عسکریت پسندی کیلئے عالمی برادری سے مدد لیں

عدنان عادل
عدنان عادل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایک طرف شمال مغربی قبائلی علاقے کے عسکریت پسند ہیں اور دوسری طرف عالمی برادری۔ پاکستان کو ان دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ دونوں کو ایک ساتھ راضی نہیں رکھا جا سکتا۔ اس بنیادی نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اُصول ہے کہ جب دو فریق بات چیت کی میز پر بیٹھتے ہیں تو کچھ لو ، کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے ہوتے ہیں۔ کسی سمجھوتہ پر پہنچنے کے لئے فریقین اپنی کم اہم شرائط سے تو دست کش ہوسکتے ہیں لیکن اپنے اہم ترین مفاد سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اگرحکومت قبائلی عسکریت پسندوں سے مذاکرات شروع کردیتی ہے تو امکانی منظرنامہ کیا ہوسکتا ہے۔ حکومت کا بڑا مطالبہ ہو گا کہ عسکری گروہ ملک کے اندر بم دھماکے، خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ بند کریں۔ فرض کیجئے وہ راضی ہوجاتے ہیں لیکن اُن کی بڑی شرط یہ ہوگی کہ پاکستان کی فوج اور پیراملٹری فورسز قبائلی علاقوں میں اُن کے خلاف کارروائیاں بند کرکے اس علاقے سے نکل جائیں۔ اگر حکومت یہ شرط تسلیم کرلیتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ عسکریت پسند فاٹا میں اپنی عملداری قائم کرلیں۔ اس عمل کے اندرون ملک اور بیرون ملک سنگین مضمرات ہوں گے۔

فاٹا کی صورتحال صرف پاکستان کا داخلی معاملہ نہیں ہے۔ پوری عالمی برادری کی نظریں اس خطے پر جمی ہوئی ہیں۔ دنیا میں نائن الیون سمیت دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے ان کے تانے بانے اس علاقہ سے جوڑے جاتے ہیں۔ غلط یا صحیح ، اس قبائلی علاقہ کوعالمی پریس دنیا بھر میں دہشت گردی کا مرکز یا ایپی سینٹر قرار دیتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے۔ اس ملک کے کسی کونے میں ایسے لوگوں کی عملداری عالمی طاقتوں کے لئے ناقابل قبول ہے جن کا نظریہ مروجہ عالمی اقدار سے متصادم ، انتہا پسندانہ اور تشدد پر مبنی ہے۔

اگلے روز نئی دلّی کے دورے پر آئے فرانس کے وزیر دفاع جین وئیس لی ڈریان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس معاملے پر جن خیالات کااظہار کیا اُن سے عالمی برادری کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ دہشت گردوں کی پاکستان میں موجودگی کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے بین الاقوامی نیٹ ورکس اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں،۔ فرانسیسی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ اس ملک میں جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں دہشت گردوں کی موجودگی فکر مندی کا باعث ہے،۔ فرانسیسی وزیر کے خیالات ایک ایسے ملک کے لئے چشم کُشا ہونے چاہئیں جس کی معیشت عالمی معاشی نظام سے گہری پیوست ہے۔ جو بیرونی دنیا سے ساٹھ ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ مالیت کی تجارت کرتا ہے۔ جس کے بیرون ملک مقیم شہری اُسے ایک سال میں چودہ ارب ڈالرکا زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ جس ملک کو اپنا بجٹ بنانے کے لئے عالمی مالی اداروں سے ہر سال تین سے چار ارب ڈالرلینے کی ضرورت پڑتی ہے۔

دوسری طرف، پاکستان کی داخلی صورتحال پر بھی عسکریت پسندوں سے کسی سمجھوتہ کا اثر یہ ہوگا کہ فرقہ وارانہ تنظیموں کو فاٹا میں محفوظ پناہ گاہیں اور مالی وسائل میسر آجائیں گے۔ ریاستی اداروں اور عام افراد پر حملے تو شاید رُک جائیں لیکن اقلیتی مسالک اور مذاہب کے لوگوں کے عدم تحفظ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ پارا چنار کی ہولناک خونریزی تو کل کی بات ہے۔ ایسے سیکڑوں سانحے گزر چکے ہیں۔ ملک کے اندر فرقہ وارانہ تشدد اور بدامنی قبائلی علاقوں میں عسکری گروہوں سے منسلک ہے۔ عمومی دہشت گردی تو چھ سال پہلے سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن کے بعد شروع ہوئی لیکن فرقہ وارانہ ہلاکتیں تو1990ء کی دہائی سے جاری ہیں۔ قبائلی علاقے فرقہ وارانہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں بن چکے تھے اور اب تک ہیں۔ یہ لوگ ان علاقوں سے اسلحہ حاصل کرتے اور اسے چلانے کی تربیت لیتے تھے۔

فاٹا میں انتہا پسند عسکری گروہوں کو کھلی چھوٹ دینے کا مطلب ہوگا کہ ملک میں موجود اقلیتی مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے کم سے کم تین کروڑ لوگوں کے جان و مال کو متشدد مسلح گروہوں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا جائے۔ یہ سوچنا بھی سادہ لوحی ہے کہ یہ گروہ زیادہ دیر فاٹا میں اپنی سرگرمیاں محدود رکھیں گے۔ ان کا آخری ہدف پورے ملک پر حکمرانی کرنااور اپنا نظریہ مسلط کرنا ہے۔ پاکستان کے اندر دیرپا امن وسکون اور عالمی برادری میں ملک کا اعتبار اور وقار اسی وقت قائم ہو گا جب تمام تر ریاستی قوت اور حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے قبائلی علاقوں پر حکومت کی عملدار ی قائم کی جائے۔ قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں لایا جائے۔ عسکریت پسندوں کو اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ حکومت کی رٹ کو چیلنج نہ کرسکیں۔ان میں اتنی طاقت نہ رہے کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل جیسا کوئی حملہ کرسکیں۔ اگر ان حملوں سے ڈر کر عسکریت پسندوں سے بات چیت شروع کی گئی تو ریاست کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی۔ افواج پاکستان تو مکمل فتح کے لئے پُرعزم ہیں ۔ گزشتہ چھ برسوں میں پانچ ہزار سے زیادہ فوجی جوان اور افسر انتہا پسندوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ سیاستدانوں کو البتہ یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔ بات چیت اس وقت مفید ہوگی جب ریاست کو عسکریت پسندوں پر واضح برتری ہوگی۔ ترقیاتی کاموں کا ثمر بھی تب ملے گا جب انتظام و انصرام آئین و قانون کے وفادار قبائلی عوام کے ہاتھ میں ہوگا۔

یہ سوچ درست نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال سے عسکریت پسندوں پر کنٹرول قائم نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ دس برسوں میں ہماری فوج اور پیرا ملٹری فورسز نے قبائلی علاقوں میں مختلف عسکری گروپوں کے خلاف خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ گروہ تمام قبائلی ایجنسیوں اور مالاکنڈ ڈویژن سے پسپا ہو کر شمالی وزیرستان اور چند مخصوص علاقوں تک محدود ہوگئے ہیں۔ مزید کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ حکومت فراخ دلی سے پاک فوج اور پولیس کو مزید وسائل، جدید ترین اسلحہ اور تربیت فراہم کرے۔ دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے فوج کی ایک نئی مخصوص کور بنائی جائے۔ انتہا پسندوں کے مخالف قبائلی عوام کا تعاون حاصل کرکے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں عسکریت پسندوں کے بچے کھچے ٹھکانے اور پناہ گاہیں بھی ختم کی جائیں۔

حالات ایسے ہیں کہ عالمی برادری بھی اس کام میں ہماری مدد کرے گی۔ ہمیں عسکریت پسندوں سے نپٹنے کے لئے امریکہ سے جدید ترین ہتھیار بشمول ڈرون طیارے اور رات کو دیکھنے والے ہتھیار طلب کرنے چاہئیں جن سے ہماری افواج کی عمومی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا ۔ اگر ہم اپنے قبائلی علاقہ کوعسکریت پسندوں سے پاک کرنے میں عالمی برادری کا ساتھ دیں تو بدلہ میں بہتر معاشی اورتجارتی سہولتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر اپنی سفارتی کوششوں کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس بین الاقوامی برادری کے تفکرات کو نظر انداز کرکے ہم ہر لحاظ سے گھاٹے میں رہیں گے۔ اندرون ملک بھی اور خارجی سطح پر بھی۔ قبائلی علاقوں کے عسکریت پسندوں سے بات چیت شروع کرنے اور کوئی سمجھوتہ کرنے سے پہلے ہمارے سیاستدانوں کو اس کے مضمرات کے بارے میں سوچ لینا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں