.

پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیوں کیا؟

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقتدار کا کھیل اعداد وشمار سے ہی جڑا ہوا ہے۔ یہ جمہوریت کا حسن بھی ہے اور انتقام بھی۔ اس کھیل میں عوام نفرت سے کسی کو اقتدار تک لے جاتے ہیں اور کسی کو عبرت بنا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ گیارہ مئی 2013ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہی ہوا، جو خلق خدا کو مسترد کر کے اپنے کھیل میں اتنی مصروف رہی کہ اب نیب، ایف آئی اے اور عدالتیں اسکا حساب کتاب لگا رہی ہیں۔ صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران جس انداز سے مہم جوئی کی گئی وہ بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ محض صدارتی انتخاب کی تاریخ تبدیل کرنے سے پیپلز پارٹی اس قدر خفا ہوئی کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن پر چڑھ دوڑی کہ انہیں شکست دینے کیلئے یہ تاریخ تبدیل کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت الیکٹورل ووٹ 119 ہیں۔ انکے اتحادیوں کو بھی ملا لیا جائے تو یہ تعداد دو سو سے آگے کسی صورت نہیں جا سکتی۔ اس لیے سینیٹر رضا ربانی کیلئے صدارت کی منزل تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ انتخاب کی تاریخ کے رد وبدل پر پیپلز پارٹی کا صدارتی دوڑ سے احتجاجا واک آئوٹ کرجانا درست فیصلہ نہیں۔ مسلم لیگ [نون] کے امیدوار کو شکست دینے کیلئے پیپلز پارٹی نے جو بھی امکانی منصوبے بنائے تھے وہ درست ثابت نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار جو قانون وآئین کے ماہر ہیں، نون لیگ کے ممنون حسین اور تحریک انصاف کے امیدوار جسٹس [ریٹائرڈ] وجیہ الدین سے بھی بہتر تھے تو اسکا فیصلہ عوام نے نہیں بلکہ 706 ووٹوں نے کرنا ہے جو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل الیکٹورل کالج ہے۔

پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ سے پہلے اپنے اندازوں کے برعکس انتخابی ماحول کو دیکھ کر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ ہلچل مچانے کی جو کوشش بھی کی وہ "فائر بیک" ہوگئی ہے۔ مسلم لیگ [ن] نے جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے پیپلز پارٹی کے گھر میں نقب لگائی اور ایک ہی جست میں ایم کیو ایم کے 48 ووٹوں کی حمایت حاصل کر کے نمبروں کے کھیل میں 400 کا ہندسہ عبور کرلیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بائیکاٹ کا حتمی اعلان متحدہ قومی مومنٹ کے مسلم لیگ کی جانب سرکنے کے بعد ہی کیا۔ اگر ہم 2007ء کے صدارتی انتخاب کی طرف دیکھیں تو پیپلز پارٹی نے 2007ء کے صدارتی انتخاب میں بھی دلچسپ کھیل کھیلا اور فرینڈلی اپوزیشن کا مظاہرہ سامنے آیا۔

پرویز مشرف کی صدارتی عہدہ کی مدت 15 نومبر 2007ء کو ختم ہو رہی تھی۔ آئین کے آرٹیکل [4]41 کے تحت لازم تھا کہ 15 ستمبر سے 15 اکتوبر کے درمیانی عرصہ میں صدارتی انتخاب لازم ہونا چاہیے۔ صدارتی انتخاب کیلئے 6 اکتوبر 2007ء کا دن مقرر تھا۔ ضروری تھا کہ مشرف کے مقابلے میں ایک ایسا امیدوار لایا جاتا جو ان کے صدر بننے کا راستہ روکنا اور انکی نااہلیت کا سوال سپریم کورٹ میں اٹھاتا۔ جسٹس [ر] وجیہہ الدین احمد وکلاء کے امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی نے امین فہیم کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم نے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔

متحدہ مجلس عمل نے، جسکی خیبر پختونخوا میں حکومت تھی، مولانا فضل الرحٰمن کی مخالفت کے باوجود فیصلہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی توڑ کر انتخابی کالج کو نامکمل کر کے مشرف کو صدر بننے سے روکیں گے۔ مولانا فضل الرحٰمن نے وعدہ کیا کہ کے پی 2 اکتوبر 2007ء کے اسمبلی توڑ دی جائے گی۔ اس طرح مشرف حکومت کو موقع مل گیا کہ وہ وزیرِ اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کردیں اور ایسا ہو گیا۔ اس طرح خیبر پختونخوا اسمبلی ٹوٹنے سے بچ گئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت پرویز مشرف سے ڈیل کر کے این آر او لے چکی تھی۔ اس ڈیل کے تحت پرویز مشرف نے صدر اور بینظیر بھٹو نے وزیرِ اعظم پاکستان بننا تھا۔ یہ آرڈیننس عین اس روز آیا جب 6 اکتوبر کو صدارتی انتخاب ہونیوالا تھا۔ چھ اکتوبر کے صدارتی انتخاب میں بائیکاٹ کے نعرے سے ہلچل تو مچی تھی لیکن پرویز مشرف کی کامیابی کا راستہ نہ روکا جاسکا اور مسلم لیگ [ق] نے وردی میں پرویز مشرف کو صدر بنانے کا وعدہ پورا کر دیا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 257 ، پنجاب اسمبلی کے 253، سندھ کے 102، بلوچستان کے 33 اور خیبرپختونخوا سے 31 ووٹ پرویز مشرف کو ملے۔ صرف خیبرپختونخوا ایسا حلقہ تھا جہاں سے پرویز مشرف کو کم ووٹ ملے۔ یہ صدارت ایک سال کے کم عرصہ پر محیط رہی اور 6 ستمبر 2008ء کو دوبارہ صدارتی انتخاب ہوئے۔

مسلم لیگ پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی حریف جماعت تھی، اسکو معلوم تھا کہ اسکے پاس عددی اکثریت نہیں ہے اور پنجاب سے ہی اسے زیادہ ووٹ ملنے کی توقع تھی۔ اسوقت پیپلز پارٹی کے پاس قومی اسمبلی کے 124، سینیٹ میں 9 ارکان تھے۔ صوبائی اسمبلیوں میں بھی اسکے پاس اکثریت نہیں تھی۔ پنجاب میں اسکے پاس 107، سندھ میں 93، بلوچستان میں 12 جبکہ خیبر پختونخوا میں 30 ارکان تھے۔ حکومتی سطح پر وفاداریاں تبدیل ہوئیں اور ووٹنگ سے پہلے ہی بہت سے ارکان کو اپنا ہمنوا بنا لیا گیا۔ 702 کے الیکٹورل ووٹوں میں سے آصف علی زرداری 481 ووٹ لے کر 12ویں صدر بنے تھے۔ انکی یہ کامیابی دو تہائی سے بھی زیادہ تھی۔ سعید الزمان صدیقی 153 ووٹ لے سکے۔ مشاہد حسین سید صرف 44 ووٹ لے سکے۔

تیس جولائی 2013ء کے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے اپنے امیدوار رضا ربانی کا اعلان کر کے دعویٰ کردیا کہ اسکے امیدوار کے پاس اکثریت ہے۔ اعداد وشمار کے جس کھیل کا ذکر کر کے اعتزاز احسن اور رضا ربانی صاحب کامیابی کا دعویٰ کر رہے تھے وہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 42 ہے جبکہ 2008ء میں یہ تعداد 123 تھی۔ اب سینیٹ میں اسکے پاس 39 ارکان ہیں۔ 2008ء میں یہ تعداد 9 تھی۔ 2013ء میں بلوچستان میں اسکا کوئی رکن کامیاب نہیں ہوا۔ گزشتہ انتخاب میں اسکے 12 ارکان تھے۔ سندھ میں اسکے پاس 35 ووٹ ہیں۔ 2008ء میں اسکو 65 ووٹ ملے تھے۔ پنجاب میں اسکا اب ایک ووٹ ہے۔ 2008ء میں آصف علی زرداری نے 21 ووٹ لیے تھے۔ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے پاس 2 ووٹ ہیں۔ سنہ 2008ء میں زرداری نے 56 ووٹ لیے تھے۔ مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کے پاس 119 ووٹ ہیں۔ اسکو کامیابی کیلئے 353 ارکان کی حمایت درکار تھی جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ عوام کی طرف سے مسترد کیے جانے کے تاثر کو زائل کرکے عوام میں پھر اپنی جگہ بنانے کیلئےسرگرم ہے۔

اعتزاز احسن نے بائیکاٹ سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اور تحریک انصاف ایک 'پیج' پر رہیں۔ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ اگر پیپلز پارٹی جسٹس [ر] وجیہہ الدین کو مشترکہ امیدوار بناتی تو متحدہ قومی موومنٹ اور مولانا فضل الرحمٰن تحریک انصاف کو کسی صورت میں ووٹ دینے کیلئے تیار نہ ہوتے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ تو بنایا لیکن بائیکاٹ کا راستہ اختیار نہ کیا۔ بائیکاٹ سے پیپلز پارٹی کی مایوسی سامنے آئی ہے جیسے وہ تنہا رہ گئی ہو۔ پیپلز پارٹی اور خاص طور پر میاں نواز شریف کی مہربانی کا رخ اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی کی طرف رہا ہے۔ پیپلز پارٹی ایسی رواداری ایک مہینہ بھی نہ دکھا سکی اور آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.