روضہ پر بمباری امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلانیہ جنگ کی دعوت ہے۔ بی بی زینب بنت علی رضی اللہ عنھا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام میں دلیری اور جرات مندی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، ان عظیم ہستیوں کے مزاروں پر بمباری کا مقصد مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے۔ یہودیوں کی سازش کا ایک اور وار منظر عام پر آ گیا۔ کرائے کے دہشت گردوں کی مدد سے اسلام کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کا مقصد مسلمانوں میں اشتعال پھیلانا ہے۔ عراق اور پاکستان کے بعداب شام میں فرقہ واریت کی فضاء قائم کی جا رہی ہے۔ دشمنان اسلام امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے کے لئے گھٹیا حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ امت میں انتشار اور اشتعال کے لئے کبھی توہین آمیز خاکے بنائے جاتے ہیں، کبھی قرآن پاک کے نسخے جلائے جاتے ہیں، کبھی مساجد، امام بارگاہوں، درگاہوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، کبھی مسلمانوں کا قتل عام کرایا جاتا ہے اوراب محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گوشہ جگر بی بی فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنھا کی صاحبزادی اور نواسی رسول بی بی زینب رضی اللہ عنھا کے روضہ مبارک کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ابھی صدمہ تازہ تھا کہ صحابی رسول اور نڈر سپہ سالار اسلام کے روضہ مبارک اور ملحق مسجد کو بھی شہید کر دیا گیا ہے۔

شام کی بڑھتی ہوئی خانہ جنگی کے باعث مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ مسلمانوں میں تفرقہ اور نفرت پھیلانے کے پیچھے اسلام دشمنوں کا ہاتھ ہے۔ یہ وہی اسلام دشمن ہیں جن کے آباﺅ اجداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچایا کرتے تھے، آپ کے صحابہ کو تشدد کا نشانہ بنایا کرتے تھے اور آپ کے اہل بیت کو تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے۔ یہ انہی منافقوں کی نسلیں ہیں جو کبھی یہودی کہلایا کرتے تھے اور کبھی نصاریٰ کہلاتے تھے۔ ان دشمنوں کی سازشوں کا ذکر قرآن پاک کے ہر صفحے پر موجود ہے۔حمص شہر میں باغیوں کی بمباری سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مزار مکمل شہید ہو گیا ہے جبکہ شام کے دارلحکومت دمشق میں راکٹ حملوں سے سیدنا بی بی زینب رضی اللہ عنھا کے روضہ مبارک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے آپ کا جسد خاکی نکالنے کی سازش کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے حکمران نورالدین زنگی کو خواب کے ذریعہ یہودیوں کی سازش سے خبردار کر دیا۔ نورالدین زنگی کی زیرک منصوبہ بندی نے اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے یہودیوں کی سازش کو بے نقاب کر دیا۔ یہ اسلام دشمن بھی پرانے ہیں اور ان کے ارادے بھی پرانے ہیں۔ یہودی کی چالیں بدستور جاری ہیں البتہ آج مسلمانوں میں کوئی نورالدین زنگی موجود نہیں۔ دشمنان اسلام مقدس مزارات کو ہی منہدم کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان میں مقدس ہستیوں کے جسد خاکی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ آج نام نہاد مسلمان حکمران صرف مذمتی قرار دادیں اور بیانات جمع کروا سکتے ہیں، سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کی ہمت نہیں رکھتے۔

شام کے مسلمان رو رہے ہیں کہ نواسی رسول اور صحابی رسول کے مزاروں پر بمباری ہوئی، اب ہم روز آخرت خدا و رسول کو کیا منہ دکھائیں گے۔ مقدس ہستیوں کے مزارات کی بے حرمتی صہیونی مہم کا حصہ ہے۔ عظیم سپہ سالار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مزار گیارویں صدی جبکہ اس سے ملحق مسجد تیرویں صدی میں تعمیر کی گئی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے شام کو فتح کیا تھا اور ان کا وصال حمص میں ہوا تھا۔ سپہ سالار اسلام اور نڈر نواسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جرات کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔

نبی زادی نے اپنے وقت کے یزید کے سامنے کلمہ حق کہہ کر جراتمندی کی مثال قائم کر دی۔ دربار یزید میں بی بی رضی اللہ عنھا کا خطاب پڑھیں تو لگتا ہے کہ یہ بے باک خطاب دور حاضر کے یزید کے لئے فرمایا گیا تھا۔ نڈر باپ کی نڈر بیٹی اور شہید کی بہن حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنھا یزید کے دربار میں پہنچی تو آپ نے سورة الرّوم کی آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ”آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں، ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لئے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے“۔ اور پھر گرجدار لہجہ کے ساتھ یزید سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا ، اے یزید! یہ تو زمانے کا انقلاب ہے کہ مجھے تجھ جیسے شخص سے بات کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ دراصل تو رب ذوالجلال کے اس فیصلے کو بھول بیٹھا ہے کہ ”جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقینََا اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر رہے ہیں، ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔ یہ ڈھیل جو ہم انہیں دئے جاتے ہیں. اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے“۔ اور پھرسیدہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا، اے یزید! یہ چند روزہ زندگی کی عیش ہے، تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی بساط جلد الٹنے والی ہے اور پھر تمہیں شہیدوں کے لہو کا حساب دینا ہو گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی خواتین کو قیدی بنا کر اور ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے تم سمجھتے ہو کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہو؟ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم نے ہم پر غلبہ پا لیا، دنیا فتح کر لی، اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو گئے، تو یہ تمہاری بھول ہے۔

یاد رکھو ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اور نواسہ رسول رضی اللہ عنہ شہید کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ ہوں۔ میرے خاندان نے جھکنا نہیں سیکھا۔ اے یزید! افسوس ہے تم پر ،تم نے اپنے لئے بڑا ظلم کمایا ہے ۔۔۔ ! یزید کا ظلم آج بھی جاری ہے البتہ نام اور چہرے بدل گئے ہیں۔ شہدا کربلا کا خون بہا امت پر قرض تھا کہ مقدس مزارات پر بمباری کے شرمناک واقعات بھی رونما ہونے لگے۔ یہ امت روز حشر اپنے رب کے سامنے کیا منہ لے کر جائے گی، خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے والے مظالم کی داستان کہاں تک سنائے گی اوراگر آقا نامدار محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا کہ تم میرے پیاروں کی قبروں کی حفاظت بھی نہ کر سکے تو اے مسلمانو ! پھر یہ منہ لے کرکہاں جاﺅگے ؟

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں