.

پاکستان کی روشن تصویر

عدنان عادل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسائل اور مشکلات اپنی جگہ لیکن پاکستانی معاشرے میں ایسی بنیادی تبدیلیاں بھی رونما ہورہی ہیں جو ایک روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ میڈیا پر بحث مباحثہ کرنے والے عام طور سے منفی باتوں پر توجہ مرکوزرکھتے ہیں۔لوڈ شیڈنگ‘ انتہا پسندی‘ دہشت گردی‘ کرپشن‘لاقانونیت اور خراب حکمرانی وغیرہ لیکن وہ معاشرے کے تعمیری پہلووٴں کو نظر اندازکردیتے ہیں جیسے جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور مڈل کلاس کا پھیلاؤ‘ میڈیا کی آزادی‘بنیادی سہولتوں کا دُور درازعلاقوں تک پہنچ جانا ‘ جمہوریت کا تسلسل اور طول و عرض میں سیاسی بیداری کی لہر ۔غور سے دیکھا جائے تو ہمارے ملک کے مسائل کی نوعیت عارضی ہے جو جلد یا بدیر حل کرلئے جائیں گے جبکہ جومثبت سماجی تبدیلیاں آرہی ہیں وہ دیرپا نوعیت کی ہیں۔زیادہ تر منفی پہلوؤں کا تعلق ریاستی نظام سے ہے جبکہ سول سوسائٹی پہلے کے مقابلہ میں توانا اور فعال ہوئی ہے۔
میرا گاؤں ضلع مظفر گڑھ کا ایک دُور اُفتادہ مقام ہے۔ آج سے پچیس تیس برس پہلے یہاں صرف ایک سرکاری اسکول تھا، وہ بھی لڑکوں کا۔ آج اس چھوٹے سے موضع میں تیس سے زیادہ لڑکے لڑکیوں کے نجی اسکول ہیں ۔ میں جب مظفر گڑھ کا سفر کرتا ہوں تو حیرت انگیز خوشی ہوتی ہے کہ جگہ جگہ پرائیویٹ اسکول‘ کمپیوٹر کالج اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں۔ درجنوں اقامتی اسکول ہیں جہاں ملک بھر سے آئے ہوئے بچے حصول علم میں مصروف ہیں۔یہ تو ایک علاقے کی مثال ہے۔ پورے ملک میں جدید تعلیم کے حصول کے لئے زبردست ولولہ پایا جاتا ہے۔ حکومت نے تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کیا لیکن عام پاکستانی اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کومعیاری تعلیم دلوا رہا ہے۔ نجی یونیورسٹیوں میں جانے کا موقع ملا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ درجنوں ایکڑوں پر پھیلے کیمپس‘ جدید سہولتوں سے مزین کلاس رومز ‘ لائیبریریاں اور اعلی تعلیم کی فیکلٹیز۔ مذہبی مدرسے اپنی جگہ لیکن جدید تعلیم کی درس گاہیں ان سے کہیں زیادہ تعداد میں ملک کے طول و عرض میں کام کررہی ہیں۔اگر قدامت پسند نصاب پڑھ کر نکلنے والے لاکھوں میں ہیں تو جدید تعلیم حاصل کرنے والے بھی تعداد میں کم نہیں ۔ یہ تعلیم یافتہ افراد ایک جدید پاکستان کی مضبوط بنیاد ہیں۔ ممکن نہیں کہ وہ معاشرہ کی مجموعی بہتری کے لئے کوئی کردار ادا نہ کریں۔

جدید پاکستان کا ایک اور سنگ میل آزاد میڈیاہے۔ جس نے ملک کی سول سوسائٹی کو توانا اور اس کے کردار کو موثر بنا دیا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر روزانہ پچاس ساٹھ ٹاک شوز نشر کئے جاتے ہیں جن میں ہر طبقہ فکر کے سیاستدان‘ دانشور اور صحافی قومی معاملات پر کھل کر رائے دیتے ہیں۔ پہلے عام گلہ تھا کہ عوام سیاست سے لا تعلق ہوگئے ہیں۔ اب سوشل میڈیا نے عوام کی سیاسی اور سماجی آزادی کی سرحدیں مزید وسیع کردی ہیں۔ اس وقت ملک میں دس کروڑ سے زیادہ موبائل فون استعمال میں ہیں ۔دو کروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں۔ ان میں سے بیس لاکھ سے زیادہ لوگ تیز رفتار براڈ بینڈکنکشن استعمال کرتے ہیں۔ اسمارٹ فون کا رواج بڑھ گیا ہے۔ اب جو باتیں مین اسٹریم میڈیا میں کسی وجہ سے نہیں آتیں وہ فیس بک اور ٹویٹر پر نشرکر دی جاتی ہیں۔ عوام سے کچھ چھپایا نہیں جاسکتا۔ یوں سوشل میڈیا نے سماج اور ریاست پر مخصوص گروہوں کے غلبہ کو کمزور کیا ہے اور اب عوام خصوصاً متوسط طبقہ زیادہ بااختیارہو گیا ہے۔

عوام کی بیداری بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ملک کے کونے کونے میں بجلی کا بحران ہو یا پولیس کی زیادتیاں ہوں یا ورکرز کے مطالبات ‘ متاثرہ لوگ ملک کے کونے کونے میں سڑکوں پر آکر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ خاموش رہ کرزیادتی برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ ملکی اشرافیہ کیلئے انہیں نظر انداز کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ عوام کا یہ تحرک ایک زندہ قوم کی نشاندہی کرتا ہے جو اپنے حالات میں بہتری کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج بھی اس رجحان کے عکاس تھے۔ لوگوں نے کارکردگی کی بنیاد پر بعض سیاسی جماعتوں کو مسترد کردیا اور نئے لوگوں کو اپنا مینڈیٹ دیا۔ ساڑھے چار کروڑ لوگوں کا حق رائے دہی استعمال کرنا بذات خود جمہوری معاشرے کے قیام کے لئے ایک نیک شگون ہے۔ جمہوریت کا تسلسل قائم ہوا ہے۔پُرامن انتقال اقتدار کی روایت پڑگئی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے متحرک کردار نے چیک اور بیلنس کا ایک نظام قائم کردیا ہے جس میں ایگزیکٹو کے لئے من مانیاں کرنے کی گنجائش کم ہوگئی ہے۔آزاد عدلیہ اور میڈیا نے ملکر غیر جمہوری قوتوں کو کمزور کیا ہے۔ ملک میں جمہوری نظام کے تین اہم ستون یعنی منتخب اسمبلیاں‘ عدلیہ اور میڈیا پہلے کی نسبت بہت مضبوط ہوگئے ہیں۔

اس ملک کا ایک بڑا تعمیری پہلو صحت عامہ کی مفت سہولتوں میں ہونے والا روز بروز اضافہ ہے۔ حکومت تو اس شعبہ میں تعلیم کی طرح اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر بیٹھ گئی تھی لیکن درد مند لوگوں نے عوام کے تعاون سے ایسے بے شمار ادارے بنالئے جہاں مستحق افراد کا مفت یا سستا علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔ لوگ ہر سال اربوں روپے ان اداروں کو زکوٰة ‘ خیرات اور عطیات کی مد میں دیتے ہیں اور وہ اب اسپتالوں کی اعانت بھی کرنے لگے ہیں۔ مائکروفنانسنگ کے ادارے وجود میں آچکے ہیں جو بے روزگاروں کو کاروبار شروع کرن ے کے لئے وسائل فراہم کررہے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں نمایاں ہے جہاں سب سے زیادہ خیرات کی جاتی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی زندگی کا ایک قابل فخر پہلو ہے۔

اس تمام پیشرفت کے پس منظر میں اہم فیکٹر گزشتہ تیس برسوں میں ہونے والی معاشی ترقی ہے جس نے ایک بڑے متوسط طبقہ کو جنم دیا ہے ۔ اس میں تاجر‘ دکاندار‘ پیشہ ور ماہرین اورصنعت کار شامل ہیں۔ یہ ملک اب ستّر فیصد دیہی اکثریت کامعاشرہ نہیں ہے بلکہ تازہ تحقیقات کے مطابق اس کا اسّی سے نوّے فیصد حصہ مکمل یا نیم شہری ہوچکا ہے ۔ معیشت میں زراعت کا کردار محض پچیس فیصد رہ گیا ہے۔ بڑے زمینداروں اور قبائلی سرداروں کے غلبہ میں بہت کمی آگئی ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ عملیت پسند ہے ۔ ملک میں جمہوریت‘ قانون کی حکمرانی اور بہتر نظام حکومت کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ طبقہ معاشرے اور سیاست میں زیادہ موثر کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کو انتہا پسندی‘ کرپشن‘ غربت اور خراب حکمرانی کے موجودہ مسائل سے باہر نکالے گا۔ایک روشن اور خوشحال مستقبل کی اُمید کے لئے کافی وجوہات موجود ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.