.

شجاعت عظیم اور چودھری محمد سرور

اثر چوہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے اوورسیز پاکستانی اچھے لگتے ہیں اِس لئے بھی کہ میرے 9 بچوں میں سے چار بیٹے، دو بیٹیاں اور اُن کے 10 بچّے بھی اُن اوورسیز پاکستانیوں میں شامل ہیں۔ امریکا ،کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم دوہری شہریت کے حامل میرے بیٹوں اور بیٹیوں نے مجھے بھی دوہری شہریت کے چکر میں پھنسانے کی کوشش کی لیکن اِس لئے ناکام ہو گئے کہ مَیں 1947ء میں مشرقی پنجاب کے تین شہروں میں اپنے خاندان کے 26 ارکان کی شہادتوں کو ہر دم یاد رکھتا ہوں۔ اوورسیز پاکستانی، پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں اپنے پیاروں کو، اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے، حِصّہ بھجواتے ہیں۔ (میرے بیٹے بھی مجھے''Father Tax'' دیتے ہیں)۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو اُنہی مُلکوں میں محفوظ سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے میری عُمر کے لوگوں کا جذبہ مختلف ہے۔ 21 دسمبر2001ء کو نیویارک میں میرا بڑا پوتا شاف علی چوہان، پیدا ہُوا تو مَیں نے ”میرا لہو امریکی ہو یا“ کے عنوان سے پنجابی میں نظم لِکھی اُس کا ایک بند تھا ۔۔۔

” امریکا، کینیڈا، یُو کے
لَے گئے، میرے لعل، دَھرُو کے
کِیہہ دسّاں؟ مَیں کِیہہ کُجھ کھویا؟
میرا لہو، امریکی ہویا“

کیا کِیا جائے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ ہُنرمندوں اور مزدوروں کی قدر وطنِ عزیز کی نسبت غیر ملکوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ مَیں اپنے”پار دیسی“ (پردیسی) بیٹے، بیٹیوں سے کہا کرتا ہوں کہ اب میرا اور تمہارا خُون کا رشتہ رہ گیا ہے یا فون کا!۔ جناب معین قریشی نگران اور جناب شوکت عزیز منتخب وزیرِاعظم رہے اور ہاتھ میں تھمائے گئے 'Script' کے مطابق اپنا کردار ادا کر کے واپس چلے گئے۔ جناب معین قریشی کو 30سال بعد وطن واپسی کے بعد فائدہ یہ ہُوا کہ اُن کا قومی شناختی کارڈ بن گیا اور لاہور میونسپل کارپوریشن کے ایک”مُحقق" نے ایک خستہ قبر کو Recondition کرا کے عرض کِیا کہ ”جناب وزیرِاعظم ! ۔یہ ہے آپ کی والدہ محترمہ کی قبر!“۔ پھر وزیرِاعظم قریشی نے، اُس قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ بھی پڑھی۔ کچھ بھی ہوجائے ہمارے اوورسیز پاکستانی والدین کی قبروں پر پھول چڑھانے کبھی نہ کبھی پاکستا ن میں اپنے آبائی گاﺅں یا شہر ضرور آتے ہیں۔ اِس موضوع پر میری ایک نظم کا شعر ہے ۔۔۔

” فُرصت مِلی تو باپ کے مرنے پہ آئے گا
تُربت پہ ماں کی پھُول چڑھا کر چلا گیا “۔

مَیں نے لِکھا تھا کہ کینیڈین شہری علّامہ طاہر اُلقادری 23 دسمبر2012ء کو لاہور میں مِینارِ پاکستان کے زیرِ سایہ اپنے جلسے میں اگر یہ اعلان کرتے کہ ”مَیں وطن واپس آ گیا ہوں اور آج سے، کینیڈین شہریت ترک کر رہا ہوں۔ میرا جِینا اور مرنا اب پاکستان میں ہو گا“۔ پھر وہ خود ساختہ ”شیخ اُلاسلام “ کے بجائے”شیخ العوام “ کہلاتے اور اپنی دیرینہ خواہش کے مطابق” قائدِ انقلاب“ بھی بن سکتے تھے۔ علّامہ القادری کو دوہری شہریت رکھتے ہوئے بھی سیاست میں مُنہ مارنے پر، سُپریم کورٹ میں بھی رُسوا ہونا پڑا پھر مُنہ چھپا کر بھاگنے کے سِوا اور کیا چارہ تھا؟۔

سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات و سینٹر جناب طارق عظیم کے بھائی (کینیڈین شہری) شجاعت عظیم بے شک (بقول اٹارنی جنرل آف پاکستان منیر اے ملک) وزیر ِاعظم نواز شریف کی پیشکش پر(وفاقی وزیر کے اختیارات کے ساتھ) اُن کے مشیر بن گئے تھے، لیکن انہیں پاکستان میں بدلے ہوئے حالات اور سُپریم کورٹ کے روّیے کو تو دیکھنا چاہیے تھا کہ اب آئینِ پاکستان کے تحت دوہری شہریت کے حامل کسی بھی شخص کا اہم حکومتی عہدے پر رہنا ممکن ہی نہیں رہا۔ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے لیکن کینیڈین شہریت نہیں چھوڑی۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں بعض ”ماہرینِ علوم و فنون “ پارٹی چیف کو یقین دلا دیتے ہیں کہ”کچھ نہیں ہوگا سر! اور اگر کچھ ہُوا تو ہم سب سنبھال لیں گے“۔

اب خبریں چھپ رہی ہیں کہ ”جناب طارق عظیم کو برطانیہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر بنایا جا رہا ہے“ اور اُس کے ساتھ یہ بھی کہ ”موصوف پاکستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے بھی شہری ہیں“۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ”اوجی! گل ای کوئی نئیں ہائی کمشنر کوئی وزیر یا مُشیر تو نہیں ہوتا “۔ جناب طارق عظیم ایک عرصہ برطانیہ میں رہے واپس آئے تو انہوں نے عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف میں ضرورت سے زیادہ ”سرمایہ کاری“کی لیکن پھر مسلم لیگ [ق] میں شامل رہے، اقتدار کے جھولے جھولے اور اب مسلم لیگ [ن] کی ہائی کمان میں ہیں مناسب یہی ہے کہ وہ برطانیہ میں ہائی کمشنر کا منصب سنبھالنے سے پہلے برطانوی دارالعوام کے سابق رُکن گلاسکو کے چودھری محمد سرور کی پیروی کریں اور برطانیہ میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے پاکستان میں سرمایہ کاروں کو لائیں چودھری محمد سرور کی طرح خود کو پاکستان کے لئے وقف کر دیں گے تو زیادہ عِزّت پائیں گے۔

کچھ حلقوں میں چودھری محمد سرور کو گورنر پنجاب بنائے جانے کا بُرا منایا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ”اگر پنجاب کا گورنر جنوبی پنجاب سے ہوتا تو وہاں عوام کے دُکھ دُور ہو جاتے“۔ سوال یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی، سیّد حامد سعید کاظمی اور مخدوم شہاب اُلدّین کا تو بال بال کرپشن میں لُتھڑاہُواہے کیا وہ جنوبی پنجاب سے نہیں تھے؟ اور اُن سے پہلے ملک غلام مصطفے کھر، نواب صادق حسین قرشی اور پھر مخدوم سجاد حسین قریشی نے جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے کیا کِیا؟۔ چودھری محمد سرور نے وعدہ کِیا ہے کہ "مَیں جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل بھی حل کر دوں گا“۔ انہیں اپنا یہ وعدہ پورا کرنے میں کوئی مُشکل پیش نہیں آئے گی۔ اِس لئے کہ شریف برادران، انہیں پنجاب کے عوام کی خدمت کے لئے ہی وطن واپس لائے ہیں۔ بے شک وہ آئینی گورنر ہوں گے لیکن محبت کی سیاست میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔ یقین کیا جا سکتا ہے کہ جِس طرح چودھری محمد سرور نے برطانوی حکومت اور پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے تعاون سے ہمارے زلزلہ زدگان اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے بھرپور کوششیں کی ہیں اُسی طرح جنوبی پنجاب سمیت پورے پنجاب کے عوام کی خوشحالی کے لئے بھی بھرپور کوششیں کریں گے ۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.