عشقِ ممنون اور مشاورت کا جنون

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

میری اور ان کی شخصیت کے بعض رخ یکسرمتضاد ہیں۔ وہ پیچھے سے وار کرنے اور میں سامنے آ کر دل کا غبار نکالنے کا قائل ہوں۔ وہ صاحبِ علم ہیں اور میں ادنیٰ طالب علم ۔ اردوزبان پر ان کے عبور کا یہ عالم ہے کہ لغو سے لغو بات کو بھی الفاظ و محاورے کا ایسا جامہ پہنا دیتے ہیں کہ قاری یا سامع بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ حق ہے تو بس یہی ہے جبکہ اپنا المیہ یہ ہے کہ آج تک اردو کا مذکر و مونث بھی درست نہ کرسکا۔ وہ زہر بھی قند بنا کر پلا دیتے ہیں جبکہ میرے ہاتھ میں بسا اوقات گڑ بھی زہر دکھائی دیتا ہے۔ وہ اصلاً سیاسی مشیر ہیں جبکہ صحافت میں غیرجانبداری کو ممنوع (ممنون نہیں) سمجھتے ہیں جبکہ میں صحافت کی آڑ میں سیاست کو عشقِ ممنوع (عشق ممنون نہیں) سے بڑا جرم سمجھتا ہوں۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے دور ہیں۔

گزشتہ چودہ سال سے ان کے ساتھ دوستی ہے۔ جس سال میدان صحافت میں قدم رکھا‘ اس سال سے لے کر اب تک ان کے حلقہ تلمیذ میں شامل ہوں۔ لیکن صرف تحریر اور تقریر کا فن سیکھنے کی حد تک اور اللہ کا شکر ہے کہ چودہ سالہ رفاقت کے باوجود ان کی بعض مخصوص صفات سے اپنے آپ کو بچا کے رکھا۔ ان سے بڑھ کر شاید ہی کوئی اس حقیقت سے واقف ہو کہ ایک کمزور اور گناہگار انسان ہونے کے باوجود میں نے کبھی بھی صحافت کو قربِ حکمران یا حکومتی مناصب کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ میں ایسا کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھتا۔ وہ جانتے ہیں کہ دوست نواز ہوں اور رہوں گا۔ دوستوں کی خاطر بعض اوقات اخلاقی ، صحافتی حدود تک کراس کردیتا ہوں لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میرے مالی معاملات کیسے ہیں۔ اب تو ماشاء اللہ وفاقی انٹیلی جنس ادارے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں اور میرے مالی معاملات کی ان کے ذریعے بھی تحقیق کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مجھے لاکھوں روپے تنخواہ لینے کا طعنہ دیا ہے اور میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں لاکھوں میں تنخوا ہ لیتا ہوں لیکن ان سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ جو کچھ ہے اللہ کے کرم، ماں کی دعا اور اپنی محنت اور صلاحیت کی برکت سے ہے ۔ کسی نوازشریف، کسی اسفندیار ولی، کسی مولانا فضل الرحمان اور کسی رفیق تارڑ کا چینل استعمال کرکے میں کسی چینل میں گیا ہوں اور نہ کسی اخبار میں۔ نہ اپنی تنخواہ بڑھانے کے لئے کسی شخصیت کے ساتھ تعلق کو استعمال کیا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں بلکہ شاید صرف وہ ہی جانتے ہیں کہ جب سے حلف اٹھایا ہے تو میں نے وزیراعظم نواز شریف سے ملنے کی ازخود کوئی کوشش نہیں کی۔ تین مرتبہ ملا ہوں اور تینوں مرتبہ ان کے بلانے پر ملا ہوں۔ دو ملاقاتیں درجنوں صحافیوں کے ہمراہ ہوئیں اور ایک تین دوستوں کی موجودگی میں، جن میں میاں صاحب کے تمام دیگر ملاقاتیوں کی طرح وہ خود بھی موجود تھے۔ ان سے بڑھ کر کون جانتا ہیں کہ ہر ملاقات میں میاں صاحب سے صرف نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی پر بات کی ہے اور اس سے زیادہ کسی موضوع پر بات نہیں کی۔

پھر نہ جانے کیوں وہ اپنے کالم میں قوم کو یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ میں اس لئے ناراض ہوں کہ صدر کے انتخاب کے وقت مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ان سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ صدارت کے دیگر امیدواروں میں سے سوائے سردار مہتاب کے کسی بھی امیدوار سے کبھی میری ملاقات نہیں ہوئی جبکہ ممنون حسین سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تو ان کا مخالف کس بنیاد پر ہوسکتا ہوں۔ میں نے جسٹس سعیدالزمان صدیقی کو سب سے زیادہ موزوں امیدوار قرار دیا تھا۔ وہ زندہ ہیں اور ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ میں کبھی بھی ان سے نہیں ملا۔ میں نے ان کی زیادہ تعریفیں اسی صاحبِ علم مشیر سے سنی تھیں اور مجھے علم ہے کہ گزشتہ صدارتی انتخابات کے موقع پر ان کا نام میاں نوازشریف کو انہوں نے ہی تجویز کیا تھا۔ یہی معاملہ سید غوث علی شاہ اور سرتاج عزیز کا بھی ہے۔

یقیناً سردار مہتاب اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ دوستی ہے لیکن مشیر خاص اچھی طرح واقف ہیں کہ جب تک وہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ تھے تو میں واحد صحافی تھا جو ان کے نمبرون نشانہ تھا اور جس وقت پرویز مشرف ان کی حکومت ختم کر رہے تھے تو ہمارا تنازعہ اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں چل رہا تھا تاہم جب وہ پرویز مشرف کے ہاتھوں ظلم وستم کا نشانہ بنے اور انہوں نے جوانمردی اور بہادری کے ساتھ قید و بند کا مقابلہ شروع کیا تو میں ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ تب جب ہمارے دوست اقتدارکے ایک بڑے گھر میں مقیم تھے، میں ہر پیشی پر سردار مہتاب سے ملنے اٹک قلعے جایا کرتا تھا۔ ان کی بہادری نے مخالف نمبر ون کی بجائے مجھے ان کا گرویدہ بنا لیا اور تب سے لے کر اب تک وہ بھی محبت اور شفقت سے نواز رہے ہیں۔ لیکن کبھی سردار صاحب نے میری مرضی سے سیاست کی ہے اور نہ میں نے ان کی مرضی سے صحافت۔ جب موقع آیا ان پر خوب تنقید کی جس کی ایک واضح مثال پختونخوا کے نام کا معاملہ ہے۔ اب میں حیران ہوں کہ مذکورہ بالا حقائق سے آگاہی کے باوجود وہ ممنون حسین کی نامزدگی یا پھر نوازحکومت کی ترجیحات پر میری تنقید سے اس قدر غصے میں کیوں آئے کہ سارے رشتے توڑ دئے۔

ابھی تو میاں نوازشریف کے اعلان کردہ ترجمان پرویز رشید نے بھی میری نیت پر شک کا اظہار نہیں کیا تو پھر یہ اس قدر برہم کیوں ہیں؟۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس چودہ سالہ رفاقت کے دوران وہ مجھے چند شخصیات کا آلہ کار بنانے کی کوشش کرتے رہے لیکن میری نالائقی کہ میں غیرجانبداری کے خول سے نہیں نکل سکا۔ تاہم شکر ہے کہ ان کے اس غصے نے مجھے ایک بڑی قید سے آزاد کرلیا۔ نظریات اور طرز صحافت کے مذکورہ شدید اختلاف کے باوجود دوستی، مشترکہ دوستوں کی موجودگی اور تعلق داری نے میری زبان گنگ کرلی تھی اور میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ میں بے حد ممنون ہوں جناب ممنون حسین صاحب کا کہ جو میری آزادی کی وجہ بنے۔ یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ مجھے پہلے سے علم نہیں تھا کہ میاں صاحب کو عشق ممنون میں اسی مشیر نے ہی مبتلا کردیا ہے۔ پہلے سے علم ہوتا تو شاید ان کے احترام کی وجہ سے میں ممنون صاحب پر تنقید کے حوالے سے بھی نرمی کرتا۔ میں نرمی سے کام لیتا تو وہ غصہ ہوتے اور نہ ان کے اندر کے جذبات سامنے آتے۔ جب دیکھا کہ مشیر خاص ممنون صاحب کے عشق میں اس حد تک آگے گئے ہیں کہ ان کی خاطر ہر طرح کی دوستی اور تعلق داری کو قربان کرنے پر تیار ہیں تو وجہ جاننے کی کوشش کی اور تب جان گیا کہ اصلاً ممنون صاحب کو میاں صاحب سے زیادہ انہوں نے ممنون احسان کرلیا ہے۔ لیکن وہ جس کے بھی ممنون احسان ہوں میں بہرحال ممنون صاحب کا ممنون رہوں گا کہ جنہوں نے مجھے دوستی اور تعلق کی قید سے آزادی دلوا دی۔

جہاں تک ان کی تقرری پر اعتراض کا تعلق ہے تو اس کی چار وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ان کی نامزدگی میں ان مشیروں سے تو مشاورت کی گئی جن کے اب ممنون حسین ممنون احسان ہیں اور جو اب ان پر تنقید کے حوالے سے نہایت حساس ہیں لیکن کسی پارٹی فورم پر مشاورت نہیں ہوئی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جس طریقے سے ان کو منتخب کرایا گیا اس کی وجہ سے نہ صرف صدر کا منصب متنازع ہوگیا بلکہ میاں صاحب اور خود ان کی محبوب عدلیہ کو بھی متنازعہ کردیا گیا جس کا پہلا مظاہرہ چوہدری اعتزاز احسن اور عمران خان جیسے ان کے وکیلوں کی تنقید کی صورت میں سامنے آیا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ میری دانست میں اس ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے فوج اور حکومت کا ایک صفحے پر آنا شرط اولین ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ میاں صاحب کے ان جیسے مشیروں کی کاوشوں سے دونوں کے مابین تناؤ ختم نہیں ہو رہا اور وہ تناؤ مجھے تصادم میں بدلتا نظر آ رہا ہے۔ اس تناظر میں بڑے سیاسی قد و قامت کے حامل کسی ایسے شخص کو سپریم کمانڈر بنا دینا چاہئیے تھا کہ جو فوج اور حکومت کے درمیان پل کا کام دیتے اور ظاہر ہے یہ کردار وہ صدر کبھی ادا نہیں کرسکیں گے کہ جن کا تقرر قوم یا پارٹی نے نہیں بلکہ ایک مشیر نے کروایا ہو۔ چوتھی وجہ یہ تھی کہ اس وقت پورے پاکستان میں جو آگ لگی ہوئی ہے، اس کو ایندھن قبائلی علاقوں سے فراہم ہو رہا ہے لیکن خود قبائلی علاقوں میں لگی آگ ایوان صدر اور پنڈی واسلام آباد سے ہی بجھائی جا سکتی ہے۔ صدر مملکت قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکٹیو ہوتے ہیں اور قبائلی علاقوں کے لئے ممنون حسین سے بڑھ کر نامناسب چیف ایگزیکٹیو کوئی نہیں ہوسکتے۔ میں ذاتی طور پر موخرالذکر دو حوالوں سے زیادہ حساس ہوں۔ مجھے پورے پاکستان کا وجود خطرے میں نظرآ رہا ہے۔

میرے لئے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ ام المسائل ہی نہیں بلکہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ کسی کو اس رائے سے اختلاف تھا تو اس کی آنکھیں ڈی آئی خان جیل کے واقعے سے کھل جانی چاہئیں۔ اسی ایشو کی بنیاد پر میں ایم ایم اے پر تنقید میں تشدد سے کام لے رہا تھا اور یہی عمران خان کے ساتھ میرے اختلاف کی بنیاد ہے۔ انتخابات سے قبل اس حوالے سے مسلم لیگ [ن] کا رخ بڑی حد تک درست تھا لیکن میں دیکھ اور محسوس کر رہا ہوں کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں سرفہرست نہیں۔ یہی میری تنقید اور اس میں سختی کی بنیاد ہے۔ میرے ذہن پر مشاورت کا جنون نہیں بلکہ یہ مسئلہ سوار ہے جس کی وجہ سے مسلمان پاکستانی مر رہے ہیں اور پاکستان نہ صرف دہشتستان بن گیا ہے بلکہ وہ عملاً لاہور اور اسلام آباد تک سکڑتا جا رہا ہے۔

صدر مملکت کے منصب جلیلہ پر ممنون حسین کو فائز کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد میاں صاحب کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اس حوالے سے سوچ اور اپروچ میں مثبت تبدیلی نظر آئی اور میاں صاحب کی ترجیحات میں یہ مسئلہ سر فہرست بن گیا تو میں مشیر خاص سے بڑھ کر ان کی تعریف کرنے لگ جاؤں گا۔ تعریف کروں گا لیکن اللہ کے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی گواہ بناتا ہوں کہ اسکے بدلے میں، کوئی سرکاری منصب طلب کروں گا اور نہ ذہن پر مشاورت کا جنون سوار ہونے دوں گا۔ یہ بھی حلف اٹھاتا ہوں کہ نہ حکومت سے لوگوں کو وزارتیں دلواؤں گا اور نہ سرکاری اداروں کے سربراہوں کو تبدیل کروانے کی کوشش کرونگا۔ میاں صاحب سے سفارش کرونگا تو صرف ایک۔ وہ یہ کہ وہ اس صاحبِ علم مشیر کو بڑے سے بڑا حکومتی منصب عنایت کردے تاکہ وہ صحافت اور سیاست کی دوئی کے اس امتحان سے ہمیشہ کے لئے نجات پا لے۔ آخر اس مشق میں وہ کب تک دوستوں اور صحافتی اصولوں کو قربان کرتے رہیں گے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں