.

ملا عمر کا عید کا پیغام

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم طالبان سے انتہا پسندی، ہٹ دھرمی، تنگ نظری اور بنیاد پرستی جیسے نظریات منسوب کرتے ہیں،چناچہ جب ان کی طرف سے کوئی لچک دار اور متعدل الفاظ میں کسی معقول بات کی اپیل کی جاتی ہے تو ہمیں سخت حیرانی ہوتی ہے… کہ کیا سورج مغرب سے طلوع ہو رہا ہے؟ اس عید پر افغان عوام کے نام اپنے عیدکے پیغام میں امیر المومنین ملا عمر نے دیگر افغان عوام کے حقوق کا احترام کرنے اور اگلے سال غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد مخلوط حکومت سازی کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان غاصب قوتوں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے لیکن وہ پر امن مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔ یہ بیان طرزِ عمل میں تبدیلی کی غمازی کرتا ہے لیکن ان کی طرف سے ورطۂحیرت میں ڈال دینے والا بیان تعلیم کے حوالے سے ہے۔ اُن کا کہنا ہے…’’جدید تعلیم آج کے ہر معاشرے کی ضرورت ہے۔‘‘9/11 سے پہلے اپنے جابرانہ رویے اور تنگ نظری کے حامل معاشرے اور خواتین کے ساتھ سنگدلانہ سلوک کی وجہ سے طالبان خوفناک نظرآتے تھے لیکن اب ان کی طرف سے نرم لہجے کا استعمال خطرناک ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اب وہ زیادہ قابلِ قبول اور پرکشش نظر آتے ہیں۔

جب طالبان کی افغانستان پر حکومت تھی وہ وہ سخت گیر رویہ رکھتے تھے لیکن افغانستان پر امریکی قبضے کا شکریہ کہ اس نے ان کے سفاک ماضی اور اس میں ڈھائے گئے جبر کو قصۂ پارینہ بنا دیا ہے۔ اب عوام کے ذہن ماضی کے جھرکوں میں نہیں جھانکتے، اب وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ان کے ملک پر استعماری طاقتوں نے قبضہ کیا ہوا تھا ۔ اب جو منظر نامہ ابھر رہا ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان پر امریکی قبضے کے خلاف طالبان نے بہت جواں مردی سے جدوجہد کی اور امریکہ، بہت سے فاتحین کی طرح یہاں سے پچھتاتے ہوئے راہِ فرار اختیار کر رہا ہے کہ وہ یہاں آئے ہی کیوں تھے۔

اس سے پہلے طالبان میں لچک دار رویے، موقع شناسی اور چالاکی کی کمی تھی لیکن اگر ملا عمر کے بیان سے کوئی مفہوم لیا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اب وہ سفارت کاری اور سیاست کے آداب بھی سیکھ رہے ہیں۔ چند سا ل پہلے تک وہ قدیم نظریات کو لے کر جنگ و جدل کرنے والے تنگ نظر افراد تھے مگر اب وہ تیزی سے جدت پسندی کی طرف مائل ہیں… بہت شکریہ امریکیوں کی آمد کا! یہ چیز امریکیوں کے لیے بھی اچھی ہے اور طالبان کے لیے بھی، لیکن یہ ہمارے لیے مسلۂ ہے۔ بات یہ ہے کہ پاکستانی طالبان، اگرچہ وہ ہر معاملے میں قندھار سے حکم نہیں لیتے ہیں، لیکن فکری اعتبار سے وہ افغان طالبان جیسے ہی ہیں۔ ہمارے شمالی علاقوں میں پھیلی ہوئی شورش پسندی دراصل افغان جہاد کا ہی شاخسانہ ہے۔ پیش آنے والے حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان نہ صرف اپنی کاروائیوں میں دلیر ہوتے جارہے ہیں بلکہ ان کے عزائم بھی ارتفاع کی طرف گامزن ہیں۔

جو شخص بھی حالیہ افغان صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہتا ہو، اُسے چاہیے کہ وہAlex Strick van Linschoten اور Felix Kuehn کی کتاب ’’An Enemy We Created‘‘ کا مطالعہ کرے۔ انھوں نے تمام صورتِ حال کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے جو نتیجہ نکالا ہے وہ یہ ہے کہ القاعدہ اور طالبان کبھی بھی ایک نہ تھے۔ یہ امریکی حملہ تھا جس نے اُنہیں چاروناچار ایک صف میں کھڑا کردیا۔ یہ درست ہے کہ ملا عمر نے بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا لیکن اُس وقت ان افغان طالبان کی بھی کمی نہ تھی جو اس بات سے ناخوش تھے کہ بن لادن کی وجہ سے اُنہیں یہ دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور اس عید پر اپنے تازہ پیغام میں طالبان یہ بات واضح کر رہے ہیں کہ عالمی جہاد ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ تاہم اس کتاب میں مصنفین نے ایک اور نتیجہ بھی نکالا ہے کہ ملاعمر، اگروہ زندہ رہا، تو عملی طور پر طالبان کا فعال لیڈر نہیں رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان کی نئی نسل کے رہنما، جنھوں نے جہاد کے دوران ہی آنکھ کھولی ہے، اب اُسے نظر انداز کرتے ہوئے قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والا عثمان، جو طبی پیشے سے وابستہ تھا اور عدنان رشید، جو پی اے ایف کا ایک جونیئر ٹیکنیشن تھا، جس نے پرویز مشرف کی جان لینے کی کوشش کی اورجو اب ڈی آئی خان جیل توڑنے کا بھی ماسٹر مائینڈ ہے، پاکستانی طالبان کی اُس نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو موجودہ سیاسی نظام کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ عدنان رشید کے کچھ ویڈیو پیغامات انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔ وہ ذہین دکھائی دیتا ہے اور اس کی انگریز ی بھی اچھی ہے اور وہ ملک کے’’ بدعنوان سرمایہ دارانہ جمہوری نظام ‘‘کے خلاف آواز اٹھارہا ہے۔ یہ بات خطرناک ہے کیونکہ طالبان کو سفاک اور جاہل ، جو ایک چھوٹی لڑکی ملالہ کو نشانہ بناتے ہیں، دشمنوں کا گلا کاٹتے ہیں اور ایک خاص فرقے کے خلاف نفرت کو ابھارتے ہیں، قرار دے کر ان کے پیغام کورد کیا جاسکتا ہے لیکن مجھے ملاعمر کی طرف سے عید دیے جانے والے معتدل مزاجی کے پیغام سے خطرہ ہے۔ اگر اس پیغام کی ’’بصیرت ‘‘ آہستہ آہستہ پاکستانی طالبان کی رگوں میں بھی سرائیت کر گئی اور وہ اپنے ظالمانہ رویے سے تائب دکھائی دیں تو پاکستانی معاشرے میں ان کے بہت سے حامی ابھر آئیں گے اور ان کا ’’سیاسی فلسفہ‘‘ بہت تیزی سے پھیل جائے گا۔ اگر ہماری ریاست جاندار اور متحرک ہوتی تو یہ بات زیادہ لائقِ تشویش نہ تھی کیونکہ دیگر معاشروں میں بھی انتہا پسندانہ رویے رکھنے والے گروہ موجودہ ہوتے ہیں لیکن ان کے خلاف لیے گئے ایکشن سے یا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ خود ہی اپنی کشش کھوکر کمزور ہو جاتے ہیں۔

تاہم پاکستانی معاشرہ ان سے مختلف ہے۔ یہاں کے اربابِ اختیار بدعنوان ہی نہیں بزدل بھی ہیں اور اس میں سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت عنقا ہے۔ ہم کئی مواقع پر دیکھ چکے ہیں کہ فوجی تنصیبات پر حملے ہوتے ہیں، ملک کے شمالی حصوں میں طالبان اپنی عملداری قائم کر لیتے ہیں لیکن سول اور ملٹری حکام کی طرف سے کسی ردِ عمل کا اظہار ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تمام ریاسی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ ہر کوئی اپنا مفاد چاہتا ہے۔ آصف زرداری کے پانچ سالوں نے وہ کچھ کر دکھایا جو جنرل ضیا الحق نہ کر سکا، یعنی پی پی پی کو تباہی سے دوچار کرنا۔ اس کے بعد آنے والی حکومت نے جدت پسندی کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کی قدامت پسندی نئے گُل کھلارہی ہے۔ اس کے چیف کا کہنا ہے کہ ملک کے اہم ترین مسائل حل کرنے میں تین سے چار سال لگیں گے۔ کیا اُنہیں اس بات کا احساس ہے کہ جب امریکی افغانستان سے رخت سفر باندھ رہے ہوں گے اور مذہبی بنیاد پرستی معاشرے پر چھارہی ہوگی تو ریاست کی سیاسی جغرافیائی عمل داری کہاں ہوگی؟

دو سو ملین کی آبادی رکھنے والا ایک بڑا ملک ، جس کی فوج دنیا کی طاقتور ترین افواج میں سے ایک ہے،جس کے پاس یٹمی صلاحیت بھی موجود ہے… اور ہم اس بات پر ناز کرتے نہیں تھکتے …. لیکن ہمیں پتہ ہی نہیں کہ درپیش مسائل سے کیسے نمٹنا ہے۔اور نمٹنا تو دور کی بات ہے، ان کو بیان کرنے کے لیے ہمیں درست الفاظ بھی نہیں ملتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں بھی بدعنوانی ہوتی ہے، دیگر اسلامی ممالک کی بھی کم وبیش یہی صورتِ ہے لیکن جو چیز پاکستان کے مسائل کو دیگر ممالک سے ’’ممتاز‘‘ کرتی ہے وہ اس کی منحوس جغرافیائی لوکیشن ہے۔ اس کے شمال میں سنگلاخ پہاڑیوں اور ناہموار وادیوں، جن کے سوتے افغانستان سے ملتے ہیں، میں بنیاد پرستی کے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اسلام کی بات منافقت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ صرف لفظی طور پر اس دھرتی کے صوفیا، جیسا کہ داتا گنج بخش اور لعل شہباز قلندر ہیں، دراصل یہاں توقیر سیمنٹ سازوں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکوں کو ہی حاصل ہے۔ ہر حکومت ان کی جیب میں ہی ہوتی ہے۔ ان کی کامیابی کی داستانوں کے سامنے الف لیلیٰ کے مافوق الفطرت واقعات تاریخی حقائق معلوم ہوتے ہیں۔

اگر ریاست کے دیگر معاملات درست ہوتے تو ایسی باتیں اتنی اہم نہیں تھیں کیونکہ بدعنوان افراد اور سرمایہ داروں کاریاست کے امور کو کنٹرول کرنا کوئی نئی بات نہیں، دنیا میں ایسا ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں وقت بہت برا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضہ جات کی وجہ سے عام انسان کی زندگی دشوار سے دشوار تر ہوتی جارہی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بنیاد پرست نظریات، جو سرمایہ درانہ جمہوریت کے خلا ف آواز بلند کریں، کو ہمارے معاشرے میں توقع سے زیادہ پذیرائی ملنے کا امکان موجود ہے۔ طالبان کی طرف سے اعتدال کی بات سن کر یہ خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ خداسے دعا کریں کہ ہمارے طالبان ویسے ہی رہیں جیسے وہ ہیں… دشمنوں کو ذبع کرنا اور لڑکیوں پر تشددکرنا کیونکہ اس طرح ہم محفوظ رہیں گے ۔ حکمران طبقہ بھی اپنے مختلف بہانوں میں مصروف رہے گا۔

طالبان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کاروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن جنگ اور جدوجہدمیں بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں۔ ملاعمر کا عید کا پیغام اُس زبان میں نہیں ہے جو زبان وہ 9/11 سے پہلے استعمال کرتے تھے۔ اگر پاکستان طالبان بھی اسی ’’فہم وفراست ‘‘ کی راہ پر چل نکلے تو ہمارے لیے بری خبر ہوگی۔ بہرحال ، جب ہمارے حکمران دیکھیں کہ پانی سر سے گزچکا ہے اور پھر وہ ایسے غائب جائیں گے کہ لکی ایرانی سرکس کے شعبدہ باز بھی دنگ رہ جائیں گے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.