.

”فور سٹار ہیلتھ پلازوں“ کا گھناؤنا کاروبار

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرا ذہن ٹھکانے پر اور اعصاب قابو میں نہیں آرہے ،قابو میں آہی نہیں سکتے، معاملہ ہی کچھ ایسا ہے۔ منگل23جولائی کی سہ پہر کو میں نے اپنے گھرانے کے ایک صرف چار دنوں کی عمر کے خوبصورت بچے کی نماز جنازہ پڑھی اور اسے قبر کی مٹی کے حوالے کیا۔ اپنی زندگی کی آٹھ دہائیوں میں اتنی چھوٹی عمر کے بچے کی تجہیز و تکفین میں کبھی شریک نہیں ہوا تھا۔ ذہن اور اعصاب کو برباد کرنے والا المیہ یہ اذیتناک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی اگر قدرت کی سب سے بڑی نعمت ہے تو اس نعمت کا کفران بھی سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہونا چاہئے مگر لوگوں کے علاج معالجے کے نام پر”ہیلتھ پلازے“ چلانے والوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے کہ وہ اگر انسانی زندگی کے تواتر اور تسلسل کا کاروبار کر رہے ہیں اور لاکھوں کروڑوں کی کمائی کررہے ہیں تو ان کے پاس انسانی زندگی کو بچانے کے لئے ضرورت آلات اور مشینری کیوں نہیں ہے؟اس لازمی مشینری کے بغیر وہ یہ کاروبار کیسے جاری رکھ سکتے ہیں؟”فور سٹار ہیلتھ پلازے “کیسے اور کیوں چلا رہے ہیں؟

میرے گھرانے میں چار بچیوں کے بعد پیدا ہونے والے ا س بچے نے بھی ایک ا یسے ہی ہیلتھ پلازے میں اپنی انتہائی مختصر زندگی کی پہلی سانس لی اور ایک ایسے ہی ہیلتھ پلازے میں آخری سانس لے کر اس دنیائے رنگ و بو سے رخصت ہوگیا جس ہیلتھ پلازے میں اس بچے نے پہلی سانس لی اس میں اس بچے کی سانس کا سلسلہ جاری رکھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ریس پریٹر، انکوبیٹر اور وینٹی لیٹر بھی میسر اور موجود نہیں تھا اور حیرت ہونی چاہئے کہ ان لازمی آلات کی عدم موجودگی میں اس”ہیلتھ پلازے“ کو لاکھوں کروڑوں کا کاروبار شروع کرنے اور جاری رکھنے کی اجازت کس نے دی؟ اور جس نے یہ اجازت دی وہ گزشتہ بارہ پندرہ سالوں سے اس نام نہاد ہسپتال میں موت کے گھاٹ اترنے والے بچوں اور ان کی ماؤں کی موت کا ذمہ دار ہونا چاہئے یا نہیں؟ اور یہی وہ سوال ہے کہ جس کی وجہ سے میرا ذہن ٹھکانے پر اور اعصاب قابو میں نہیں آرہے اور کیا کوئی شخص اس بچے کی ماں کے دکھوں کو اپنے ذہن اور دماغ کے احاطے میں لے سکتا ہے جو خود بھی ایک لیڈی ڈاکٹر ہیں۔

جس”فور سٹار ہیلتھ پلازہ“ میں میرے گھرانے کے بچے نے جنم لیا وہ اپنے جیسے درجنوں”فور سٹار ہیلتھ پلازوں“ میں شامل ہے جہاں بچوں کی زندگی بچانے کے لوازمات اور لازمی آلات اور مشینری موجود اور میسر نہیں ہے۔ ایک اور معاملہ بھی فوری توجہ کا طالب ہے کہ جب سے لاہور کے ایک فور سٹار ہیلتھ پلازا میں ایک بچی کی فوتیدگی پر قانونی کارروائی ہوئی ہے ایسے تمام”پلازے“ اس کوشش میں مصروف ہوگئے ہیں کہ وہ نوزائیدہ بچوں کی وفات اپنے پلازہ کے احاطہ میں نہ ہونے دیں چنانچہ وہ جب یہ دیکھتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پلازے میں کوئی بچہ قدرت کی سب سے بڑی نعمت یعنی زندگی کو جاری نہیں رکھ سکے گا اسے فوری طور پر کسی دوسرے ہسپتال لے جانے کامشورہ دیں گے اور اس مشورے میں یہ بہانہ بھی شامل ہوگا کہ اس ہسپتال میں ریس پریٹر، وینٹی لیٹر اور انکوبیٹر موجود ہیں جن کی بچے کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی اور ”پلازہ“ سے وفات پانے کے لئے بھیجا گیا ہوا بچہ دوسرا”پلازہ“ قبول نہیں کرتا۔ وطن عزیز میں صحت کے معاملات کی ”گڈ گورننس‘ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فیصل آباد شہر میں ساٹھ کی تعداد کی ”دائیاں“ اس صنعتی شہر کے مختلف محلوں میں پندرہ سولہ نقلی اور محض دکھاوے کے ہسپتال چلارہی ہیں جہاں کے کمروں میں ہسپتال کے”سیٹ “لگائے جاتے ہیں اور بچے پیدا کرنے کے بہانے بچوں اور ان کی ماؤں کو”ذبح“ کیا جاتا ہے، کیا گڈ گورننس کا دعویٰ کرنے والے اس الزام کی تحقیقات کرسکتے ہیں یا اس افواہ کو بے بنیاد ثابت کرسکتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.