نوازشریف کا دورہ امریکا؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک ملک کے داخلی محاذ پر ہی بری معیشت، بجلی کا بحران، کرپشن، بدانتظامی اور بے روزگاری کے مسائل میں ہی الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں آئندہ ستمبر میں نیویارک کے سفر کا پروگرام بتا دیا گیا ہے جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور خطاب کرنا ہو گا جو کہ بڑی حد تک اعزاز اور روایتی نوعیت کے قومی موٴقف پر مبنی تقریر پڑھنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر اوباما، افغان صدر حامد کرزئی، بھارتی وزیراعظم من موہن اور دیگر ممالک کے سربراہان مملکت، سربراہان حکومت اور وزرائے خارجہ کا ایک عالمی ہجوم بھی24 ستمبر کو اقوام متحدہ میں دیکھا جا سکے گا جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ ”سائیڈ لائنز“ پر دوسرے ممالک کے لیڈروں سے ملاقات ومذاکرات بھی کریں گے بہت سے اہم فیصلے اور اقدامات بھی ان دوطرفہ ملاقاتوں میں طے پائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے سب سے بڑے اور سب سے اہم مقرر یعنی امریکی صدر اوباما 24 ستمبر کی صبح ہی اپنی اہم تقریر کے ذریعے جنرل اسمبلی سیشن کی تھیم اور ٹون طے فرما دیں گے اور کئی سال تک مرمت، تعمیر اور تزئین کے کئی ارب ڈالر کے کام کے بعد بہتر شکل میں نظر آنے والی اقوام متحدہ کی عمارت میں دوسرے رکن ممالک کے سربراہان مملکت، حکومت اور وزرائے خارجہ باری باری اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے تقاریر کریں گے۔یہ دلچسپ تاریخی حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جس18 ایکڑ کے پلاٹ پر اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز سیکرٹریٹ کی عالمی شہرت یافتہ بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے وہ مالدار امریکی خاندان راک فیلر نے85 لاکھ ڈالر میں خرید کر اقوام متحدہ کی تعمیر کیلئے عطیہ کے طور پر دیا تھا کیونکہ اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کی تعمیر سے مستقبل کے معاشی، سیاسی اور عالمی فوائد سے آگاہ متعدد امریکی شہر اور کئی دیگر ممالک یواین ہیڈ کوارٹرز کی تعمیر اپنے ہاں کرنا چاہتے تھے۔ نیلسن اور جان راک فیلر نے 85 لاکھ ڈالر کی مالیت کا یہ پلاٹ عطیہ دے کر اپنی پراپرٹی سمیت نیویارک کو آنے والی نسلوں کیلئے عالمی اہمیت کا نیو یارک بنا ڈالا جہاں آج صرف اقوام متحدہ کے رکن ممالک اپنے سفارتی دفاتر، عملے کی رہائش، خریداری اور ضروریات زندگی پر ہر سال اربوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں باقی معاشی، سفارتی اور سیاسی فوائد علیحدہ ہیں۔ کاش کہ چند پاکستانی سرمایہ دار سیاستدان بھی راک فیلر جیسی سرمایہ دارانہ بصیرت سے پاکستانی سرزمین کے بارے میں کچھ ایسی ہی کاروباری سوچ اپنالیں۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جس پلاٹ پر اقوام متحدہ کی عمارت تعمیر ہوئی ہے اس پلاٹ پر جانوروں کو ذبح کرنے کا سلاٹر ہاؤس قائم تھا اب یہاں قائم اقوام متحدہ کانگو، بوسنیا، روانڈا، لیبیا، شام، عراق، افغانستان وغیرہ میں ہونے والی لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کو اپنے ایجنڈے کے مناسبت سے بڑھانے یا بند کرنے کے امور طے کرتی ہے جہاں بڑی طاقتوں کے ایجنڈے اور ضرورت سے مطابقت نہ ہو وہاں کشمیر اور فلسطین کے تسلیم شدہ عالمی تنازعات کے باوجود انسانی ہلاکتوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے لہٰذا سلاٹر کا کام جاری ہے۔

بہرحال اقوام متحدہ سے میری ابتدائی معلومات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف آئندہ ستمبر کے آخری ہفتے میں عالمی امن کی امین اسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور خطاب کیلئے نیویارک آنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جس دستاویز سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس میں اندراج صرف اور صرف پاکستانی سفارتی مشن کی درخواست سے ہی ممکن ہے لہٰذا اس دستاویز کے مطابق پاکستان کے سربراہ حکومت (وزیراعظم) 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے صبح کے سیشن میں 14 ویں مقرر ہوں گے جبکہ اسی روز سہ پہر کے سیشن میں بنگلہ دیش اور بھارت کے سربراہان حکومت بھی خطاب کریں گے۔

بہرحال پاکستان سفارتی مشن خاموشی اور احتیاط کے ساتھ حتمی انتظامات میں مصروف دکھائی دیتا ہے گو کہ وزراعظم نواز شریف اپنے سابقہ دور میں اقوام متحدہ بھی آچکے ہیں جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ نیویارک میں ہی امریکی صدر بل کلنٹن، بھارتی وزیراعظم سے ملاقات ومذاکرات کے علاوہ واشنگٹن میں کارگل بحران اور سرکاری دورہ کر کے مذاکرات کا تجربہ بھی رکھتے ہیں لیکن اس مرتبہ ماضی کے مقابلے میں حقائق، حالات اور تناظر بڑے مختلف اور خاصے ناموافق ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف سے یہاں ترک وزیر اعظم اور دیگر خوشگوار اور ملاقاتی بھی موجود ہوں گے لیکن امریکی صدر اوباما، بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ، افغان صدر حامد کرزئی بھی آئیں گے اور جن ملاقاتوں کیلئے سفارشی کوششیں جاری ہیں ان میں نواز، منموہن۔ نواز، حامد اور نواز، اوباما ملاقاتوں کی کوششیں سرفہرست نظر آرہی ہیں۔ موضوع گفتگو میں پاک بھارت تجارت وتعلقات، پاک افغان تعلقات بشمول طالبان بھارت کا افغانستان میں رول جبکہ امریکی افواج کا جاری انخلاء، پاکستان، افغان تعلقات، طالبان، دہشت گردی، انخلاء کے بعد والے افغانستان میں عالمی طاقتوں کے حمایت یافتہ علاقائی سپر پاور بھارت کا افغانستان میں اہم رول جبکہ بھارت ایک بھی گولی چلائے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تمام فوائد کا حقدار قرار دے دیا گیا ہے یہ تمام موضوعات ایسے ہیں جو واقعی پاکستان کیلئے انتہائی مشکل صورتحال پیدا کر چکے ہیں حتیٰ کہ اگلے سال کے افغان انتخابات میں بھارت کو ”اہم رول“ ادا کرنے کیلئے امریکی اجازت بھی حاصل ہے لہٰذا اس مشکل صورتحال میں پاکستان سے امریکہ، افغانستان اور بھارت کی جانب سے ”مطالبات“ بہت زیادہ ”مراعات“ قطعاً نہیں ہوں گی۔ پاکستانی معیشت اور داخلی کیفیت کے تناظر میں نتیجہ آپ اخذ کر لیں کہ ان مذاکرات میں کیا صورت ہو گی۔

ادھر سنا ہے کہ وزیراعظم کے بعض مشیروں اور مصاحبین کو اب یہ بات پسند نہیں کہ اپوزیشن کے ایام کی طرح اب نواز شریف عوامی حلقوں کے مشورے اور تجاویز سنیں یا ان پر دھیان دیں لیکن ملک بحرانوں کا شکار ہے اور کوئی بھی لاپروائی ملک کیلئے بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے ملکی مفاد سے برتر کوئی شخصیت ہے نہ مشیر نہ ہی مصاحب لہٰذا یہ کہنا بڑا ضروری ہے کہ نیویارک اقوام متحدہ کے اجلاس اور ان دوطرفہ ملاقاتوں کیلئے وزیراعظم نواز شریف نہ صرف بڑی تیاری کے ساتھ آئیں بلکہ پوری قوم کا اعتماد اور حمایت حاصل کر کے آئیں تاکہ جب ان کو ان ملاقاتوں میں دباؤ اور مطالبات کا سامنا ہو تو وہ اپنے ذاتی اقتدار کی پروا کئے بغیر قوم کے موٴقف کو اپنے ساتھ پائیں جب دوسروں کو بھی یہ معلوم ہو گا کہ نواز شریف کو پارلیمینٹ کی اکثریتی پارٹی کا ہی نہیں بلکہ تمام پارٹیوں کا مشورہ اور موٴقف وحمایت حاصل ہے تو پھر وہ بھی دباؤ ڈالنے سے پہلے سوچیں گے۔

نواز شریف خود کہہ چکے ہیں کہ وہ پارلیمینٹ میں موجود پارٹیوں کے لیڈروں سے قومی صورتحال پر مشورہ کرنے کو تیار ہیں۔ بہتر تو یہ ہو گا کہ وہ نیویارک آنے سے قبل دہشت گردی، امریکی انخلاء، افغان صورتحال، امریکی انخلاء کے بعد، پاک ۔ بھارت تعلقات اور پاک امریکہ تعلقات پر اور پارلیمینٹ کے باہر موجود اہم عوامل سے بھی مشورہ لیں حساس اداروں سے عملی اور دیانتدارانہ تعاون لے کر قومی موٴقف مرتب کریں۔ اعتماد، مضبوطی اور قومی حمایت یافتہ لیڈر کے طور پر بارک اوباما من موہن سنگھ اور حامد کرزئی سے نیویارک میں اگر ملاقات ومذاکرات کریں گے تو صورتحال آسان ہو گی۔ ایک اضافی مشورہ یہ بھی ہے کہ ہمارے محترم بزرگ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز اپنے دوست منصور اعجاز کے مشاورتی اثرات سے بچیں۔ ماضی میں وزیر خارجہ سرتاج عزیز کے قیام نیویارک کے دوران وزیر خارجہ کی متعدد انتہائی کانفیڈنشل فائلیں روز ویلٹ ہوٹل کی لابی میں اکثر دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھی جاتی رہی ہیں۔ اس خاکسار کی آنکھیں بھی گواہ ہیں بقیہ نقصانات کا اندازہ آپ لگا لیں۔ منصور اعجاز حسین حقانی تنازع کے نقصانات واثرات کا تو قوم کو بھی تجربہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں