.

صدارتی الیکشن کیا کھویا کیا پایا

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیز رفتار، اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ حکمران جماعت نے صدارتی انتخاب جیت لیا لیکن سیاسی مفاہمت کی کنجی اور اپنی کریڈیبلٹی بھرے بازار میں کھو دی۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرکے آنے والے دنوں میں محاذ آرائی اور سیاسی تصادم کے نئے دور کے آغاز کا پتا دے دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کھل کر عدلیہ کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے اور عمران خان انصاف کا ترازو ہاتھوں میں اُٹھائے ،کل تک جن کی زبان پر عدلیہ، عدلیہ کا ورد ہمہ وقت جاری رہتا ،آج اپنی انتخابی شکست کا ذمہ دار عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو علی الاعلان ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ گیارہ مئی کو شروع ہونے والا پراسس ایک تدریجی عمل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اگلا مرحلہ صوبوں کے گورنر ،مسلح افواج کے سپہ سالار اور عدلیہ کے سربراہ کی تقرری کا جلد آنے والا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے صدر کا انتخاب ہوچکا۔ اب حکمران جماعت کے سینکڑوں (کم از کم ایک سو) نیک طینت ارکان اسمبلی عمرے کے لیے روانہ ہوچکے ہوں گے۔ صدارتی انتخاب سے پہلے خبر آئی کہ درجنوں ارکان پارلیمنٹ ماہ صیام کی فیوض وبرکات سمیٹنے کے لیے کسی نزدیکی مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کے خواہش مند ہیں۔ لہذا نتخابات کی تاریخ 6 اگست سے تبدیل کرکے 30جولائی کردی جائے۔ تاکہ متقی اور پرہیزگار عوام کے خدام بغیر کسی خلل کے عبادات میں مشغول ہوجائیں۔ تاریخ حسب منشا ء تبدیل ہوئی اور صدارتی الیکشن کا کوہ گراں بھی آسانی سے سر ہوگیا۔ قومی اخبارات کے تجربہ کار ایڈیٹر صاحبان چاہیں تو اعتکاف میں بیٹھے عارضی گوشہ نشین ارکان پارلیمنٹ کی دس روزہ مصروفیات پر نہایت شاندار فیچر تیار کرا سکتے ہیں۔ ٹی وی چینلز کے اسائمنٹ ڈیسک کے ذمہ داران بھی اس موضوع پر قابل دید خصوصی پیکجز تیار کرا سکتے ہیں۔ جس میں پارلیمانی سیلبیریٹیز کی سحری و افطاری کی سرگرمیوں کو گرافکس اور بیک گراؤنڈ ایفیکٹس کے ساتھ دکھایا جا سکتا ہے اور نہیں تو او بی وینز کو مساجد کے باہر لگا کر ہر روز کسی ایک مخصوص وقت پر لائیو ہٹس بھی کی جا سکتی ہیں۔ ویسے تو اعتکاف میں بیٹھے فرد کے لیے دوران اعتکاف معمولات زندگی کی ادائیگی ،لوگوں سے ملنے ملانے اور غیر ضروری گفتگو کی ممانعت ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے معزز پارلیمنٹرینز سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے فالو اپ میں اعتکاف بیٹھے ہیں۔ لہذا توہین عدالت کا قانونی کارڈ استعمال کرکے ان کے منظر عام پر آنے اور گفت وشنید، آن کیمرہ ساٹ دینے کے لیے شرعی عذر بھی تراشا جا سکتا ہے۔ اخبارات اور چینلوں کے رپوٹروں کو اعتکاف میں بیٹھے گوشہ نشین سیاستدانوں کو تلاش کرنے کے لیے زیادہ زحمت نہیں اُٹھانا پڑے گی۔ موتمرعالم اسلامی کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق کے پاس اعتکاف میں بیٹھے جملہ مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ کی مکمل فہرست بمعہ متعلقہ مساجد کے پتے کے موجود ہوگی۔ آج اکیس رمضان المبارک ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جملہ شخصیات اپنی اپنی نزدیکی مساجد میں اعتکاف بیٹھ چکی ہوں گی دیکھتے ہیں کہ کونسا ٹی وی چینل پہل کرتا ہے۔

صدارتی الیکشن کا مرحلہ مکمل ہوا۔ سوداگرانِ پنجابی کے آگرہ سے ہجرت کر کے نئے ملک پاکستان آکر بسنے والے ’’ننھے میاں‘‘ ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر منتخب ہو گئے۔ ممنون حسین نے الیکٹورل کالج کے 432 ووٹ حاصل کیے جبکہ کراچی سے ہی تعلق رکھنے والے وجیہہ الدین کو77 ووٹ ملے۔ ممنون حسین کو سب سے زیادہ 277 ووٹ قومی اسمبلی و سینٹ سے ملے، پنجاب اسمبلی سے 54، سندھ اسمبلی سے 25، خیبر پختون خواہ سے 21 اور بلوچستان سے 55 الیکٹورل ووٹ ملے۔ یوں کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر، جوتا ساز فیکٹری کے مالک اور کپڑوں کے تاجر ممنون حسین شاہراہ آئین پر ایستادہ، سر بلند عمارت ،قصر صدارت میں سکونت کے اہل ہوگئے۔ ممنون حسین کو قصر صدارت میں منتقلی کے لیے ابھی مزید ایک مہینہ اور آٹھ دن انتظار کرنا پڑے گاکہ ایوان صدر کے موجودہ مکین آصف علی زرداری کی آئینی مدت میں ایک ماہ سے زائد کا وقت باقی ہے ۔ آٹھ ستمبر کی رات بارہ بجے آصف زرداری کی مدت ختم اور ممنو ن حسین نامزد صدر مملکت کے آئینی دور کا آغاز ہوچکا ہوگا۔ تب تک ملک میں ایک ہی وقت میں دو صدور موجود رہیں گے ۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں یہ ایک اور سنہرا لمحہ اورشبھ گھڑی ہے کہ اقتدار پر امن اور جمہوری طریقے سے ایک سویلین صدر دوسرے منتخب صدر کو منتقل کرے گا۔ ورنہ پاک سرزمین پر وزرائے اعظم کی طرح منتخب یا وردی کے زور پر قابض صدور کے الوادعی مناظر کبھی بھی خوش کن نہیں رہے۔ سکندر مرزا کو ایوب خان نے زبردستی رخصت کیا ۔ایوب اپنے تمام تر جاہ وجلال اور وردی کے طمطراق کے باوجود ایک نجس جانور کے ساتھ مماثلت کے توہین آمیز نعروں کی گونج میں ایوان صدر سے نکلا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار ملنے کے بعد عہدہ صدارت چھوڑ کر وزارت اعظمی سنبھالی اور آخر پھانسی کا پھندہ چوم کر امرہوگیا۔ ضیاء الحق وردی سمیت دس تک جونک کی طرح مملکت کے وجود سے چمٹا رہا اور آخر کار ایک فضائی حادثے کے نتیجے میں بستی لال کمال کی فضاؤں میں اپنے عزائم سمیت راکھ کی طرح بکھر کر رہ گیا۔ محکمہ مال کا ایک چھوٹے درجے کا اہلکار، غلام اسحق خاں ایک ایک زینہ طے کرتے آگے بڑھا ،محلاتی سازشوں کی آخری سیڑھی کو عبور کرکے عہدہ صدارت پر جاپہنچا۔ روباہ صفت غلام اسحق خاں نے اپنے بوڑھے ہاتھوں میں تھامے 58 ٹو بی کے تیز دھار بھالے سے تین اسمبلیوں کا گلا کاٹا۔ لیکن ایوان صدر سے یوں رخصت ہوا کہ صدارتی انتخاب میں تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کی لازمی شرط پوری کرنے کے لیے اپنے دو قریبی عزیزوں کے سوا کوئی ایک رکن پارلیمنٹ بھی نہ ملا۔ فاروق لغاری نے اپنی پارٹی سے دغا بازی کی اورمکافات عمل کے تحت اپنے مسلم لیگی اتحادیوں کی بے وفائی کا شکار ہوا اور چپ چاپ استعفی دے کر چوٹی زیریں کی مقامی سیاست میں دل لگا لیا۔ پرویز مشرف ،ایک اور قابض اور ناجائز حکمران ، امریکہ کا نان نیٹو اتحادی ،عدلیہ بحالی تحریک کا شکار بنا، ایوان صدر سے رخصت ہوا ،بیرون ملک پناہ لی، پاکستان کو اپنی چراگاہ سمجھ کر واپس لوٹا اور آج چک شہزاد کی فائیو سٹار جیل میں قید ہے۔ اسیری کے باوجود آج بھی اپنے دور اقتدار کی طرح عوام کے لیے آزار اور اذیت کا باعث ہے۔ موصوف کو پیشی کے لیے راولپنڈی لایا جاتا ہے تو ٹریفک کئی گھنٹے بند رہتی ہے ۔ شدید گرمی میں ٹریفک میں پھنسے عوام کے منہ ایسے پھول جڑتے ہیں کہ گالیاں بھی شرما کر منہ چھپا لیں۔ سو جس ملک میں سربراہان مملکت کو توہین آمیز طریقے سے دھکا دے کر نکالنے کی ایسی شرمناک تاریخ ہو ۔وہاں ایک صدر کی رخصتی اور دوسرے کی پر امن باعزت آمد ایک نیک شگون ہے۔ بس اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مملکت آصف زرداری چپ چاپ چھٹی پر جاتے ہیں یا اُن کو ایک جائز آئینی سربراہ مملکت کی طرح گارڈ آف آنر دے کر الوداع کیا جاتا ہے ۔

ممنون حسین صدر مملکت منتخب ہوگئے مجھے یقین ہے کہ اُن کی نامزدگی کے پس منظر میں اُن کا سیاسی، کاروباری، تعلیمی اور سماجی ریکارڈ ہی کارفرما رہا ہوگا۔ اُن کی نامزدگی میں قائد تحریک الطاف حسین کے خاندان کا آگرہ سے تعلق بروئے کار نہیں آیا ہو گا۔ نہ ہی ڈیڑھ برس پہلے پنجاب میں ہارٹ اٹیک کی ناقص ادویات سے ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ دارکمپنی ایفروز فارما کے مالکوں سے وابستگی اس سلسلے کی کوئی کڑی ہوگی۔ یقینی طور پر نہیں۔ دہی بڑوں، مٹن نہاری اور ربڑی کی کہانیاں زیب داستان کے لیے تراشی گئی ہوں گی۔ آخری نتیجہ یہ ہے کہ حکمران جماعت نے اپنا صدر منتخب کرا لیا۔ پنجاب کے درآمدی گورنر چودھری سرور آف گلاسگو کی عروج پر پہنچی ہوئی بے قراری و بے چینی ختم ہوئی اُن کی تقرری کی باقاعدہ سمری ارسال کی جا چکی۔ خیبر پختون خواہ کے گورنر کے لیے مہتاب عباسی اور اقبال ظفر جھگڑا کے درمیان ٹائی پڑی ہوئی ہے۔ سندھ کے گورنر کی تقرری کی راہ میں ایم کیو ایم کے ساتھ سیاسی اُلفت کے رشتے مزاحم ہوچکے ۔سپہ سالار کے تقرر کے لیے پس پردہ صلاح ومشورے جاری ہیں ۔ دورہ سعودی عرب اور عید کے بعد اس سلسلے میں پیش رفت متوقع ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.