.

متحارب ریلیاں مصر کو کہاں لے جائیں گی؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں اس کالم کو تحریر کرنے سے قبل اس بات کا انتظار نہیں کرسکتا تھا کہ قاہرہ میں کس نے زیادہ اجتماع اکٹھا کیا ہے۔ خواہ اخوان المسلمون ہو یا اس کے مخالفین، میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم سڑکوں پر لوگوں کی تعداد کے پیش نظر شہری حقوق یا ریاست کے فرائض کا اندازہ نہیں کر سکتے ہیں۔ مظاہرے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں حکمرانی کے لیے مینڈیٹ نہیں۔

جمع ہونے والے عوام زیادہ دیر نہیں رہیں گے کیونکہ بحران مظاہروں کی مسابقت کی دوڑ سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ مظاہرے مزید بد امنی کا دیباچہ ہیں۔ خاص طور پر اخوان کے بیانات اورافعال سے ظاہر ہے کہ اس کی قیادت زیادہ ریڈیکل ہوتی جا رہی ہے۔

اخوان المسلمون میں اعتدال پسند یا تو اپنی راہیں جدا کر چکے ہیں یا پھر وہ خاموش ہیں۔ اخوان کی ریڈیکل منتشر قیادت نے حکمرانی کا ایک سنہری موقع ضائع کر دیا ہے۔ اب یہ گروپ کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے اور دھمکی کے موڈ میں ہے۔ وہ یہ بھول رہا ہے کہ اس نے ایک سال تک مصر پر حکمرانی کی ہے۔ دراصل اس نے اس بات کا مظاہرہ کرکے کہ وہ جمہوریت میں یقین نہیں رکھتی ہے، ملک کی دوسری سیاسی قوتوں کو الگ تھلگ کر دیا ہے حالانکہ جمہوریت اس کو اقتدار میں لائی لیکن اس نے سیاسی تنوع کو مسترد کر دیا۔

تشدد کے خاتمے کے لیے سمجھوتا اور تعاون

مصر میں اختلاف سیاسی ہے اوراس کا پُرامن انداز میں اظہار کیا جا سکتا ہے۔ شاہراہوں پر تشدد کے بعد مصر کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کو کارروائی کے لیے عوام کے مینڈیٹ کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ریاست کی پہلی ذمے داری شہریوں کو کھانے سے پہلے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

عبوری حکومت کا بنیادی مقصد تشدد کا خاتمہ ہے، خواہ سیاسی ہو یا مجرمانہ محرکات کا حامل۔ تشدد کے تمام واقعات ایک ہی طرح کے ہیں۔منصورہ میں کار بم دھماکا، سیناء میں فوجیوں کا قتل یا قاہرہ میں مظاہرین پر فائرنگ، یہ تمام مجرمانہ کارروائیاں ہیں۔

جو بات یقینی ہے۔ وہ یہ کہ اگریہ سب کچھ جاری رہتا ہے اور ہلاکتوں اور بم دھماکوں میں اضافہ ہو جاتا ہے تو عوام غم وغصے کا اظہار کریًں گے۔ اس سے فوج کو اضافی اختیار حاصل ہو جائے گا اور ممکنہ طور پر موعودہ سیاسی عمل مزید دس ماہ کے لیے تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔

اخوان المسلمون آیندہ چند روز تک اپنے مظاہرے جاری رکھے گی، انھیں اپنا وژن وسیع کرنا چاہیے اور انھیں ماضی میں وہ جو کچھ حاصل کرچکے ہیں، اس کا تحفظ کرنا چاہیے لیکن اس کے لیے انھیں اپنے نام کو تشدد اور تشدد انگیزی کے ساتھ جوڑنے کی اجازت نہِیں دینی چاہیے کیونکہ اس سے وہ نقصان میں رہیں گے خواہ ان کا موقف کچھ ہی ہو۔

ہمیں مصر کے بارے میں تشویش ہے اور یہ اخوان المسلمون یا سیاسی جدوجہد کی وجہ سے نہیں بلکہ انتہا پسند جنگجو قوتوں کی وجہ سے ہے۔ مصری انقلاب کے برپا ہونے کے بعد سے اپنی فطرت کے اعتبار سے ان بنیاد پرست مسلح گروپوں کو ملک میں کھلا چھوڑ دیا گیا یا وہ جیلوں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور وہ زیادہ فعال اور طاقتور بن گئے۔

یہ جنگجو قوتیں مرسی کی حکمرانی سے قبل، اس کے دوران اور بعد میں سیناء میں ہلاکتوں کی ذمے دار ہیں۔ وہ نہ صرف مصر بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان جنگجو قوتوں کے لیبیا، الجزائر، تیونس ،شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے بنیاد پرست گروپوں کے ساتھ تعلقات استوار ہیں اور وہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

اگر مصری فوج اور نئی حکومت ریلیوں کے ذریعے مصری عوام کو قائل کرنے مِیں ناکام رہتی ہیں اور اگر اخوان المسلمون مخالفانہ طرزعمل جاری رکھتی ہے تو مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات سے مصری عوام کو سیاسی تنازعے سے زیادہ سکیورٹی کے بارے میں تشویش لاحق ہو جائے گی۔

اخوان المسلمون اس وقت غیظ وغضب کا شکار ہے اور وہ ایسے کسی سیاسی منصوبے کو سبوتاژ کرنے کو تیار ہے جس سے انھیں دوبارہ اقتدار حاصل نہ ہوتا ہو۔ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہ درست ہے کہ انھوں نے اپنی حکمرانی کے بقیہ تین سال کھو دیے ہیں لیکن انھیں دوسری سیاسی جماعتوں ،سیاسی قوتوں اور فوج سے یہ یقین دہانی حاصل ہو گئی ہے کہ وہ سیاسی عمل کا حصہ ہوں گے۔ نئے انتخابات ان کی بقا کے ضامن ہوں گے کیونکہ ایسی کوئی اور جماعت نہیں ہے جس کو مکمل کامیابی کے لیے مناسب مقبولیت کی ضمانت کی ضرورت ہو۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ اخوان المسلمون کے پاس فاتح جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر واپسی کے لیے ایک بڑا موقع موجود ہے اور اگر وہ ووٹوں کی ایک بڑی شرح حاصل کرنے میں کامیاب نہیں بھی ہوتے تو پھر بھی پارلیمان میں ان کا کوئی وزن ہوگا۔ بدترین منظر نامے میں بھی وہ سیاسی ڈرامے کا حصہ ہوں گے جو اتحادوں کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔

ہمیں اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اخوان المسلمون دو سال قبل آرمی کی پسندیدہ ٹیم تھی۔ اب حل آیندہ انتخابات میں مضمر ہے جو شاید انھیں سیاسی منظرنامے میں رہنے کی امید دلا دیں اور ملک کو تشدد کے منحوس چکر کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔

(ترجمہ:امتیازاحمد وریاہ)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.