.

میں ہوں ایک جنگی مجرم

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وارث میر سمیت سابق مغربی پاکستان کے چند شہریوں کو بنگلہ دیش کا اعلی سرکاری ایوارڈ دینے کا مطلب یہی تھا کہ اب سابق مشرقی پاکستان کے چند شہریوں کو بنگلہ دیش کی سنگین تریں سزائیں سنائی جائیں گی۔

1971 میں مشرقی پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے۔ متحدہ پاکستان کی افواج کی آئینی ذمے داری تھی کہ وہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے فریضہ ادا کریں۔ خطرہ سرحد پار سے تھا۔ کلکتہ میں مکتی باہنی کے ٹریننگ کیمپوں میں بھارتی فوج ایسے لوگوں کو جنگی تربیت دے رہی تھی جو پاکستان کو توڑنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے۔ یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا تھا، محض بلیم گیم نہیں تھی۔ بھارت اور مکتی باہنی کے ارادے ہر ایک پر عیاں تھے، اندرا گاندھی پوری دنیا کا دورہ کر کے اپنی ممکنہ جارحیت کے لئے عالمی رائے عامہ ہموار کر رہی تھیں۔

مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج نے شر پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تو مغربی پاکستان سے اکثریتی مینڈیٹ لینے والے پیپلز پارٹی کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ شکر ہے پاکستان بچ گیا۔اور جماعت اسلامی اور اس کی دو تنظیموں البدر اور الشمس نے مسلح افواج کے شانہ بشانہ پاکستان کی بقا کے لئے جانیں قربان کیں۔ ان میں سے جو بچ گئے ، وہ آج بنگلہ دیشی حکومت کے غضب کا شکار ہیں ، انہیں موت کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں یا عمر قید میں ڈالا جا رہا ہے۔ان کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگی جرائم کی بہر حال یہی سزا ہے جو بنگلہ دیشی عدالتوں کو دینی چاہئے اور جن لوگوں کو یہ سزائیں مل رہی ہیں ، وہ ہنسی خوشی ان سزاﺅں کو قبول کر رہے ہیں۔

میں پروفیسر غلام اعظم کے نوحہ خوانوں میں اپنا شمار نہیں کرانا چاہتا۔ میں بھی مشرقی پاکستان میں ہوتا تو انہی جرائم کا ارتکاب کرتا اور یہی سزائیں بھگتتا۔ اوراب ایک سابق مغربی پاکستانی کی حیثیت سے میں اپنے فارن آفس کی اس پالیسی کی حمائت کا اعلان کرتا ہوں کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم اس میںمداخلت کا حق نہیں رکھتے۔پاکستان میں پہلے ہی بہت زیادہ انتشار ہے، میں اس میں اضافہ کرنے کے حق میں نہیں۔یک جہتی، اتحاد اور تنظیم کے نعرے سے سبق یہ ملتا ہے کہ میں بلند آواز سے کہوں کہ ہمارے فارن آفس نے حق سچ کی ا ٓواز بلند کی ہے۔

ہماری یک جہتی میں پہلی دراڑ کب پڑی ، جب قائد اعظم نے فوج کو حکم دیا کہ وہ کشمیر پر بھارتی فوجی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے مگر فوج کے انگریز سربراہ نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ جبکہ بھارت کے انگریز فوجی سربراہ نے اپنی حکومت کے حکم کی سرتابی نہیں کی اور کشمیر کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔

ہمارے ہاں فکری انتشار بڑھتا ہی رہا، آج یہ اپنے کلائمیکس پر ہے۔ بحیثیت قوم ہمارا کوئی قبلہ نہیں ، کچھ لوگ امریکہ کی بالا دستی چاہتے ہیں اور کچھ چین اور ایران کی مدد سے ہمیں شیر بننے کے لئے اکسا رہے ہیں۔وار آن ٹیرر میں ہمارے پچاس ہزار افراد کام آئے، ان میں ہمارے بیٹے، بھائی، باپ، بہنیں ، مائیں سبھی شامل ہیں، فوجی جوان اور افسر بھی شامل ہیں، ہم نے کبھی تردد نہیں کیا کہ کہ ان کے جنازوں میں شرکت کریں۔ فکری انتشار کی وجہ سے ہم اپنے پیاروں کی لاشیں رات کی تاریکی میں دفن کرنے پر مجبور ہیں۔

ہماری کسی اعلی تریں عدالت نے کبھی دہشت گردی کا سو موٹو نوٹس نہیں لیا، اگر لے لیا ہوتا تو کم ازکم قوم پر واضح ہو گیا ہوتا کہ ہمیں اس جنگ میں کس کا ساتھ دینا ہے، ہم اپنے کسی دشمن کا تعین کر پاتے، اب یہ دشمن بے نام ہے، بے چہرہ ہے، کوئی کہتا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی فروغ پذیر ہے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ جب سوات پر لشکر کشی کی گئی اور عورتوں پر کوڑے برسائے گئے تو کیا یہ ڈرون کا رد عمل تھا، کوئی نہیں بتاتا کہ داتا دربار اور بری امام کے روضے پر حملہ ہوتا ہے تو کیا یہ ڈرون حملوں کا رد عمل ہے اور کیا ڈرون ان مزاروں سے اڑتے ہیں ، کوئی نہیں بتاتا کہ ان دہشت گردوں کا مذہب کیا ہے ،کوئی کہتا ہے کہ وہ خالص اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں ،کوئی کہتا ہے کہ دہشت گردوں کی ایسی لاشیںملی ہیں جن کے خطنے نہیں ہوئے ، کوئی کہتا ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے سی آئی اے کے ریمنڈ ڈیوس جیسے گھس بیٹھئے سرگرم عمل ہیں ، کوئی نہیں بتاتا کہ نانگا پربت کی برفانی چوٹیوں پر کیوں خون بہایا گیا ، کیا یہ وزیر اعظم کے دورہ چین کو ناکام بنانے کی ایک کوشش نہیں تھی، انار کلی کے فٹ پاتھ پر دھماکے سے ایک ننھی جان کے ٹکڑے کیوں بکھرے۔

انتشار اور ایسا انتشار کہ ہم بلوچ انتہا پسندوں کے بارے میں یک سو نہیں ہیں۔ کوئی انہیں حریت پسند کہتا ہے، کوئی امریکی ایجنٹ قرار دیتا ہے، کوئی فوج کا دشمن جاں سمجھتا ہے ، کوئی پاکستان کے وفاق کے لئے انہیں خطرہ سمجھتا ہے۔کوئی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے حق میں ہے، کوئی نہیں بتاتا کہ بلوچستان میں قومی ترانہ گانے پر پابندی کیوں ہے، کوئی نہیں بتاتا کہ زیارت میں قائد ریذیڈنسی نے بلوچ حریت پسندوں کا کیا بگاڑا تھا۔ کوئی اپنی فوج کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے، کوئی لاپتہ افراد کے کھوج کے لئے فوج کی طرف انگلی اٹھا رہا ہے۔ ہزارہ آبادی نے کیا گناہ کیا ہے کہ ا سے آئے روز کوئٹہ میں خاک وخون میں نہلا یا جارہا ہے۔

ہمارا فکری انتشار بڑھتا جا رہا ہے، ایبٹ آباد کمیشن کی افشا شدہ رپورٹ کو ا چھال اچھا ل کرہم فوج کے خلاف اپنے غیظ و غضب کے اظہار میں ہر کسی پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر میں بے گناہوں کا خون کیوں کیا گیا، اس راز سے کون پردہ اٹھائے گا۔اور کراچی مقتل کا منظر کیوں پیش کر رہا ہے، کون جانتا ہے کہ کراچی کیوں مقتل بنا ہواہے، میرے جیسے بے فکرے کالم نگاروزیر اعظم پر چوٹ کرتے ہیں کہ ان کی ہنسی بند کیوں ہو گئی، یہ تو تب پتہ چلتا ہے جب انسان کے اپنے اوپر بلائیں امڈ آئیں۔


بنگلہ دیش نے تو پاک فوج کے حامیوں کو موت کی سزائیں سنا دیں اور پاک فوج کے مخالفوں کو اعزازات سے نواز دیا۔اور یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے،ہم اس بکھیڑے میں کیوں پڑیں۔

مجھے ڈر ہے کہ پاک فوج کے موجودہ حامیوں پر جنگی جرائم کے مقدمے نہ قائم کر دیئے جائیں۔

میں اپنے آپ کو موجودہ پاکستان میں جنگی مجرم کے طور پر پیش کرتا ہوں ۔ کوئی صاحب میرے خلاف عدالت میں چلے جائیں ، میںاپنے گناہوں کا اعتراف کروں گا۔

آیئے سارے حساب چکا لیں۔ چھپ چھپ کر وار کیوں ۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.