.

عمران، فضل الرحمن اور شرمناک

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم لوگ بنیادی طور پر تماش بین ہیں، تماشبین صرف وہ نہیں ہوتا جو مجرا دیکھنے جاتا ہے بلکہ گاڑیاں عین سڑک کے درمیان روک کر رکشے والے اور مسافر کے درمیان ہونے والی دھینگامشتی دیکھنا بھی تماشبینی میں شامل ہے۔ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کی مقبولیت کے پیچھے بھی یہی تماشبینی ہے کہ ہم دو بظاہر معززین کو ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، ان دنوں تو خصوصاً بہت رونق دکھائی دے رہی ہے، روزے کی ساری تھکن ہمارے وہ معززین اتار دیتے ہیں جو نہیں جانتے کہ وہ کیا سوچ کر یہ سب کچھ کررہے ہیں اور عوام یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ چند روز قبل سلیم صافی کے ”جرگے“ میں مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کویہودی لابی کا ایجنٹ قرار دے ڈالا۔ اس سے پہلے وہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ عمران خان کو ووٹ ڈالنا از روئے شریعت حرام ہے۔ سلیم صافی نے مولانا کو مزید ”اُشکل“ دینے کی بجائے پوری کوشش کی کہ مولانا اپنے اس انتہا پسندانہ رویے پر نظر ثانی کریں گے مگر مولانا اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔

میں مولانا فضل الرحمن سے بہت سے سیاسی اختلافات رکھتا ہوں لیکن میرے نزدیک سیاسی فہم و ادراک میں ان کا کوئی ثانی نہیں، وہ لفظ ڈپلومیٹک استعمال میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اگر مذہبی جماعت کے رہنما نہ ہوتے تو انہوں نے پوری پاکستانی قوم کو پیچھے لگایا ہونا تھا اور وزیراعظم یا صدر بننا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ آپ یقین کریں ان کا صرف ”گیٹ اپ“ ان کی ”ترقی“ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر سخت حیرت ہورہی تھی کہ اس روز وہ ”فارم“ میں بالکل نہیں تھے، وہ شدید غصے کے عالم میں تھے اور اسی جھنجھلاہٹ کے دوران بغیر کسی دلیل کے وہ عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیئے جارہے تھے۔

عمران خان سے میری ”محبت“ کی ایک دنیا گواہ ہے لیکن انہیں یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ وہ پاکستان کا درد رکھنے والے محب وطن رہنما ہیں لیکن سیاسی فہم و ادراک سے عاری ہونے کی وجہ سے اپنی مختصر سی سیاسی زندگی میں کئی قلابازیاں لگا چکے ہیں۔ جس کی ایک مثال ”تبدیلی“ کے لئے پرانے بازی گروں پر بھروسہ کرنا بھی تھا اور کھلے عام ٹکٹوں کی خرید و فروخت بھی تھی جس کا انہیں کچھ علم نہیں تھا، تاہم مولانا فضل الرحمان نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ ان کے شایان شان نہیں تھا اسی طرح عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمن کے بارے میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایسی ز بان استعمال کی جو خود انہی کے لفظوں میں بہت ”شرمناک“ تھی۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو منافق اعظم قرار دیا اور اس کے علاوہ وہ اور ان کے پیروکار چور ڈاکو اور لیٹرا وغیرہ تو ہر ایک کو قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک ان لفظوں کا استعمال شاید گالی میں ہوتا ہی نہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود میں مولانا سے بہت ادب کے ساتھ گزارش کروں گا کہ وہ عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ نہ کہیں۔ عمران خان ہو، نواز شریف ہو، اسفندر یار ولی ہو یا دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماء ہوں ان سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کوئی بھی معروف معنوں میں غیر محب وطن ہے۔

اور ہاں یہ خبر سن کر تو تماشبین حضرات کی باچھیں کھل اٹھیں گی کہ عمران خان اپنا کیس عدالت میں لے جارہے ہیں تاکہ مولانا نے ان پر جو الزام لگایا ہے اس کا نتارا ہوسکے،اس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے حوالے سے دونوں طرف کے وکلاء جو جو کچھ سامنے لائیں گے اس پر یہ دونوں حضرات توبہ توبہ کراٹھیں گے۔ انہیں شاید علم نہیں کہ عدالتوں میں جب ریپ کا کوئی کیس زیر بحث آتا ہے تو وہ مظلوم خاتون مزید کتنی دفعہ لفظی طور پر ریپ ہوتی ہے چنانچہ آنے والے دنوں میں تماشبین حضرات اخبارات کی سرخیوں اور ٹی وی چینلز کی ہیڈ لائنز پر خصوصی نظر رکھیں کہ ان حوالوں سے ان کی تماشبینی کی حس پوری ہونے کے بہت روشن امکانات ہیں ۔صرف یہی نہیں بلکہ ایسی عدالت میں عمران خان نے یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کیلئے ”شرمناک“ کا جو لفظ ا ستعمال کیا ہے وہ گالی کی ذیل میں نہیں آتا۔

مجھ سے ایک ٹی وی چینل میں سوال کیا گیا تھا کہ ایک ادیب کے طور پر آپ لفظ ”شرمناک“ کو گالی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں یا نہیں؟میرا جواب تھا کہ ہر لفظ کا ایک سیاق و سباق ہوتا ہے اگر میں اپنے بیٹے کو کہوں کہ تمہاری فلاں حرکت بہت شرمناک ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر میرا بیٹا میرے بارے میں یعنی اپنے والد کے بارے میں یہ الفاظ ادا کرے تو یہی لفظ نامناسب الفاظ کی ذیل میں آجاتا ہے۔ عمران خان نے ”شرمناک“ کا لفظ عدالت کے لئے استعمال کیا ہے عدالت اسے گالی قرار دے کر ان پر توہین عدالت کا الزام عائد کررہی ہے۔میرا کہنا تھا کہ عمران خان نے عدالت کے لئے نامناسب لفظ استعمال کیا تاہم اسے گالی قرار نہیں دیا جاسکتا، اگر سیاسی رہنما اور دوسرے طبقات کے لوگ خان صاحب اور ان کے پیروں کاروں کو ان کے لب و لہجے اور جو زبان وہ خود سے اختلاف کرنے والوں کے لئے استعمال کرتے ہیں نشاندہی کرنے لگیں تو ساری عمر بس صرف یہی ایک کام کرسکیں گے۔”شرمناک“ کی تو ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ ہر جماعت کا ایک کلچر ہوتا ہے اور وہ اس کلچر سے باہر نہیں جاسکتی، لہٰذا عدالت سے میری درخواست ہے کہ وہ معاملہ رفع دفع کریں اور خود عمران خان سے بھی میں گزارش کروں گا کہ وہ بھی اس کے لئے عدالت کو واپسی کا راستہ دیں، نیز ان چکروں میں پڑنے کی بجائے کے پی کے کے معاملات کی طرف دھیان دیں، یہ صوبہ ان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔

باقی رہا مولانا فضل الرحمان کا افسوسناک الزام تو بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ عمران خان کوئی فرشتہ نہیں ہے اس میں جہاں کچھ اچھی باتیں ہیں ، وہاں کچھ عیب بھی ہیں ان میں سے ذاتی عیوب کو چھوڑ کر وہ ان کی سیاسی چھترول بخوشی کریں مگر اپنا یہودی لابی والا الزام اوروہ فتویٰ بھی واپس لے لیں جس کے مطابق تحریک انصاف کو ووٹ دینا حرام ہے۔ عمران خان ناپختہ کار سیاستدان ہے اس کے ہاتھ میں زمام اقتدار واقعی نہیں تھمائی جاسکتی، چنانچہ اس کا مقابلہ سیاسی میدان میں کریں اور ہاں ایک بات یاد رکھیں برصغیر کے مسلمانوں نے سوائے قادیانیوں کے کسی دوسرے طبقے یا افراد کے حوالے سے دئیے گئے فتووں کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مولانا کا تازہ فتویٰ ”شرمناک“ ہے کیونکہ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہونے کے باوجود میرے لئے بزرگی کے مقام پر ہیں چنانچہ یہاں لفظ”شرمناک“ کا لفظ اسی طرح قابل اعتراض ٹھہرے گا جس طرح عدالت کے حوالے سے عمران خان نے اس لفظ کا غلط استعمال کرکے عدالت کو دعوت مبارزت دے ڈالی ہے! چنانچہ میں صرف یہی کہوں گا کہ مولانا کا فتویٰ نامناسب ہے ،اگر ممکن ہو تو وہ اس سے رجوع فرمالیں۔

پس نوشت، برادر مکرم عرفان صدیقی نے برادر عزیز سلیم صافی کو مخاطب کرکے جو منظوم گلہ کیا ہے وہ ان کی قادر الکلامی کا شاہکار ہونے کے علاوہ ان کے دکھ کا اظہار بھی کرتا ہے میں نے گزشتہ روز ہم سب کے مشترکہ دوست میجر عامر کو فون کرکے گزارش کی تھی کہ ان دونوں کے درمیان شکرنجی ختم کرنے میں وہ اپنا کردار ادا کریں۔ عرفان کی موثر نظم پڑھنے کے بعد میرا خیال ہے کہ برادر عزیز سلیم صافی کو اب عرفان صدیقی کے گھر جاکر انہیں گلے لگا لینا چاہئے اور ان کے قلم کی اس لغزش کو فراموش کردینا چاہئے جو کسی بدنیتی کی وجہ سے نہیں تھی۔ اطلاعاً عرض ہے کہ گلے ملنے کیلئے عید کا انتظار ضروری نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.