.

جیسمین منظور! گھر بیٹھو، سیاست، حکومت کو تمہاری ضرورت نہیں

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ التحریر سکوائر ہے ۔۔۔ تین جولائی کا تپتا ہوا دن ۔۔۔ لاکھوں سروں کا اک سمندر ہے جو دور تک دکھائی دیتا ہے۔۔۔ نعرے، آوازیں، شور، جو انقلاب، انقلاب کی صدائیں دے رہا ہے۔۔۔ پھر اک عجب تماشہ ہوتا ہے، انہی انقلابیوں سے اک جتھا اٹھتا ہے، اور ڈچ جرنلسٹ، جو کہ اپنے اخبار کی جانب سے یہاں رپورٹنگ کے لئے آئی ہے، اس کا گینگ ریپ کر ڈالتا ہے، لاکھوں انسانوں کے سامنے، دن دہاڑے اس روز اس کے علاوہ 22 گینگ ریپ ہوتے ہیں، جن عورتوں کو سرِعام، اس ظلم اور ذلت سے دوچار کیا جاتا ہے، بعدازاں، انہیں بری طرح زخمی حالت میں، ہسپتال لے جایا جاتا ہے ۔۔۔ جب وہ ایمبولینسوں پر لادی جا رہی ہوتی ہیں، تو انقلابیوں کی فلک شگاف آوازیں، ان کے پامال وجودوں میں نیزوں کی انی کی طرح پیوست ہو رہی ہوتی ہیں، ’’عورتوں کو گھروں میں بٹھاؤ، سیاست اور حکومت کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں‘‘۔

اسی پیغام کو آگے بڑھاتے ہوئے، انقلابیوں نے پچھلے ہفتے، اسی جگہ، یعنی التحریر سکوائر پر، مصری جرنلسٹ دنیا زکریا کا اسی انداز میں، گینگ ریپ کیا، جس انداز میں ڈچ جرنلسٹ اور دیگر خواتین کا کیا۔۔۔! فوج اور پولیس کی جانب سے، آپریشن، اینٹی Sexual ہراسمنٹ کے اعلان کے بعد، اتوار کی رات کو، وہاں 46 گینگ ریپ کی وارداتیں ہوئیں، اسی طرح سرِعام ۔۔۔ دن دہاڑے ۔۔۔ جس کے بعد ’’انقلابیوں‘‘ نے چیخ چیخ کر کہا، ’’سیاست اور حکومت کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں، تم لوگ اپنے گھروں میں بیٹھو۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟‘‘

یاد آتا ہے ۔۔۔ 2011ء میں جب حسنی مبارک کے خلاف التحریر سکوائر پر مظاہرے شروع تھے، لارا لوگن نامی، امریکن جرنلسٹ کو گینگ ریپ کے ذریعے، رپورٹنگ سے روکنے کا پیغام دیا گیا، اور اسے شدید زدوکوب بھی کیا گیا ۔۔۔ یہی پیغام، آج سے چند روز قبل مونا ایلیتھوے نامی جرنلسٹ کو بھی دیا گیا، جس نے بعد میں، بتایا کہ، یہ گینگ ریپ، مصری فوج اور پولیس کی ایما پر کرائے جا رہے ہیں، تاکہ عورتوں کو، ملک کی سیاسی فضا سے دور رکھا جا سکے، اور انہیں یہ پیغام پوری وضاحت سے دیا جا سکے کہ سیاست اور حکومت کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں، تم گھر میں بیٹھو۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟ جیسمین منظور۔۔۔

ہمارے ملک کی ایک نہایت معتبر، صحافی اور اینکرپرسن ہیں، نہایت بے باک اور دبنگ انداز میں، صحافت کرنے والی، لال مسجد کی رپورٹنگ، جیسمین کے کیریئر کا گرچہ ابتدائی دور تھا، مگر جس جرأت اور بے باکی سے، جیسمین نے لال مسجد میں شہید ہونے والی بچیوں کے بارے میں، چھان بیان کی، اور معاملے کی تہ تک پہنچنے کے لئے، جان جوکھوں میں ڈال کر، رپورٹنگ کی، اس کے بعد، اس کا اعتبار مزید قائم ہوتا گیا۔۔۔اپنے شو میں حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش اور جارحانہ انداز میں سوالات کرنے والی جیسمین نے پچھلے دنوں، کچھ پروگرام، کراچی کی صورت حال پر کئے، اور اپنے مخصوص انداز میں کئے۔۔۔ ان میں سے ایک پروگرام مجھے بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس کے آخری حصے میں، بچوں کو اغوا کرنے والے ایک گینگ کو پکڑوانے کے بعد، جیسمین جذباتی ہو گئی، اور اس نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا، میں ان مجرموں کو سزا دلوا کر رہوں گی۔۔۔ جو معصوم بچوں کو اغوا کر کے، ان سے زیادتی کرتے ہیں۔

ان پروگراموں کے بعد، شنید ہے، جیسمین کو لگاتار دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں۔۔۔ جن کی اس نے پروا نہ کی، جس کے بعد، اُسے خفیہ اداروں کے ذریعے معلوم ہوا، اس کے قتل کا منصوبہ بن چکا ہے، جس کے مطابق، اسے، شو کے بعد، گھر کے راستے میں، ٹارگٹ کلنگ ٹائپ کی کارروائی کا نشانہ بنا دیا جائے گا۔۔۔ یقیناًجیسمین نے اس معاملے کی تحقیقات کرائی ہوں گی۔۔۔ اور تصدیق کے بعد، اس نے متعلقہ اداروں سے تحفظ بھی مانگا ہو گا اور تحفظ فراہم نہ ہونے پر اس نے، اپنے ٹی وی چینل سے مدد چاہی ہو گی، کہ جس ادارے کے پلیٹ فارم سے وہ سچی کھری اور بے باک صحافت کر کے، اس کی ساکھ بڑھا رہی تھی، اس ادارے پر اس کے تحفظ کی ذمہ داری تو بہرحال بنتی تھی۔۔۔ مگر سنا ہے، اس کے ادارے نے اسے تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ۔۔۔ جس سے دلبرداشتہ ہو کر، اس نے استعفیٰ دے دیا۔
بعدازاں، انرجی کانفرنس، منعقدہ اسلام آباد میں، نوے صحافیوں کے سامنے، اس جرأت مند خاتون نے، قوم کے باپ، نوازشریف سے تحفظ مانگا اور اپنی خدمات، کے عوض، اس ٹارگٹ کلنگ سے بچاؤ کی درخواست کی، تو جناب وزیر اعظم پاکستان نے بھی اس کی مدد سے انکار کر دیا، جس کے بعد، جیسمین نے انتہائی دلبرداشتہ ہو کر، ملک چھوڑنے کا ارادہ کر لیا۔! جیسمین اس ملک میں رہے یا نہ رہے ۔۔۔ یہ پیغام نہایت واضح ہے، کہ حکومت اور سیاست کو، جیسمین منظور، یا اس جیسی دیگر نڈر اور بے باک خواتین کی کوئی ضرورت نہیں، جو اپنے اپنے شعبوں میں دیانتداری، اور جرأت مندی سے کام کر رہی ہیں۔۔۔ اور بدلے میں سوائے، عزت اور جان کے تحفظ کے، اور کچھ نہیں چاہتیں۔۔۔ آج دنیا بھر میں گرچہ خواتین، مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، مگر پورے گلوب پر دیکھ لیں، جہاں وہ مردوں کی قائم کی ہوئی حدود سے ’’تجاوز‘‘ کرتی ہیں، وہاں انہیں اولاً جنسی ہراسمنٹ، اور دوئم جان سے جانے کی سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔!

التحریر سکوائر پر ہونے والے خواتین صحافیوں کے گینگ ریپ، اور مظاہروں میں شامل خواتین کے ساتھ، جنسی زیادتی ۔۔۔ اس کا بین ثبوت ہے، کہ دنیا کے سارے معاشروں میں جو زمانہ قبل از مسیح میں، مردوں نے، عورتوں کو اپنی مقرر کردہ حدود میں دھکیل کر رکھنے کی خاطر، ایجاد کیا تھا ۔۔۔ اور یہ وہ ہتھیار ہے، جو دبنگ سے دبنگ عورت کو بھی، ذلت کی گہرائیوں میں پھینکنے اور اپنی ذات سے شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔ 21 ویں صدی کے تیز ترین سائنسی اور ٹیکنالوجی کی کمال تک پہنچے ہوئے، دور میں، جب سیاہ صدیوں کی تاریخ کو التحریر سکوائر اور دیگر مقامات پر دہراتے دیکھتی ہوں تو خیال آتا ہے:

زمیں کی گردشیں جاری ہیں لیکن
کئی صدیوں سے ہم ٹھہرے ہوئے ہیں

افسوس، صد افسوس، تہذیبی ارتقاء کے اس سنہری زمانے میں بھی، عورت کو انسان سمجھنے کا تصور ابھی خام ہے۔۔۔ عورت پاؤں کی جوتی، شیطان کی بیٹی ۔۔۔ اور آدم کو بہکا کر جنت سے نکالنے کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے ۔۔۔ یہی وجہ ہے انقلاب مصر میں، آج بھی تاریک صدیوں کی روایت، دن دہاڑے، سرعام دہرائی جا رہی ہے، اور مہذب معاشرے، دم سادھے بیٹھے ہیں کسی این جی او کے دل پر ہاتھ نہیں پڑا! ۔۔۔ جیسمین منظور، اس دھرتی کی نڈر بیٹی۔۔۔ سچائی کے جرم میں، دیس نکالا لے چکی ۔۔۔ جس پر، کسی انسان دوست ادارے اور این جی او نے آواز نہیں اٹھائی، حکومت اٹھی اور نائن زیرو پر اس نے گھٹنے ٹیک دیئے۔۔۔ سقراط نے سچ کہا تھا، ’’سیاست ایک بے اصول سائنس ہے‘‘ مگر کتنی بے اصول؟ جنرل السیسی اور عزت مآب وزیراعظم سے پوچھنے کی جرأت کون کرے؟

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.