کیا اسرائیل اور حزب اللہ کو یورپی یونین کا پیغام مل گیا

اوکتاویہ نصر
اوکتاویہ نصر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یورپی یونین (ای یو) نے اسرائیل کے بازو مروڑ دیے ہیں اور اس ملک کو وہاں نشانہ بنایا ہے ،جہاں سب سے زیادہ تکلیف ہو: یعنی معیشت۔ یورپی یونین نے اس کو سرکاری اور مستقل بنا دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس کی یہودی بستیوں کو ریاست اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدوں سے نکال دے گی۔

یورپی یونین نے یہ اقدام کرکے تسلیم کرلیا ہے کہ یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور اس طرح اس نے اسرائیل کے ان علاقوں میں قابض کے کردار کو نمایاں کردیا ہے۔اگر اسرائیل رقم کا خواہاں اور آزاد تجارت کے معاہدے چاہتا ہے تو پھر اسے ان شرائط سے اتفاق کرنا پڑے گا۔

اس فیصلے سے یورپی یونین کے اسرائیل کی موجودہ حکومت کے فلسطینی تنازعے سے متعلق معاملہ کاری کے بارے میں تزویراتی اور غیر معذرت خواہانہ انداز میں عدم اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔اگرچہ ای یو کا اعلان متوقع تھا اور بہت سے تجزیہ کاروں نے اس کی ناگزیر آمد پر خبردار بھی کیا تھا ،لیکن اسرائیلی سیاست دان ابھی تک صدمے میں ہیں کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ان میں سے بہت سوں نے وہی فارمولا بیانات جاری کیے ہیں جو ماضی میں تو کام کرتے رہے تھے لیکن اس مرتبہ نہیں۔

وزیراعظم نیتن یاہو یہ کہتے ہوئے ای یو کے موقف پر برس پڑے ہیں کہ ''ہم اپنی سرحدوں کے بارے میں کسی غیرملکی کو ڈکٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے''۔ان کے اس باغیانہ بیان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔سوائے اس کے کہ اس کی صدائے بازگشت ان کے اپنے ملک کے اندر ہی تحلیل ہوکررہ گئی ہے اور امن عمل کو آگے بڑھنے کا موقع مل گیا ہے۔


اس کے بعد یورپی یونین نے حزب اللہ کے عسکری ونگ کو دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے۔اس کا پیغام واضح ہے اور اس کے لب ولہجے کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔بازو مروڑنے کے برعکس بعض سپن ڈاکٹرز یہ کہنے کی کوشش کررہے ہیں ای یو نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قراردے دیا ہے لیکن بالکل ایسا نہیں ہے کیونکہ ای یو نے حزب اللہ اور اس کے عسکری ونگ میں فرق کردیا ہے۔

سفارتی زبان میں یہ امتیاز اچانک اکٹھے رونما ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ای یو حزب اللہ ،اس کے حامیوں بشمول لبنانی حکومت ،بشارالاسد کے شامی رجیم اور ایران کو ایک پیغام دے رہی ہے۔یہ ایک منفرد موقع ہے اور شاید اپنی نوعیت کا واحد موقع ہے کہ حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کو پھینک کر عالمی برادری میں شمولیت اختیار کرسکتی ہے اور غیر فوجی طرز عمل اختیار کرکے وہ فعال بن سکتی ہے۔اس وقت حزب اللہ لبنانی حکومت کا حصہ ہے اور اس کے سیاسی منظرنامے میں مرکزی کھلاڑی ہے۔اب اس کے لیے موقع ہے کہ وہ قانونی شرکت کے ذریعے ایک نئے روپ میں سامنے آئے کیونکہ اس کی فوجی سرگرمی اس کو آگے نہیں لے جائے گی بلکہ مزید تنہا کردے گی۔(امریکا اور یورپی یونین حزب اللہ کے عسکری ونگ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں)

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے ایک طویل عرصہ قبل اپنے راستے کا انتخاب کیا تھا اور اس مرحلے پر تبدیلی کے لیے وہ بہت زیادہ کوشاں ہیں۔اب یورپی یونین کا دباؤ کیا کام کرے گا،وہ یہ کہ گروپ کے اندر دراڑ آجائے گی یا پھر تنظیم کے اندرایک طویل عرصے سے موجود عدم اتفاق کی دراڑیں مزید گہری ہوجائیں گی۔جیسا کہ یہ تنظیم ایرانی ایجنڈے اور اب اسد ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ماضی میں انھوں نے اپنے ہی لوگوں پر ہتھیار اٹھا لیے تھے اور اب شامی عوام ان کا ہدف بن گئے ہیں جبکہ اس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ ''غداروں'' اور ''دہشت گردوں'' کے خلاف لڑرہے ہیں۔

یورپی یونین کو یہ ظاہر کرنے میں بڑا وقت لگا ہے کہ اس کا مشرق وسطیٰ امن عمل میں کردار ہے اور وہ دیانت دارانہ طور پر ایک بروکر کا کردار ادا کرسکتی ہے۔امریکا ہمیشہ اس کردار کو ادا کرنے کا خواب دیکھتا رہا ہے لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

اگر حزب اللہ کے سرحد پار حملے جاری رہتے ہیں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یورپین یونین لابی گروپوں پر دباؤ میں کمی لائے گی یا وہ ''عسکری ونگ'' کی تمیز کو ختم کردے گی۔

تاریخ اور وقت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ جو لوگ مشرق وسطیٰ میں امن کے خلاف ہیں،وہ بہت بلند آہنگ ،زیادہ متشدد اور زیادہ مہلک ہیں۔ احترام ان کے لیے ہے جو تمام تر دھمکیوں اور چیلنجز کے باوجود امن کے لیے کام کر رہے ہیں۔

(ترجمہ: امتیازاحمد وریاہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوکتاویہ نصر ایوارڈ یافتہ لکھاریہ ہیں۔ وہ سی این این کی مشرق وسطیٰ امور کی سنئیر ایڈیٹر رہ چکی ہیں۔ وہ روایتی میڈیا میں سوشل میڈیا کے استعمال کے بانیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے سہ 1990ء میں سی این این کو جوائن کیا تھا لیکن انھیں 2010ء میں حزب اللہ کے رہ نما محمد فضل اللہ کی وفات پر ٹویٹر پر تعزیتی نوٹ لکھنے پر برطرف کردیا گیا تھا۔ مس نصراب اپنی فرم ''بریجز میڈیا کنسلٹنگ'' چلاتی ہیں۔ اس کا بڑا مقصد کمپنیوں کی سوشل نیٹ ورکس کے بہتر استعمال میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ ان سے ٹویٹر پر اس ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
Twitter: @octavianasr

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size