جیل پر حملہ اور اسلامی جمہوریہ

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

طالبان جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈی آئی خان سنٹرل جیل پر حملہ کرنے آتے ہیں۔ وہ مارٹر گنوں اور آر پی جی جیسے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ اُس موقع پر جیل کے محافظ سب سے پہلا جو کام کرتے ہیں وہ قریبی نالوں میں کود کر اپنی جانوں کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا اپنی جانوں کا بچاؤ کرنا شیکسپیئر کے مشہور کردار فالسٹف کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔ وہ عزت کے حوالے سے کہتا ہے…’’مرنے کی نقل کرنا، جبکہ وہ آدمی ابھی زندہ ہو، نقل نہیں ہے، بلکہ وہی تو اصل زندگی کی عکاسی کریا ہے۔ موقع شناسی ہی بہادری ہے۔‘‘

یہ صوبائی وزیر برائے محصولات تھے جنھوں نے قوم کو پولیس والوں کی شجاعت کی روداد سنائی۔ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کو جیل کا گیٹ توڑنے کی مشقت بھی نہیں اٹھانا پڑی، محافظوں نے نہایت فرماں برداری سے اُن کے لیے گیٹ کھول دیے۔ اس کے بعد کچھ دیر تک حملہ آور جیل کے اندر موجود رہے۔ اُنھوں نے میگافونز (اس کے استعمال پر غور کیجیے)کی مدد سے جیل میں قید اپنے ساتھیوں ، جن کو رہا کرانے آئے تھے، کو بلایا۔ چونکہ انہیں کو ئی فکر یا جلدی کی ضرورت نہ تھی، اس لیے نہایت اطمینان سے کچھ قیدیوں کو ذبع کیا کیونکہ وہ ان کے عقیدے سے مطمئن نہ تھے، چناچہ وہ ان کے نزدیک ’’کافر‘‘ (لہذا واجب القتل) تھے۔ اس کاروائی کے دوران پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی فالسٹف کے فلسفۂ شجاعت کی پیروی کرنے میں ہی غنیمت جانی ۔ فوج کی طرف سے بھی کوئی حرکت دیکھنے کو نہ ملی، یہاں تک کہ حملہ آور قیدیوں کو لے کر بخیر و عافیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے بہت دور چلے گئے۔

ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اس بات پر ماتم کناں رہتے ہیں کہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے امریکی ایبٹ آباد میں پی ایم اے کاکول کے دروازے تک آن پہنچے اور ایسا کرتے ہوئے ہماری گوہر آسامقدس خود مختاری کی پامالی کی۔ یقیناًوہ ایک مکارانہ حرکت تھی ، لیکن امریکی صرف ایک آدمی، یا اُس کے دو یاتین ساتھیوں ، کو ہلاک کرنے کے بعد واپس چلے گئے ، جبکہ یہاں طالبان نے جس ڈھٹائی اور دیدہ دلیری سے جیل سے اپنے 250 ساتھیوں کو چھڑوایا ہے وہ امریکی کاروائی سے کہیں زیادہ سنگین کیس ہے۔ اس دوران اس ریاست کے تمام ادارے اور نیوز چینلز صدارتی الیکشن کی بے مقصد کاروائی میں الجھے رہے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں جو نامزد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اُن کی واحد اہلیت یہی ہے کہ اُن میں کوئی اہلیت نہیں۔ کیا دنیا کا کوئی اور ملک ایسے افسوس ناک واقعات میں اس مملکتِ خدا داد سے سبقت لے جاسکتا ہے؟ایک طرف عقائد، بلکہ اندھے اور گمراہ کن عقائد ہیں تو دوسری طرف خوف و ہچکچاہٹ اور سب سے بڑھ کر ذاتی حفاظت کی فکر!

ہم جانتے ہیں کہ یہ نئی حکومت یوں تو سادگی اور کفایت شعاری کی تلقین کررہی ہے، لیکن پارلیمنٹ میں اس کے 33 وزراکے کمروں میں نئے اے سی، نئے ٹی وی سیٹ اور سنگِ مرمر کے نئے فرش لگائے گئے ہیں۔ گویا نئے وزیر پرانے سامان سے کام نہیں چلا سکتے تھے۔ جہاں تک وزیرِ اعظم ھاؤس کا تعلق ہے تو اس میں ’’پاکستان میں تبدیلی ‘‘ کے آثار اس قدر نمایاں ہیں کہ صوفوں کے کور تک تبدیل کر دیے گئے ہیں… گویا اب لگائے گئے بیش قیمت ارغوانی پردوں کے بغیر آنے والے مہمانوں کو سادگی دکھائی نہ دیتی۔ اسی دوران ہمیں چار ملین ڈالر کی گھڑی کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس پر بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہاں موجود ہر کوئی اس قدر مذہبی ہے کہ اُنہیں صدارتی الیکشن کا شیڈول تبدیل کرنا پڑا تاکہ مذہبی فرائض کی انجام دہی میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں وزیرِ اعظم اور اُن کے اہلِ خانہ ستائیسویں رمضان حجازِ مقدس میں گزارتے ہیں۔

ایک طرف اس اسلامی جمہوریہ میں مذہب اس طرح دامن گیر رہتا ہے تو دوسری طرف سیمنٹ اور بجلی بنانے والی فرموں کے طاقتور مالک حکومت کی مشاوراتی میٹنگز میں موجود ہوتے ہیں۔ جس پانچ سو بلین رپوں کے لگ بھگ زیرِ گردشی قرضہ جات کے ادا کرنے کی بات کی جارہی ہے، وہ ان کی جیبوں میں ہی گیا ہے۔ کیا اس میں مفاد ات کا ٹکراؤ دکھائی دیتا ہے؟ہر گز نہیں۔ کچھ نے دھیمے سروں میں رونا بھی رویا ہے کہ حکومت دیکھے کہ یہ روپے کہا ں جا رہے ہیں لیکن یہ مدہم آوازیں صدابصحرا ہیں۔ سیمنٹ اور بجلی بنانے والا یہی طاقتور گروہ وزیرِ اعظم کے ساتھ چین کے دورے پر بھی گیا تھا۔ بے شک وہ اپنے ذاتی جہاز پر تھے لیکن وزیرِ اعظم کے خاندان کے کچھ افراد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موضوع پر اتناہی کافی ہے، اور پھر اب تک سب کچھ عوام کے سامنے آچکا ہے۔

کیا قسمت ہے اس قوم کی! پہلے زرداری اور ان کے ساتھی ، جنھوں نے پانچ سال تک مختلف طریقوں سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا، ہم پر مسلط تھے، اب وہ لوگ آگئے ہیں جو گزشتہ تیس برسوں سے ان معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کو سیاست میں متعارف کرانے والا شخص جنرل ضیا تھا۔ اُس نے اُن کو کاروبار سے اٹھا کر سیاست کے دروبام تک پہنچایا۔ ہم دوسری زندگی کے بارے میں تو سنتے ہیں، یہ ان کی تیسری زندگی ہے۔ شاید اس قوم کی قسمت میں یہی کچھ لکھا ہے… قسمت سے کون لڑ سکتا ہے؟

ٹوئیٹر کے جہادی اکثر یہ تاثر دیتے ہیں کہ سٹائل اور تعلیمی اسناد ہی سب سے اہم چیزیں ہیں۔ کاش یہ صرف علمی قابلیت کا ہی کوئی مقابلہ ہوتا، تاہم جومعاملہ ہمیں در پیش ہے وہ اس سے سوا ہے، ہمارے ملک کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملہ کرنے والے طالبان ، جو اس سے بھی زیادہ کاروائیاں کرنے کی پوزیشن میں ہیں، کوسائبر سپیس پر غم و غصے کا رسمی اظہار نہیں روک پائے گا۔ہم میں سے اکثر ایسی کاروائیوں کے بعد طالبان کو ظالم اور وحشی کہہ کر اپنی لفظی جنگ میں دادِ شجاعت دے لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے الفاظ کے چناؤ پر ناز ہو کہ آپ بلا خوف ان کی مذمت کر سکتے ہیں، تاہم مجھے شک ہے کہ اگر آپ ایسے مذمتی بیانات کو ہی اصل جنگی ہتھیار سمجھ رہے ہیں تو پھر جان لیجیے کہ ہم یہ جنگ ہار چکے ہیں۔ امریکیوں کے پاس جدید ہتھیار ،مہیب فضائی قوت اور سیٹ لائٹ ٹیکنالوجی تھی لیکن وہ کام ختم کیے بغیر افغانستان سے فرار ہو رہے ہیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ افغانستان میں کسی قدر سیاسی استحکام پیدا کرچکے ہیں ، لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کٹھ پتلیوں کو سہارے کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا۔

امریکیوں کی ترجیحات واضح تھیں مگر وہ ناکام ہوگئے، ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات ہی درست نہیں ہیں۔ صرف طالبان ہی نہیں، کسی بھی حوالے سے کوئی مقصدیت نظر نہیں آتی ہے۔ بہت وعدے کیے تھے، لیکن اب حال یہ ہے کہ بجلی اور تیل سمیت ہر چیز مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ مان لیا کہ یہ سب کچھ معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے لیکن کیا اس کا بوجھ صرف عام آدمی، جو پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہا ہے، نے ہی اٹھانا ہے؟دولت مند اور بااثر افراد کے چہروں پر اس قدر آسودہ مسکراہٹ مچل رہی ہے جیسے اتنا اچھا دور ان کے لیے کبھی بھی نہ آیا ہو۔ اسی طرح کہ ایک اور دولت مند صاحب کو گلاسکو سے بلا کر پنجاب کا گورنر بنا دیا گیا ہے۔درآمد شدہ امیر گورنرسے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا لیکن اس سے ایک چیز کا اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کیا رخ اختیار کررہے ہیں۔

اب دوبارہ اصل موضوع کی طرف لوٹتاہوں: کیا یہ یک طرفہ جنگ نہیں جس میں طالبان تو اپنے مقصد میں فولاد کی طرح واضح اور دوٹوک ہیں جبکہ ہماری صفوں میں کنفیوژن پھیلی ہوئی ہے۔ وہ اپنے عزم میں تیر کی طرح سیدھے ہیں تو ہم غبارِ راہ کی طرح سراسیمگی کا شکار ہیں۔ وہ جنگ آزما و سرد و گرم چشیدہ اور’’دوش تا کمر‘‘ ہتھیاروں سے لیس لوگ ہیں تو دوسری طرف ہم اپنے صوفے سجانے اور اپنی کلائیوں پر بیش قیمت گھڑیاں باندھنے پر تلے ہوئے ہیں، جبکہ اس دوران جب کہ وہ جیلیں توڑ توڑ کر اپنے قیدی چھڑوا کر لے جارہے ہیں، ہم بیرونِ ملک اپنی دولت کو جمع کررہے ہیں اور ہمارا کوئی بہت ہی قریبی عزیز ’’کافروں ‘‘ کی سرزمین پر پر کشش کاروبار کررہا ہے کیونکہ ہمیں اپنے کاروبار کے لیے اسلام کا یہ قلعہ محفوظ دکھائی نہیں دیتا ہے۔

مسلح افواج اور پراپرٹی کا کاروبار؟مصری فوج بھی بہت بری طرح پراپرٹی اور دیگر کاروباری معاملات میں الجھی ہوئی ہے، چناچہ وہ اپنے شہریوں پر تو گولیاں برسا سکتی ہے لیکن اسرائیلی فوج کے مقابلے پر آتے ہوئے اس کی جان نکلتی ہے(اسرائیل کے مقابلے میں جان دے کر عزت حاصل کرنے والے صرف حزب اﷲ کے جانباز ہیں)۔ یقیناًکسی بھی کاروبار میں ملوث ہونا مسلح افواج کی توجہ بٹا دیتا ہے ۔ دوسری طرف جس جنگ میں ہم الجھ چکے ہیں وہ ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ ہے اور جب امریکی افغانستان سے چلے جائیں گے تو یہ مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ جب تک پاکستان میں طرز حکومت ، ارباب حکومت کی سوچ، وزیرِ اعظم کی صلاحیتیں اور قومی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین نہیں کیا جاتا،سمجھ لیں کہ ہم گرداب میں پھنستے جائیں گے۔ اگر ہمارے محافظوں کے دل میں دلیری کی یہی تحریک اٹھتی ہو کہ جیسے ہی دشمن پر نظر پڑے تو پانی کے نالوں میں کود جاؤ تو کیا کسی کو شک ہے کہ ہم ’’زندہ قوم ہیں‘‘ ۔

کچھ چیزیں قوم کے وقار کی پیشانی کا جھومر ہیں اور ان سے صرفِ نظر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمارے سپاہیوں، نوجوان آفیسرز اور کچھ سینئر آفیسر ز نے بھی مغربی سرحدوں کے نزدیک ہونے والی اس جنگ میں اپنے خون سے حقیقی دلیری اور سرفروشی کی داستانیں رقم کی ہیں جبکہ مجھ جیسے گفتار کے غازی صرف ڈرائینگ روم یا ٹی وی اسٹوڈیومیں بیٹھ کر ہی باتیں کرتے رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو خطرناک علاقے میں ہیں جہاں نہایت سفاک دشمن گھات لگائے رہتا ہے اور وہ ہمہ وقت اچانک حملے کے خطرے میں گھرے رہتے ہیں۔ اُس میدان کی ، جہاں دشمن چھپا ہوا ہو، ایک اپنی دھشت ہوتی ہے جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں ہمارے مسائل کچھ اور ہیں… ان میں سے سب سے اہم صوفے کے پردے کے موزوں رنگ کا چناؤ ہے۔ دوسری طرف جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے اور جامِ شہادت نوش کرنے والے فوجیوں کا لہو پکارپکارکر کہہ رہا ہے کہ اُنہیں بہتر قیادت کی ضرورت ہے تاکہ اُن کی قربانیاں ضائع نہ جائیں۔

اگر امریکہ یا برطانیہ ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوتا تو دنیا دیکھتی کہ اُن کے رہنما ستائیسویں رمضان، یا کرسمس، یا کسی اور مذہبی تہوار کے موقع پر فاٹا میں اپنے اگلے دستوں کے ساتھ موجود ہوتے۔ تاہم یہ اسلامی جمہوریہ ہے، اس لیے ہمیں مقدس سرزمین کی طرف عازمِ سفر ہونا ہے تاکہ ہم آخرت اور اس دنیا میں کامیابی کے لیے صدقِ نیت سے دعا گوہو سکیں۔ بس اس کے بعد ہمارا فرض ختم۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں