.

ابھی بہت کام باقی ہے

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدلیہ کی بحالی کے بعد عمران خاں نے ایک انٹرویومیں کہا … چیف جسٹس آف پاکستان ایک نابغۂ روزگار شخصیت ہیں۔ ذراا نتظار کرو اور دیکھو، اب وہ کیا کرتے ہیں۔ میں نے اس تحریک میں کسی سیاسی مقصد کے لیے حصہ نہیں لیا تھا۔‘‘جب صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کو غیر فعال کرنا چاہا تو ایسا لگا جیسے تمام پاکستان کسی گہرے خواب سے جاگ کر حکومت کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا ہے۔ باقی تاریخ ہے۔ اُس ہنگامہ خیز دور کے اخبارات یا ٹی وی ریکارڈنگ دیکھیں تو ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔

چیف صاحب کی بحالی اور سپریم کورٹ میں اپنے منصب پر واپسی ہماری قومی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھنے والے چیف جسٹس صاحب نے خدا کو حاظر ناظر جان کر وعدہ کیا کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری، سچائی اور غیر جانبداری سے سرانجام دیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُنھوں نے اپنا وعدہ نبھایا۔ ملک میں عمومی رائے یہی ہے کہ چیف صاحب نے بہت سی خرابیوں کے خلاف اقدامات اٹھاتے ہوئے ملکی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ تاہم اب ایک شخص نے اُن کے خلاف زبان کھولی ہے اور اس کے خلاف فوراً ہی توہینِ عدالت لگادی گئی ہے۔ اس شخص نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے…’’جب میں نے کوئی توہین ہی نہیں کی ،میں کس بات کی معافی مانگوں۔‘‘

افتخار محمد چوہدری صاحب کی سربراہی میں قائم ہونے والے بنچ نے تحریکِ انصاف کے لیڈر پر الزام لگایا کہ اُس نے اپنے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ اس پر غیر لچکدار رویہ رکھنے والے عمران کا کہنا ہے…’’مجھے ریٹرننگ اور پریذئیڈنگ آفیسرز کے رویے پر مایوسی تھی۔ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو قانون شکنی کے زمرے میں آتی ہو۔ اور یہ کہ وہ بیان ملک میں جمہوریت کے مفاد میں دیا گیا تھا۔‘‘اس پسِ منظر میں ، میں ایک جملے کا اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔ یہ جملہ امریکہ میں آج کل بہت مقبول ہے…’’ میں کسی کو جانچنے والا کون ہوتا ہوں؟‘‘ یہ بیان دراصل پوپ فرانسس کی طرف سے آیا تھا جب کسی صحافی نے اُن سے استفسار کیا تھا کہ کیا کوئی ہم جنس پرست پادری بن سکتا ہے۔ اس پر پوپ،جو دنیا کے ایک بلین سے زائد لوگوں کے مذہبی سربراہ ہیں، نے کہا تھا کہ وہ کسی کو جانچ نہیں سکتے ہیں۔ یہ یقیناًنہایت اعلیٰ عاجزی کا مظاہرہ تھا اور اس میں ان کے لیے نصیحت ہے جو سمجھتے ہیں کہ صرف اُن کی سوچ ہی درست ہے۔

کوئی بھی شہری عدلیہ کی طرف سے کیے گئے فیصلوں پر تبصرہ کر سکتا ہے۔ جج حضرات سے غلطی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہی ہیں۔ چناچہ جب تک کوئی شخص عدالت پر سنگین قسم کا الزام نہ لگائے یا اس کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی نہ کرے، یا بنچ کی ہدایت کی تضحیک کرے، توہینِ عدالت کا الزام عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو وہ اور ان کے بے شمار حامی گزشتہ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ اُس نے انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔ ان الزامات پر کوئی اورجماعت ان کی ہم آواز نہیں تھی ۔

چیف جسٹس صاحب کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی تحریک میں عمران خاں کے کردار کو نظر انداز کرنا ظلم ہوگا۔ ہر شام وہ ٹی وی چینلز پر پرویز مشر ف کے خلاف بولتے ہوئے افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے سینہ تان کر سامنے کھڑے دکھائی دیتے تھے۔ جب چیف صاحب بحال ہو گئے تو میں نے عمران کا انٹریوکیا ۔ اس موقع پر ایسا لگتا تھا کہ اُنہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے اور عدلیہ کی بحالی کا سہرا کچھ اور افراد کے سر باندھ دیا گیا ہے ۔ اعتزاز احسن تو ان کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے کیونکہ اُس تاریخی دن جب کارواں کامونکی کے قریب تھا تو اعتزاز احسن نے نواز شریف کو ’’کچھ ‘‘بتاکر لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ اس موقع پر اُن (عمران ) سے مشاورت تک نہیں کی گئی تھی۔ میں نے عمران سے پوچھا کہ کیا یہ رویہ توہین آمیز نہیں؟ پی ٹی آئی کے قائد نے کہا …’’تحریکِ انصاف تو ہے ہی انصاف کی سر بلندی کے لیے۔ میں نے اس تحریک میں کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ نظام میں تبدیلی کے لیے حصہ لیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ اگلے چھے ماہ کے اندر اندر آزاد عدلیہ ملک میں عدل و انصاف کا بول بالا کر دے گی۔ ‘‘

جب چیف صاحب اس دسمبر میں جب کہ وہ اپنے منصب کو خیر آباد کہہ دیں گے تو پھر بہت سے لوگ ، جن میں ہم بھی شامل ہیں، ان کے بارے میں تبصرے کیا کریں گے ۔ کچھ لوگ اُن کو سراہیں گے ،جبکہ ان پر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوگی۔ اُس وقت وہ بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالیں گے۔ ایک مرتبہ پھر ٹی وی پر عدلیہ کا موضوع حمایت اور مخالفت کے ترازو میں تولا جائے گا۔ انسانوں کی دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کسی بھی شخصیت پر تنقید کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی بڑی شخصیت منصب سے ہٹی ہے تو اس کے لیے پھولوں کے گلدستے کم ،تنقید ی کلمات زیادہ ہوتے ہیں…یہ سب چلتا ہے کیونکہ یہ فرشتوں کی نہیں ، انسانوں کی دنیا ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ سابقہ چیف جسٹس صاحبان کے برعکس افتخار محمد چوہدری صاحب کو طویل عرصے کے لیے یادرکھا جائے گا کیونکہ اُنھوں نے ملک میں کینسر کی طرح پھیلی بدعنوانی کے خلاف ایک طرح کا جہادکیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان پر یہ تنقید بھی کہ جائے کہ اُنھوں نے پی پی پی کے رہنماؤں کو تو آڑھے ہاتھوں لیا جبکہ ان کے سیاسی مخالفین کے لیے نرم گوشہ رکھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہ ہو، لیکن الزام لگانے والوں کی زبان نہیں پکڑی جاسکتی۔

بہرحال مستقبل کے نقاد چیف جسٹس صاحب کو جس نظر سے بھی دیکھیں، ابھی اُن کے پاس کرنے کے بہت کام ہے۔ ان کے دور میں بہت سے اہم کیسز شروع کیے گئے ہیں اورابھی ان پر فیصلہ آنا باقی ہے۔ ایسے ہی کیسز میں سے ایک سوئس کیس بھی ہے جو زرداری صاحب، جن کا صدارتی استثنا ختم ہونے کے قریب ہے، کی مبینہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے ہے۔ عدالت کی طرف سے سابق سفیر حسین حقانی کو بھی ایک ماہ کے دوران حاضر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ کچھ دنوں تک وہ ڈیڈ لائن بھی ختم ہونے والی ہے۔ کیا اٹھ ستمبر کے بعد سپریم کورٹ اس ضمن میں کوئی کاروائی کرنے کا حکم دے گی؟ملک کے ایک مشہور انگریزی اخبار کے مطابق …’’ گزشتہ دو سال عدلیہ کے حوالے سے اتنے اچھے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے امیج کو بہت سے کیسز ، جیسا کہ میمو گیٹ اسکینڈل، نے داغدار کر دیا ۔ اس کے علاوہ یہ تاثر بھی ملا کہ عدلیہ اوردفاعی اداروں میں تصادم ہونے جارہا ہے۔ ‘‘ابھی عدلیہ ان معاملات سے سنبھلی ہی تھی کہ ارسلان افتخار کیس نے سر اٹھا لیا۔ آئینی ماہر ڈاکٹر عبدالباسط اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں…’’عدالت انقلاب نہیں لا سکتی… یہ دور عدالت کے حوالے سے بہت سے مثبت اور منفی معروضات سے عبارت رہا ہے‘‘ اُن کا کہنا ہے کہ عدالت نے بدعنوانی کے خلاف بہت عمدہ رویہ دکھایا لیکن بہت سے سوؤ موتو نوٹس لینے سے دیگر اداروں میں مداخلت کا تاثر بھی ملا۔ جسٹس (ر) طارق محمود نے بھی عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے ’’پی آئی ایل‘‘ کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی معمول کے ریاستی افعال میں مداخلت دکھائی دیتا ہے۔

اس وقت ، جبکہ چیف صاحب کی مدت تمام ہونے والی ہے، اُنہیں چاہیے کہ موجودہ حکومت کی بداعمالیوں پر بھی نظر رکھیں۔ میں نے گزشتہ کالم میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ طرح سپیشل کمیٹی بناکر من پسند افراد کو اعلیٰ ملازمتوں سے نوازنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔ اگرچیف صاحب ان معاملات کو بھی دیکھ لیں تو ان پر ان کے ناقدین اس حکومت کی جانبداری کا جوالزام لگاتے ہیں،وہ زائل ہوجائے گا۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.