.

پاکستانی عوام سے سعودی عرب کا تعاون

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی عوام سے سعودی عرب کے تعاون کی تاریخ لا زوال، درخشندہ اور قابل فخر ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب قائد اعظم کی اپیل پر بنگال کے قحط زدہ مسلمانوں کی امداد کے لئے سعودی فرمانروا نے دس ہزار پاﺅنڈ کا عطیہ ارسال کیا اور یہ سلسلہ ایک قدرتی چشمے کی طرح ہر دم رواں دواں ہے۔ سعودی سفارت خانہ اسلام آباد نے ایک خط ایڈیٹر نوائے وقت کے نام ارسال کیا ہے جس کی کاپی مجھے بھی موصول ہوئی ہے۔ یہ خط میڈیا اور اطلاعات سیکشن کی طرف سے ہے، اس کا متن ملاحظہ فرمایئے:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!

حرمین شریفین کے خادم ملک کے سفارت خانہ کو چند نکات کی وضاحت مقصود ہے جو انیس جولائی کو شائع ہونے والے اسداللہ غالب کے کالم میں اٹھائے گئے ہیں۔
1۔ پہلے تو ہم اسداللہ غالب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب جیسے دو بردار ممالک کے مابین تعلقات کے فروغ کے لئے کوشش کی ہے
2۔ پچھلی حکومت کے دور میں ہمارے سفارت خانے کی طرف سے پاکستانی عوام کی معاونت کے لئے جو اقدامات کئے گئے، ان سے لوگ اچھی طرح آگاہ ہیں۔
3۔ سعودی عرب کی حکومت فرینڈز آف پاکستان کی سرگرم رکن ہے۔ اس لحاظ سے سعودیہ نے دوستانہ تعلقات اور مالی معاونت کے سلسلے میں کبھی یہ امتیاز ملحوظ نہیں رکھا کہ پاکستان میں کس کی حکومت ہے اور کس قسم کی حکومت ہے۔ سنہ 2009 میں ٹوکیو کی ڈونرز کانفرنس میں پاکستان کے لئے 700 ملین ڈالر کی امداد کا فیصلہ ہوا، سعودی عرب نے اس میں سے 200 ملین ڈالر اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں جمع کرا دیئے تاکہ پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے۔ جہلم میں ایک ہائیڈرو الیکٹریکل منصوبے کے لئے 300 ملین ڈالر کے قرضے کے لئے الگ معاہدہ کیا گیا۔
4۔ پاکستان کو 2011-12 کے سیلاب کی تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑا تو سعودی عرب نے سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے پانچ ہزار گھروں اور فاٹا کے متاثرین کے لئے ایک ہزار گھروں کی تعمیر کے لئے مالی معاونت کا اعلان کیا۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے سفارت خانے کا صوبائی حکومتوں سے مسلسل رابطہ ہے اور جیسے جیسے زمین مہیا کی جا رہی ہے، اس پر کام آگے بڑھ رہا ہے۔
5۔ سعودی عرب کی حکومت نے 2012 میں پاکستانی وزیر اعظم کے دورے کے وقت 100 ملین ڈالر کی گرانٹ کا وعدہ کیا، اس گرانٹ سے دونوں حکومتوں کے اتفاق رائے سے منظور ہونے والے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے جائیں گے۔ میڈیا سیکشن یہ توقع کرتا ہے کہ پاکستانی اخبارات ضروری معلومات براہ راست سعودی سفارت خانہ سے حاصل کر لیا کریں گے تا کہ کوئی اشتباہ پیدا نہ ہو اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں قربت اور گہرائی برقرار ہے۔ خط یہاں ختم ہو گیا اور سعودی سفارت خانے کا شکریہ کہ اس کی طرف سے ہر اس نکتے کی وضاحت سامنے آ گئی جو میں نے قارئین کے ردعمل سے اخذ کئے تھے۔

کالم نگار کی حیثیت سے میں نے عزت مآب سعودی سفیر کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے پس منظر میں دونوں ملکوں کے تعلقات پر روشنی ڈالی تھی۔ میں نے اپنے قلم کے ذریعے ہمیشہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین خیر سگالی کے لئے ہی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ حرمین شریفین کی سرزمین اور ان کی خدمت کا شرف پانے والی حکومت پاکستانی عوام کو بے حد محبوب ہے۔

پاکستان کے لوگ نہ صرف حج اور عمرہ کے لئے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں بلکہ روزگار کے لئے بھی وہاں موجود ہیں۔ نوے کے عشرے میں میرے ایک دوست احمد سعید چمن جدہ میں کسی سعودی کمپنی کے وائس پریذیڈنٹ تھے، وہ میرے گوررنمنٹ کالج کے ساتھی ہیں، اسحاق ڈار کے کلاس فیلو، پاکستان آتے ہیں تو ڈار صاحب یا میاں محمد نواز شریف کے دولت کدے پر قیام کرتے ہیں۔ میں جدہ میں ایک ماہ کے اندر دو مرتبہ ان کا مہمان بنا، زندگی کا پہلا عمرہ ان کے ساتھ کیا اور روضہ روسول ﷺ پر حاضری کا شرف بھی ان کی معیت میں حاصل ہوا۔ طائف میں جناب حسین احمد پراچہ نے میزبانی فرمائی۔ ایک ماہ میں دو مرتبہ مکہ اور مدینہ کا بلاوا میرے لئے ایسا اعزاز ہے جس پر کون ومکاں کی ہر نعمت قربان۔

میرا عقیدہ ہے کہ حرمین شریفین میں حاضری خصوصی بلاوے کے بغیر نہیں ہو سکتی اور یہ خدا کی ذات ہی ہے جو اپنے گناہ گار بندے کو مالی اور بدنی استطاعت عطا فرماتی ہے۔عمرہ اور حج کسی کے خرچ پر کرنا میرا شعار نہیں۔ یہ وہ عبادت ہے جسے انسان خود ہی سر انجام دے سکتا ہے۔ میری زندگی کی ایک خواہش ادھوری رہ گئی۔ میں چاہتا تھا کہ ہجرت کے سفر کا احوال اس طرح لکھوں جیسے یہ آنکھوں دیکھا ہو۔ اس کے لئے میں چاہتا تھا کہ اس راستے پر بار بار سفر کروں جس پر چل کر حضور ﷺ اور ان کے رفیق سفر سیدنا ابی بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ مکے سے مدینہ شریف پہنچے تھے۔ صد حیف! خدا کو یہ منظور نہ تھا اور میں اپنی یہ آرزو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا۔ میں نے اس کتاب کا نام بھی تجویز کر لیا تھا: محمد ﷺ کے نقش قدم پر۔

حرمین شریفین سے ہر مسلمان کی عقیدت ایک ابدی حقیقت ہے۔ اس سر زمین کو آنکھوں کے سامنے لانے والے جناب عظمت شیخ کا پہلا انٹرویو میں نے نوائے وقت کے لئے کیا۔ حرمین شریفین کی تصویر کشی تو برسوں سے ہوتی چلی آئی ہے لیکن عظمت شیخ کی عظمت یہ ہے کہ انہوں نے پہلی بار فضائی فوٹوگرافی کی۔ حرم کے اوپر کسی جہاز کو پرواز کی اجازت نہیں ہے لیکن عظمت شیخ کے لئے سعودی حکومت نے خصوصی اجازت مرحمت فرمائی اور یوں مسلمانان عالم کو ہر زاوئیے سے کعبتہ اللہ کو دیکھنے کو موقع مل سکا۔ عظمت شیخ کو اللہ نے بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا، اب وہ اللہ دا فقیر کی تختی لگا کر کلمہ چوک لاہور کے ساتھ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اب ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔ سعودی عرب کو اللہ نے بے حد نوازا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر موبائل فون پر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کا لائیو منظر نشر کر سکے۔ اگر وہ اس کے لئے ایک خصوصی سٹیلائٹ فضا میں چھوڑ سکیں جو تمام مقامات مقدسہ کے مناظر لائیو نشر کرتا رہے، تو کیا ہی کہنے۔ اس کے کیمرے کبھی غار حرا پر، کبھی غار ثور پر، کبھی بدر پر، کبھی احد پر، کبھی طائف پر، کبھی حنین پر مرکوز ہوتے رہیں۔ یوں حرمین شریفین کی سر زمیں کا ہر گوشہ اور ہر لمحہ ہر مسلمان کی آنکھوں کو تازگی، فرحت اور نور عطا کرتا رہے گا۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمارے مذہبی جذبات کی تسکین کا یہ سامان کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہو گا۔ پاکستان میں مامور سعودی سفیر محترم اور عزت مآب خادم حرمین شریفین کے لئے ایک بار پھر دلی دعائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.