.

پاک بھارت مذاکراتی عمل اور اسکے نتائج

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سے نواز شریف نے اقتدار سنبھالا ہے کئی پیش رفتوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے مابین جلد تعلقات معمول پر آنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ پچھلے 2 ماہ میں سفارتی رابطوں نے رکے ہوئے مذاکرات کی بحالی کیلئے ماحول سازگار بنادیا ہے۔ لیکن بھارت میں انتخابی موسم وارد ہونے کو ہے اور وہاں کی جماعتیں انتخابی مہم کی روش پر پہلے سے عمل پیرا ہیں اس لئے مستقبل قریب میں اس بابت کی جانے والی توقعات حقیقت پسندی پر مبنی ہونی چاہیئں۔ دونوں ممالک کے درمیان لہجے اور قرینے میں بہتری آئی ہے۔ یہ فضاء رواں برس کے اوائل میں سفارتی سرمہری سے مختلف ہے جس میں بھارت نے باضابطہ مذاکرات معطل کردیئے تھے۔ اس کے بعد جنوری میں لائن آف کنٹرول(ایل او سی) پر ہونے والی کشیدگی نے تناوٴ میں مزید اضافہ کیا تھا جس میں پاکستان اور بھارت دونوں کے فوجی لقمہ اجل بنے۔ اس سفارتی تعطل نے دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین سطح پر دوبارہ رابطوں کی سرگرمیوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ اگر چہ پاکستان کے مئی میں ہونیوالے انتخابات سے اب تک وزیر اعظم نواز شریف اور من موہن سنگھ دو مرتبہ ایک دوسرے سے ٹیلی فون پر بات کرچکے ہیں۔ خارجہ پالیسی پر نئی حکومت کے ابتدائی بیانات سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کا اشارہ ملا ہے۔انتخابات میں کامیابی کے بعد نئی دہلی کی جانب سے نواز شریف کے بھارتی ہم منصب نے خصوصی ایلچی ستندر لامبا کو ایک خصوصی پیغام کے ساتھ ملاقات کیلئے بھیجا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے جواباً شہریار خان کو بیک چینل سفیر کے طور پر بھارت روانہ کیا جس کا مقصد اسلام آباد کی جانب سے جامع مذاکرات بحال کرنے کی خواہش کا پیغام پہنچانا تھا۔

اُس وقت سے اب تک دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ آسیان کانفرنس کے موقع پر برونائی میں ملاقات کرکے اعتماد سازی کے اقدامات اور مذاکراتی عمل کی رفتار کو بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مابین نیویارک میں پہلی ملاقات پر اتفاق ہوگیا ہے۔ پس پردہ مذاکرات کیلئے سنجیدہ مسائل کی نشاندہی اس اجلاس کی ایک پیش رفت ہوسکتی ہے۔اسی اثناء میں پاکستان نے مختلف امور پر 8 نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کیلئے تاریخیں تجویز کردیں ہیِں جن میں پانی، سرکریک اور مسئلہ کشمیر پے دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقاتیں شامل ہیں۔ اسلام آباد نے سیاچن اور دیگر تنازعات پر مذاکرات کیلئے بھارت سے تاریخیں تجویز کرنے کا کہا ہے کیونکہ ان پر مذاکرات کی میزبانی کرنا نئی دہلی کی باری ہے۔ اگست اور نومبر میں جامعے مذاکرات کا تیسرے دور کا منصوبہ تیار کیاگیا ہے۔ ستمبر2012ءء میں واحد تجارت کے ایجنڈے پر گفتگو ہوئی اس وقت لائن آف کنٹرول کے واقعے کی وجہ سے مذاکرات کا تیسرا دور تعطل کا شکار ہوگیا۔

سفارتی جمود کی وجہ سے پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا منصوبہ متاثر ہوا جو کہ 2012ءء کے اختتام تک متوقع تھا۔ اس تعطل کی وجہ سابق حکومت کی عدم تیاری اور زرعی شعبے سمیت مخصوص صنعتوں کے اسٹیک ہولڈرز کو کے خدشات کو دور کرنے میں نااہلی تھی، ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی اقدامات کے بغیر یہ اقدام نہ کیا جائے کیونکہ بھارت کے درآمدی طریق کار میں نان ٹیرف بیرئر اور اس کے زرعی شعبے کو حاصل سبسڈیز کی وجہ پاکستانی تاجروں کو تجارت کے یکساں مواقع نہیں ملتے۔ گزشتہ پیغامات کو سامنے رکھتے نئی دہلی کو توقع ہے کہ پاکستان پسندیدہ ترین ملک کے درجے کے معاملے پر فوری عملدرآمد کرے، اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو پہلے ملک کی اندرونی سطح پر اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ جامع مذاکرات کی بحالی پر سوالات کھڑے کئے جارہے تھے کہ بھارت میں انتخابی جنون کے شروع ہونے سے قبل مختصر وقت سے کتنا استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں عام انتخابات مئی2014ءء ہوں گے، لیکن اس سے قبل چار کلیدی ریاستوں کے انتخابات نومبر میں ہوں گے جن میں راجستھان،دہلی، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے نام شامل ہیں۔ اگر حکمراں جماعت کانگریس دہلی اور راجستھان میں(جو کہ ابھی اسکے پاس موجود ہیں) انتخابات ہار گئی تو پھر اس پر پاکستان کے حوالے سے خارجہ پالیسی کا کوئی اقدام نہ کرنے کا سیاسی دباوٴ ہوگا۔

اس صورت میں مذاکراتی عمل میں پیش رفت کا موقع نومبر میں ختم ہوجائیگا۔دوسری صورت میں اگر کانگریس بہت اچھی پیش رفت کرے تو پھر اس موقع کے دورانیے میں تھوڑا بہت اضافہ ہوسکتا ہے۔لیکن آنے والے انتخابات اور انتخابی سوچ بچار اس حوالے سے نئے وعدے کرنے کی نئی دہلی کی اہلیت کو محدود کردے گی اور اس طرح خاطر خواہ پیش رفت کے امکانات کم ہی ہیں۔

اب بھی سیاسی طور پر کم جگہ ہونے کے باوجود دونوں اطراف ماحول کی بہتری ممکن ہے اور اسکی چاہ بھی ہے، تجارت معمول پر لانے کیلئے تھوڑے اقدامات کئے جاسکتے ہیں، جو دونوں حکومتیں چاہتی ہیں اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے بھی چند اقدامات کئے جاسکتے ہیں جہاں تناوٴ بہت تیزی سے پنپتا اور تعلقات معمول پر لانے کیلئے تمام پیش رفتوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔اگر یہ سب ہوجائے تو یہ باہمی ماحول کو بہتر بنائے گا۔ اس سے بڑھ کر اہداف اور توقعات وابستہ کرنا مایوسی کو جنم دیگا، بلکہ باہمی الزام تراشیوں سے تعلقات میں ابتری پیدا ہوگی، اگر ماضی کو مدنظر رکھا جائے تو تعلقات بہتر بنانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کے ضمن میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔ تعلقات کی فضاء میں بہتری حادثات پر مائل تعلقات کے تناظر میں جامع مذاکراتی عمل کی بحالی اور اسے ٹریک پر برقرار رکھنا بذات خود ایک کامیابی ہے حالانکہ سفارتی تعلقات کی تاریخ یہ ہے کہ مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے پھر ان میں تعطل پیدا ہوتا اور بالآخر وہ رک جاتے ہیں۔

سن 2003ءء کے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت لائن آف کنٹرول کی صورتحال میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔ جنوری کے مہینے سے دونوں اطراف سے ایل او سی کی خلاف وزری کی شکایات کی جارہی ہیں۔ان سانحات کا اچانک ہوجانے کی وجہ غیر تصفیہ طلب تنازع کشمیر ہے لیکن ایک مرتبہ جب یہ تناوٴ شروع ہوجاتا ہے تو پھر یہ تعلقات کے عمل کو معمول پر لانے میں ہونیوالی پیش رفت کو بھی نگل جاتا ہے۔مستقل قریب میں اہم اہداف کا تعین مناسب طور پر کیا جانا چاہئے اگرچہ اہم ہدف تعلقات کو مثبت اور مستحکم سطح پر لانا ہے۔ انتخابات ختم ہونے کے بعد مذاکراتی عمل کو دور رس بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے نہ کہ اسے صرف ایک ایسا عمل بنادیا جائے جس سے کوئی حل نہیں نکلتا یا ایسی ملاقات جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔

اس مسئلے کا سایہ مستقبل قریب میں افغانستان پر بھی پڑسکتا ہے۔ حالانکہ اس مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ ہوا دونوں نے گزشتہ 2 سالوں میں اس مسئلے پر بات نہیں کی۔2014 ءء میں افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کا وقت آرہا ہے اور ایسے میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کی تذویری نیتوں پر شک میں اضافہ ہو سکتا ہے۔دونوں ممالک کیلئے سفارتی چیلنج یہ ہوگا کہ دونوں اطراف سے کی جانے والی کوششوں کے مثبت ثمرات کو کس طرح زائل ہونے سے بچایا جائے۔

اسکے علاوہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات سے سبق سیکھنا چاہیئے اور ماضی میں اسی طرح کی کوششوں کی رفتار کو بھی زیر غور رکھا جانا چاہئے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر تجارت، ویزا اور عوامی شطح پر رابطوں جیسے آسان مسائل پر کچھ پیش رفت ہو تو متنازع مسائل پر پیش رفت ہونا مشکل ہے جوکہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں تناوٴ کا باعث ہیں اور جن سے مذاکراتی عمل کے خاتمے کا خطرہ رہتا ہے۔تجارتی تعلقات میں بہتری کیلئے پانی جیسے مسائل کابامعنی طور پر حل ہونا ضروری ہے کیونکہ اسکی وجہ سے معاشی تعلقات میں آنے والی بہتری زائل ہوسکتی ہے۔ظاہری عوامل سمیت غیر حل شدہ تنازعات کی وجہ سے موجودہ ماحول میں خوف کی لہر برقرار رہی تو معاشی تعلقات اپنی معراج حاصل نہیں کرپائیں گے۔ یہ حواس خمسہ سے سمجھ آنی والی بات ہے کوئی مشروط دلیل نہیں کہ پہلے مرحلے میں کیا ہونا چاہئے۔

مذاکراتی عمل کا مقصد تنازعات کو حل کرکے نتائج حاصل کرناہے جن سے تعلقات مستقل بنیادوں پر معمول پر آتے ہیں، جن میں تجارتی تعلقات بھی شامل ہیں نہ کہ انہیں سیاسی عدم اعتمادی اور تذویری خطرے کے حوالے کردینا چاہئے۔ طویل مدتی تناظر میں دونوں ممالک کو اپنے اختلافات ختم کرنے کیلئے بردباری اور عزمِ مصمم پر مبنی کاوشیں کرنی چاہئیں، کیونکہ یہ اتفاق رائے سے تکمیل پاتا ہے۔جب تک تمام نئے پرانے تنازعات ڈیڈلاک کا شکار رہیں گے اور تذویری فضاء پر تناوٴ کے بادل چھائے رہیں گے اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.