.

میدان نہ چھوڑیں

اثر چوہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ "ن" کے چیئرمین راجا ظفراُلحق کی درخواست پر صدارتی انتخاب 6اگست کے بجائے 30جولائی کو کرانے کا حُکم دِیا ہے۔ راجا صاحب نے یہ موقف اختیار کِیا تھا کہ 6اگست کو لگ بھگ 30ارکان پارلیمنٹ اعتکاف میں بیٹھنے اور عُمرے کے لئے سعودی عرب میں ہوں گے ۔آئینِ پاکستان اسلامی عقائد اور عبادات کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے۔ ریاستی مذہب اسلام ہے۔ توقع ہے کہ100سے زیادہ ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی 6اگست کو صدارتی انتخاب میں حَصّہ نہیں لے سکیں گے اِس لئے صدارتی انتخاب 6اگست کے بجائے29جولائی کو کرایا جائے“۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کی روشنی میں الیکشن کمشن کو صدارتی انتخاب کا شیڈول تبدیل کرنے کی ہدایت کی اور انتخاب کی تاریخ 30 جولائی مقرر کر دی۔

راجا ظفر اُلحق کی درخواست نیک نیتی پر مبنی تھی اور سُپریم کورٹ کا فیصلہ بھی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ماضی کی طرح ،اِس بار بھی بہت سے ارکانِ پارلیمنٹ و اسمبلی ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں عُمرے کے لئے سعودی عرب جا رہے ہیں اور مسجد بنوی میں اعتکاف پر بھی بیٹھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب اصحاب نہ صِرف اپنوں کے لئے بلکہ پاکستان کے استحکام اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے بھی دُعائیں کریں گےیہ الگ بات ہے کہ خانہ کعبہ،مسجدِ بنوی اور عیدین پر پاکستان کی مسجدوں میں مانگی جانے والی ہماری دُعائیں قبول نہیں ہوتیں اگر قبول ہوتیں تو بہت پہلے عالمِ اسلام میں اتحاد ہو جاتا اور فلسطین اور کشمیر کے مسلمان بھی آزادی سے ہمکنار ہو جاتے ۔بہر حال گذشتہ 5سالوں میں پاکستان میں جو کُچھ ہُوا اور ا بھی تک اُس کے اثرات بھی باقی ہیں مُلک اور قوم کو عبادت گزار لوگوں کی دُعاﺅں کی بے حد ضرورت ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین نے سُپریم کورٹ کے فیصلے کو یک طرفہ قرار دیا ہے اور یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ۔”پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ بھی کر سکتی ہے“۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو یامحترمہ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو شاید پیپلز پارٹی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی نہ دیتی ۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو تو اِس بات کا کریڈٹ لیا کرتے تھے کہ ۔” مَیں نے پہلی مرتبہ ،پاکستان میں ۔” وزارتِ مذہبی امور“ قائم کی “۔جناب بھٹو اپنے اقتدار کے آخری دَور میں پہلے سے زیادہ۔”مذہبی“ ہو گئے تھے ۔ موصوف نے شراب پر، پابندی لگا دی تھی اور ہفتہ وار چھُٹی اتوار کے بجائے جمعہ کو کر دی تھی اور بڑے فخر سے یہ اعلان بھی کِیا تھا کہ ۔” مَیں نے لاہور میں دربار حضرت داتا گنج بخش ؒ کا دروازہ سونے کا لگوا دیا ہے“۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ این ۔آر ۔او کے بعد جب وطن واپس آئیں تو لاڑکانہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے انہوں نے اعلان کِیا تھا کہ ۔” مساواتِ محمدی ہماری معیشت ہے“۔ حالانکہ جنابِ بھٹو نے 30نومبر 1967ءکو پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام پر جو منشور جاری کِیا تھا، اُس کا تیسرا راہنما اصول یہ تھا کہ ” سوشلزم ہماری معیشت ہے“۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو مذہب سے اِس قدر لگاﺅ تھا کہ ہر وقت اُن کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی تھی ۔ مختلف نیوز چینلوں پر صدر زرداری کو بھی کئی بار ہاتھ میں تسبیح پکڑے دِکھایا جاتا رہا ہے۔

صدر زرداری سے لے کر ڈاکٹر جہانگیر بدر تک جناب ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے ” شہید “ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں پھر سُپریم کورٹ نے ( بقول راجا ظفر اُلحق)۔ اگر ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں سعودی عرب جانے اور مسجدِ بنوی میں اعتکاف کرنے کے خواہشمند ارکان ِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے صدارتی انتخاب کی تاریخ 6 اگست کے بجائے 30جولائی مقرر کر دی ہے تو واویلا کیوں؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار میاں رضا ربانی نے سُپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ۔” مَیں چند دنوں میں اسلام آباد اور مُلک کے چاروں صوبوں کے ووٹروں ( ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی)۔سے کیسے رابطہ کروں؟“۔ حالانکہ میاں رضا ربانی تمام ووٹروں کے لئے نئے نہیں ہیں ۔انہوں نے آئین میں ترامیم کے سِلسلے میں جو کردار ادا کِیا، ہے ۔اُن کے نظریاتی مخالف بھی اُن کے معترف ہیں سوائے سردار لطیف کھوسہ کے ،جنہوں نے کہا تھا کہ ۔” میاں رضا ربانی نے آئین کا بیڑا غرق کر دِیا ہے“ ۔

مولانا فضل الرحمٰن کو ابھی تک وزیرِاعظم نواز شریف کی طرف سے” ہدیہ تعاون “۔ کا صِلہ نہیں مِلا چنانچہ سب سے پہلے مولانا صاحب نے یہ آواز بلند کی کہ” کیوں نہ صدر متفقہ طور پرمنتخب کِیا جائے؟“اُس کے بعد ، کسی زمانے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں یکساں طور پر ”محبوب“۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی الیکٹرانک میڈیا پر میاں رضا ربانی کو ،متفقہ صدر یا ۔”فرینڈلی صدر“۔ منتخب کرانے کے لئے ، لابی شروع کر رکھی تھی ،لیکن بات نہیں بنی۔اِس لئے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قائدین کے دِلوں میں اب ایک دوسرے کے لئے احترام نہیں رہا اور نہ ہی وہ نئے سِرے سے” فرینڈلی “ہونا چاہتے ہیں۔ شاعرِ سیاست نے کہا کہ ۔۔۔
” ناکام ہو گئی ہے مہارت فرینڈلی
بوسیدہ ہو گئی ہے عمارت فرینڈلی
دونوں طرف دِلوں میں دراڑیں ہیں بے شُمار
ہے اِک خیالِ خام صدارت فرینڈلی

سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں عددی اکثریت تو مسلم لیگ ن کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو میاں رضا ربانی کو مَیدان میں اُتار کر ہارنے کی رسم ادا کرنی ہے۔ ممکن ہے صدر زرداری نے سات سمندر پار سے میاں رضا ربانی کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے کی ہدایت کی ہو اور انہیں بھی میاں صاحب میں وہ خوبیاں دِکھائی دے رہی ہوں جن کا چرچا محترم اعتزاز احسن کر رہے ہیں لیکن انہیں میاں صاحب میںیہ خوبیاں اُس وقت نظر کیوں نہیں آئی تھیں جب وزیرِاعظم یا چیئرمین سینٹ منتخب کرانے کا وقت تھا میاں رضا ربانی کو تو محض قُربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے حالانکہ چند دِن بعد عیدالفطر ہے ۔عید الاضحی نہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنا سارا دَور سُپریم کورٹ کے خلاف مزاحمت میں گزارا ،جس کا انہیں صِر ف اتنا فائدہ ہوا کہ عوام کے مسائل حل نہ کرنے کا بہانہ ملتا رہا لیکن اب تو اوپر سے لے کر نیچے تک پارٹی کے قائدین کے محاسبے کا وقت ہے ۔ بہتر ہے ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ مَیدان نہ چھوڑیں! ۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.