.

میاں نوازشریف کا پیغام

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افسوس کہ میاں نوازشریف تیزی کے ساتھ بارہ اکتوبر 1999ء سے قبل کے نواز شریف بنتے جا رہے ہیں۔ وہ اس سیاسی زعم کے شکار ہوتے جا رہے ہیں جس کے آصف علی زرداری ہو گئے تھے۔ قوم کی اکثریت نے عمران خان کے تبدیلی کے نعرے کی بجائے میاں نوازشریف کو اس امید کے ساتھ وزیراعظم منتخب کروایا کہ وہ بدل گئے ہیں لیکن وہ اپنی ترجیحات اور کارکردگی سے پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بدلے نہیں۔ قوم نے انہیں وزیراعظم پاکستان منتخب کیا لیکن ایسا تاثر پیدا ہوا ہے کہ وہ پاکستان کے کم اور پنجاب کے وزیراعظم زیادہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ چین کے ساتھ جو معاہدے ہونے جا رہے تھے، ان کا تعلق پنجاب سے کم جبکہ گلگت بلتستان اور بلوچستان سے زیادہ تھا لیکن ان محروم علاقوں کے وزرائے اعلیٰ کی بجائے چین میں وزیراعظم کے دائیں بائیں میاں شہباز شریف نظر آئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات ہوئی۔ عرض کیا کہ ڈیڑھ ماہ میں آپ اپنی کابینہ نہ بنا سکے تو صوبے کے پہاڑ جیسے مسائل کیسے حل کریں گے؟ کہنے لگے کہ تکمیل کابینہ کا خواب وزیراعظم کی مصروفیت کی وجہ سے شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء کا انتظار ہے اور اس کا فیصلہ اس جماعت کی قیادت نے کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات ہوئی۔ ان سے سوال کیا کہ مرکز کی طرف سے کیا امن وامان کے حوالے سے وزیراعظم یا وزیر داخلہ سے کوئی ملاقات ہوئی ہے؟ کہنے لگے کہ میری درخواست کو ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن وزیراعظم تو کیا کسی وفاقی وزیر نے بھی پشاور آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

دعویٰ معیشت کی بہتری کا ہے لیکن پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کراچی کا ابھی تک وزیراعظم نے کوئی دورہ نہیں کیا۔ باقی صوبوں کے گورنر محض آئینی سربراہ ہیں لیکن خیبر پختونخوا کا گورنر قبائلی علاقوں کا چیف ایگزیکٹو بھی ہوا کرتا ہے۔ پورے ملک میں لگی ہوئی آگ کی کڑیاں وہاں سے جا کر ملتی ہیں۔ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کی توجہ کا مرکز یہی علاقے ہونے چاہئیں لیکن وہاں پر گورنر کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ وہ شریف ہونے کے ساتھ ساتھ قبائلی بھی ہیں لیکن اقتدار کے آخری دنوں میں ان کی تقرری آصف علی زرداری نے کی تھی۔ اس لئے انتخابی نتائج کے آتے ہی یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ انہیں ہٹایا جا رہا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ جانے والوں کی کون سنتا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران ان کی وزیراعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ اب یا تو یہ اعلان ہونا چاہئے تھا کہ انہیں بحیثیت گورنر برقرار رکھا جائے گا یا پھر پہلی فرصت میں دوسرے گورنر کا تقرر ہونا چاہئے تھا لیکن نہ تو انہیں شرف ملاقات بخش کرمستقل کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے اور نہ نئے گورنر کا تقرر کیا جا رہا ہے۔

پنجاب جہاں گورنر کا کردار نمائشی ہے کی تو جلدی تھی اور اس کے لئے گورنر درآمد بھی کیا گیا، بلوچستان جہاں سیاسی مصلحت کا تقاضا تھا میں بھی نئے گورنر نے کابینہ (جس کی صوبے کو نئے گورنر سے زیادہ ضرورت تھی) سے پہلے حلف اٹھا لیا لیکن خیبر پختونخوا کے گورنر کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اگر صوبے کے مسلم لیگی قائدین میں سے کوئی پسند نہیں تو یہاں پر بھی باہر سے کسی خدمتگار کو درآمد کیا جاسکتا ہے۔ ویسے اقبال ظفر جھگڑا بھی ممنون حسین صاحب سے کم تابعدار نہیں اور جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے بھی ایک آدھ مرتبہ اٹک قلعہ میں ربڑی نہ سہی لیکن بہرحال کھانا بھجوانے کی سعادت حاصل کی ہے۔ کوئی اور قبول نہیں تو انہیں گورنر بنایا جا سکتا ہے۔ یقیناً بجلی بھی مسئلہ ہے اور مہنگائی بھی لیکن سب سے بڑا مسئلہ بدامنی اور دہشت گردی ہے۔

میاں نوازشریف سے توقع تھی کہ اپوزیشن میں ان کی خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کے تصورات راسخ ہو چکے ہیں اور اقتدار میں آتے ہی وہ اس جانب توجہ کریں گے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس طرف یکسو اور متوجہ نظر آ رہے تھے لیکن بجلی کی طرح ان کی وزارت کے مسئلے کو پوری حکومت کا مسئلہ بنانے کی بجائے اب انہیں بھی رحمن ملک کی طرح سیاسی کاموں پر لگا دیا گیا۔ پہلے کسی نادان مشیر کے مشورے پر آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان کیا گیا لیکن تیاری نہ ہونے کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔ نہ تو قومی سلامتی کے اداروں کے مابین کوآرڈینیشن کے لئے کوئی میکنیزم بنایا گیا، نہ طالبان کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کوئی روڈ میپ سامنے آیا اور نہ ہی بلوچستان کے قضیے کے حل کا لائحہ عمل سامنے آیا۔ رہا کراچی تو اسے قائم علی شاہ صاحب کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

دوسری طرف الٹے سیدھے بیانات کی وجہ سے اور میاں صاحب کے بعض خاص بندوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے مفت میں فوج کے ساتھ بدگمانیاں جنم لے رہی ہیں۔ زرداری حکومت کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ان کو سرمایہ کار چلا رہے ہیں، اب میاں صاحب کی حکومت میں بھی بہت سے سرمایہ دار مختار بن گئے ہیں۔ زرداری صاحب کے دوست تو پھر بھی سرکاری خزانے سے براہ راست مستفید نہیں ہو رہے تھے لیکن ان سرمایہ داروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ نہ صرف اہم تقرریاں ان کی منشا سے ہو رہی ہیں بلکہ انہیں براہ راست سرکاری خزانے سے بھی مستفید کیا جا رہا ہے۔ وفاقی کابینہ اصلاً ایک صوبے کی کابینہ نظر آ رہی ہے۔ قبائلی علاقوں کی دو نشستوں پر مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کے باوجود یہ علاقے کابینہ میں نمائندگی سے محروم ہیں۔

میں نے کابینہ میں پختون وزیرکی عدم موجودگی کا سوال اٹھایا تو سرتاج عزیز صاحب کا نام لیا گیا حالانکہ کون نہیں جانتا کہ سرتاج صاحب پختونخوا نژاد لاہوری ہیں۔ تجربہ، قابلیت اور شرافت اپنی جگہ لیکن خیبرپختونخوا یا بلوچستان کے پختون بیلٹ میں ان کا کوئی حلقہ ہے اور نہ وہ وہاں رہتے ہیں۔ پھر مجھے کہا گیا کہ دوسرے مرحلے میں اتحادیوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی اور چھوٹے صوبوں کو بھی لیکن آج ایک بندے کیلئے حلف برداری کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے اور وہ ہیں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے قریبی عزیز جناب عابد شیرعلی۔ الیکشن کے ہوتے ہی حسب سابق پارٹی عضو معطل بن گئی ہے۔ کابینہ کے لئے نامزدگیاں ہوئیں لیکن سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ فیصلے پارٹی کے کس فورم نے کئے؟ پنجاب کے لئے گورنر کی درآمد کا فیصلہ ہوا لیکن پتہ نہیں پارٹی کے کس فورم نے اس کا فیصلہ کیا؟۔

صدارت کیلئے قرعہ فال ممنون حسین کے نام نکالا گیا لیکن کوئی نہیں جانتا کہ پارٹی کے کن لوگوں سے اس سلسلے میں مشاورت کی گئی؟ کچن کابینہ کے چند مخصوص لوگوں کے سوا پارٹی کے باقی تنظیمی عہدیدار کہیں نظر نہیں آتے۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر پیر صابر شاہ جنہوں نے بارہ اکتوبر کی بغاوت کے بعد محترمہ کلثوم نواز کو پشاور بلانے اور ان کے سرپر دوپٹہ رکھنے کا رسک لیا تھا، سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کو حکومتی معاملات سے اسی طرح بے خبر پایا جس طرح کہ ہم عام پاکستانی بے خبر ہیں۔ پہلے حکومتی مناصب کے لئے پارٹی ممبران اسمبلی چند مخصوص افراد کی منتیں کرتے رہے اور اب پارٹی رہنما ملاقات کے لئے مخصوص افراد کے ناز اٹھا رہے ہیں۔ کسی نے کیا خوب تبصرہ کیا کہ مار کھانے والے غائب ہوگئے اور مال والے نمودار ہوگئے ہیں۔ غوث علی شاہ، صدیق الفاروق اور اسی نوع کے دیگر وفادار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ نہ جانے میاں صاحب کے ارد گرد طارق عظیم، سردار یوسف ، زاہد حامد اور عبدالقادر بلوچ کو دیکھ ان بے چاروں کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟ مایوسی گناہ ہے۔

ہمیں اب بھی توقع ہے کہ میاں صاحب ان امور پر توجہ دے کر اصلاح کی کوشش کریں گے لیکن اگر معاملات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو خاکم بدہن بارہ اکتوبر1999ء کا وقت کسی اور شکل میں دوبارہ لوٹ سکتا ہے لیکن اگر خاکم بدہن ایسا ہوا تو اب کے بار میاں صاحب کے ساتھ وہ چند دانے بھی کھڑے نظر نہیں آئیں گے جو بارہ اکتوبر کے بعد ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔ اب کے بار قربانی دینے کی بجائے وہ وفادار بھی لندن میں ٹھکانے کا انتظام کریں گے، یا گھروں پر اچھی ربڑی بنانے کی پریکٹس کرتے رہیں گے یا پھرمشرف جیسوں کے دوست بن کر کسی حریری کا پائلٹ بننے کی کوشش کریں گے۔ ان کو پیغام مل گیا ہے کہ قدر قربانی اور وفاداری کی نہیں ان چیزوں کی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.