.

۔۔۔۔۔۔ اور اب حزب اللہ کی لبنانی صدر کو دھمکیاں

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹھگی کی مزید کوئی سرخ لکیر یا کم سے کم سطح نہیں ہے کہ جس کو قبول کیا جاسکے۔اس کا آغاز 2005ء میں رفیق حریری کے قتل سے ہوا تھا اور اب لبنانی جمہوریہ کے صدر اس کے آخری شکار نہیں ہوں گے۔

لبنان اور عرب دنیا میں حزب اللہ کا امیج تبدیل ہوچکا ہے۔دنیا کا اس کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ یہ مزاحمتی جماعت اب ٹھگ اور سفاک ملیشیا بن چکی ہے۔ہم اس بات کو فراموش نہیں کرسکتے کہ آٹھ سال قبل بہت سے لوگ اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے کہ حزب اللہ نے بیس لبنانی شخصیات کے قتل میں حصہ لیا تھا اور اس نے یہ کارنامہ شامی اور ایرانی حکومتوں کے ایماء پرانجام دیا تھا۔

بعض لوگ اس بات پر بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھے کہ حزب اللہ شام میں لڑائی میں ملوث تھی۔یہاں تک کہ جماعت کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بہ ذات خود شامی صدر بشارالاسد کے مزارات کے دفاع کے لیے اپنے ہزاروں جنگجوؤں کو بھیجنے کا اعتراف کیا ہے۔

اس کے بعد اس جماعت نے لبنان میں شامی اور لبنانی عوام کے اغوا اور ان پر حملوں کی سرگرمی جاری رکھی۔اب اس کے بُرے امیج کی وجہ سے اس میں کوئی شُبہ نہیں رہ گیا کہ اس نے صدارتی ہیڈکوارٹرز کے نواح میں راکٹ باری کی ہے۔

ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح یہ جماعت نہ صرف 14 مارچ اتحاد یا سنیوں یا نصف عیسائیوں یا بعض شیعوں کے لیے مسئلہ ہے بلکہ یہ اب تمام لبنانیوں کے لیے مسئلہ بن چکی ہے۔

لبنانی صدر مشعل سلیمان کی تقریر کا اسی طرح کی تقریرسے جواب دینے کے بجائے ان کے محل پر راکٹ برسائے گئے ہیں کیونکہ انھوں نے حزب اللہ کے تین گناہوں کا ذکر کیا تھا اور وہ آئین کی خلاف ورزی ،دُہرا اسلحہ اور شامی جنگ میں ملوث ہونا ہیں۔

صدر سلیمان کی تقریر سے حزب اللہ کو ااس وقت سُبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انھوں نے لبنانی عوام کے سامنے انکشاف کیا کہ جماعت کی سرگرمیاں اب اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ کوئی بھی ان پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔لبنانی صدر کو کوئی بھی ان سے زیادہ جماعت سے محبت کرنے پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتا ہے۔وہ اول وآخر لبنانی ہیں اور ان کی غیرجانبداری واضح ہے۔

سلیمان کی غیر جانبداری

انھوں نے شامی رجیم سے تعلق رکھنے والی تنظیم فتح الاسلام سے جنگ لڑی تھی۔جب اس تنظیم کے مسلح جنگجوؤں نے لبنانی فوجیوں کو قتل کیا تو انھوں نے انھیں عین الحلوہ مہاجر کیمپ سے نکال باہر کیا۔

لبنانی صدر نے طرابلس میں ( اورصیدا میں) احمد العسیر اور ان کے انتہا پسند سنیوں کے خلاف بھی لڑائی لڑی جب انھوں نے سڑکیں بلاک کیں اور دوسروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔وہ حزب اللہ کے خلاف اس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب اس نے دوسروں کو ڈرا دھمکا کر اور ان پر غداری کا الزام عاید کرکے کابینہ مسلط کرنے کی کوشش کی تھی۔

حزب اللہ اس جھوٹے نعرے کے فریب سے تمام لبنانی عوام کے خلاف ہتھیار بند ہونا چاہتی ہے کہ اس کے پاس مزاحمت کے ہتھیار ہیں اور وہ فلسطینی نصب العین کا دفاع کررہی ہے۔

اب ہر کوئی جانتا ہے کہ اس جماعت کے پاس ہتھیاروں کا مقصد لبنان کو بزور بازو کنٹرول کرنا ہے۔اسرائیل کے خلاف اس کی آخری کارروائی سات سال قبل سرحدی علاقے سے دو صہیونی فوجیوں کا اغوا تھا۔اس اقدام سے اسرائیل کو لبنان پر چڑھائی کا موقع مل گیا اور اس نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔اس کے بعد دوسال سے زیادہ عرصے تک اسرائیل کا لبنانی کی بحری اور فضائی حدود پر کنٹرول رہا تھا۔

حریری کیمپ اور اس کے بعد مارچ 14 اتحاد کا حریف بننے کے بعد حزب اللہ تمام لبنانی عوام کی دشمن بن چکی ہے۔حزب اللہ ملک کے مفادات کی تخریب کی وجۂ جواز بن گئی ہے۔اس نے عام لبنانی شہری کے روزگار کے ذرائع کو نقصان پہنچایا ہے۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ عام لبنانی شیعہ ہے،عیسائی ہے یا سُنی ہے۔

حسن نصراللہ کے حریف

آج جو لوگ اس کی قیمت چکا رہے ہیں،ان میں ٹیکسی ڈرائیور،سبزی فروش ،ریستورانوں کے خانسامے اور ہوٹل ملازمین شامل ہیں۔یہی لوگ حسن نصراللہ کے حریف ہیں۔انھوں نے لبنانی عوام کو ڈرا دھمکا کر ان کے روزگار کے ذرائع کو نقصان پہنچایا ہے۔ان میں سیاح اورسرمایہ کار بھی شامل ہیں جنھیں لبنان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

سعد حریری نے گذشتہ جمعہ کو ایک تقریر میں کہا کہ اسد رجیم کے زوال کے بعد ہم دیکھیں گے کہ حزب اللہ کیا کرتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس جماعت نے لبنان میں جو کچھ کیا ہے،اس کے پیش اس کو شامی رجیم کے تحفظ سے کہیں زیادہ خطرہ ادھر ہی درپیش ہے۔

ماضی کے مراحل میں جب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ غیر مسابقتی جنگیں لڑیں تو اس سے لبنان کے انفرا اسٹرکچر کی تباہی ہوئی تھی اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔اس کے باوجود اس جماعت نے کہا تھا کہ اس کے اقدامات قومی ،حب الوطنی ،اسلامی اور انسانی زمرے میں آتے ہیں اور یہ کہ اس نے یہ سب کچھ فلسطینی نصب العین کے دفاع میں کیا ہے۔

اب کوئی بھی اس جھوٹ پر زیادہ دیر تک یقین نہیں کرے گا اور حسن نصراللہ بھی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ کوئی بھی ان کے پیش کردہ معذرت خواہانہ جوازات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

یہی سبب ہے کہ وہ یوم القدس کے موقع پر کسی ٹی وی سکرین پر نمودار ہونے کے بجائے بہ نفس نفیس عوام کے درمیان سامنے آئے تھے۔وہ اپنی شہرت اور ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور عوام کو اپنے موقف کا ہم نوا بنانا چاہتے ہیں۔

مگر لبنان کے عام لوگ ان کے حریف بن چکے ہیں۔اگرچہ وہ سیاست میں ملوث نہیں ہیں مگر وہ حسن نصراللہ کے جرائم کی قیمت چُکا رہے ہیں کیونکہ ان جرائم کی وجہ سے ان کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں اور وہ بے گھر ،بے روزگار یا غُربت کا شکار ہوئے ہیں۔

[ترجمہ: امتیاز احمد وریاہ]

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.