.

ہیری پورٹر اور طالبان

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کامیابی اس فارمولے کا نام ہے … غربت سے آغاز کرو اور ہر رکاوٹ کو راستے سے ہٹاتے جاؤ۔ اس جملے کو لفظی معنوں کے اعتبار سے نہ دیکھیں … پاکستان میں اس بات کو شاید نہ سمجھا جا سکے۔ یہاں پر آپ ہر قسم کے رہنماؤں کے منہ سے احمقانہ قسم کے بیانات سنیں گے۔ ہر بیان ’’ان شاٗء اﷲ‘‘ سے شروع ہوگا… جس کا مطلب ہو تا ہے کہ اب آسمانی طاقتیں جانیں اور اُن کا کام جانے، عمل ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ چناچہ اپنے ہاں طالبان کے خطر ے سے نمٹنے کے لیے یہی ’’تیر بہدف ‘‘فارمولہ مستعمل ہے۔ ان کے لیے یہ دو الفاظ ایسے ہی زود اثر ہیں جیسے ہیری پورٹر کی جادوئی چھڑی۔

’’اسلام کے قلعے‘‘ ، کچھ عرصہ پہلے جنرل کیانی صاحب نے بھی پاکستان کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی تھی، کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے اور لارڈ ولڈی مورٹس (ہیری پورٹر میں ایک شیطانی کردار)… طالبان… اس قلعے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایک خونریز جنگ، جس میں شیطانی طاقتیں ہزاروں افراد کا خون بہاتے ہوئے کیانی صاحب کے قلعے پر قابض ہو جائیں گے اور پھر اس رزمیہ داستان کی اگلی قسط میں طالبان امریکہ کو تباہ کرنے پر کمر بستہ ہوں گے۔

تخیلاتی کہانی ؟ ہیری پورٹر کی دنیا میں ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ ہیر ی پورٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ کے اگلے ناول کا پلاٹ ہو سکتا ہے اور کہانی اربوں ڈالر کما سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور مصنف اسے لکھنا چاہے اور ممکن ہے کہ اسے لکھنے کے لیے کاغذ اور قلم کی ضرورت نہ پڑے۔ جے کے رولنگ نے تو بہت محنت سے کہانی لکھی تھی۔ جب وہ ایک نوجوان لڑکی تھی تو روزانہ مانچسٹر سے لندن جاتے ہوئے ٹرین میں کہانی کی آؤٹ لائن بنانے لگتی۔ اکثر اوقات اُسے کسی سے قلم مانگ کر ٹائلٹ پیپر پر لکھنا پڑتا۔ اُس کا کہنا ہے کہ جب کہانی کا تخیل اُس کے ذہن میں ابھرنے لگتا تو ’’ مجھے فوراً واقعات کو لکھنا ہوتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں وقت ضائع کرکے اُن کا گلا گھونٹ دوں۔‘‘ اُس کے سامنے تصورات اتنے واضح تھے کہ وہ اس حقیقی دنیا میں رونما ہوتے دکھائی دیتے تھے۔ اُس نے بتایا …’’ہیر ی پورٹر پوری جیتی جاگتی شخصیت کے ساتھ میرے سامنے موجود تھا۔‘‘

جے کے رولنگ ارب پتی نہیں تھی۔ وہ لندن کے ایک فلاحی گھر میں ایک بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ اُسے پبلک ٹوائلٹ استعمال کرنا پڑتا تھا۔ وہ اپنے بچے کے لیے پمپرز وغیر ہ بھی نہیں خرید سکتی تھی۔ جب وہ بچہ سو جاتا تو پھر وہ لکھنے لگتی۔ جب اُسکی زندگی پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ ارب پتی بننے کا لوازمہ غربت ہے۔ ڈزنی لینڈ، جسے ہر سال لاکھوں افراد دیکھتے ہیں، کے خالق والٹ ڈزنی کا کہنا تھا…’’ میں نے زندگی میں جو غربت، جو مشکلات، جو تکلیفیں برداشت کیں، اُنھوں نے مجھے کام کرنے کا حوصلہ دیا … ہو سکتا ہے کہ آپ اس بات کا احساس نہ کر سکیں جب آپ اس عمل میں سے گزر رہے ہوں، لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ ہمت نہ ہاریں اور ہر مشکل کو راستے سے ہٹاتے جائیں۔‘‘

عظیم لوگوں کے لیے کامیابی کا یہی فارمولہ ہے ۔ چناچہ آپ بھی ہمت کریں اور شٹل کاک برقعہ ،جو مکمل ائیر ٹائٹ ہوتا ہے، پہنیں اور اگر مرد ہیں (لغوی معنوں میں) تو جتنی داڑھی بڑھا سکتے ہیں بڑھا لیں اور کندھے پر جائے نماز اور ہاتھ میں لوٹا لے کر وزیرستان کے لیے عازمِ سفر ہو جائیں۔ جغرافیائی طور پروہ علاقہ آپ سے دور نہیں ہے لیکن شہریت کی جن راہوں پرآ پ چلتے ہیں وہ وہاں نہیں جاتی ہیں ۔ راستے میں آپ کو ملٹری چیک پوسٹ بھی نظر آئیں گی اور ان پر تعینات جوانوں کے دھڑکتے دلوں میں یہ خطرہ جاگزیں ہو گا کہ کسی طرف سے بھی طالبان کی گولی آکر ان کی جان لے سکتی ہے۔ یہ گولی آپ کی بھی منتظر ہو سکتی ہے اور ایک گولے برساتے ہوئے ٹینک کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونے کے مقابلے میں یہ خدشہ کہیں مہیب ہوتا ہے۔ آپ کمزور دل ہیں اور سرخ خون آپ کا رنگ زرد کر دیتا ہے؟ ارے فکر کی کوئی بات نہیں، آپ اُس راہ پر چل رہے ہیں جو عظیم انسانوں کا جادہ ہے اور اس کی منزل پر اربوں ڈالر آپ کے منتظر ہوں گے۔ بہرحال اس کے لیے آپ کو یہ مشکلات تو برداشت کرنی ہی ہیں۔

یہاں آپ کو وہ لوگ بھی مل جائیں گے جو ان پتھروں پر ٹھوکریں کھا کھا کر سنبھلے ہیں اور اب ان کے اکاؤنٹس میں بے اندازہ دولت ہے۔ یہ کام زیادہ مشکل نہیں ہے۔ وہ اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر ان کے پنچے قومی دولت کو نوچنے لگتے ہیں۔ وہ قوم کی رگِ جاں سے لہو نچوڑ نچوڑ کر مغربی ملک کے بنکوں میں جمع کراتے رہتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا ہیری پورٹر کی جادوئی چھڑی سے بہتر نہیں ہے؟ اس وقت سوئس بنکوں کے لاکرز انڈونیشیا کے سہاترو، بھارت کے مرحوم راجیو گاندھی، پاکستا ن کے زرداری اور نواز شریف، مصر کے حسنی مبارک، تیونس کے بن علی، لیبیا کے قذافی اور یمن کے عبداﷲ صالح کی دولت سے بھرے ہوئے ہیں۔ عالمی بنک کے اندازے کے مطابق بدعنوان حکمران اپنی قومی دولت میں سے تقریباً بیس سے چالیس بلین ڈالر سالانہ چرا لیتے ہیں۔

ایک طرف یہ مہان جادوگر ہیں تو دوسری طرف جے کے رولنگ کی زندگی مشکلات سے عبارت ہے۔ اس کی زندگی ناکامی سے دوچار تھی… ناکام شادی، بے روزگاری اور ایک بچے کی دیکھ بھال ۔ پھر جیسا کہ رولنگ نے ھاورڈ میں گریجو ئیٹ کلاس کو لیکچر دیتے ہوئے کہا…’’ناکامی کا مطلب ہے غیر ضروری چیزوں (جیسا کہ انا) سے جان چھڑانا ہے۔ میں نے دکھاوا کرنا چھوڑ دیا۔ غربت نے مجھے احساس دلایا کہ میں کیا ہوں۔ خود شناسی کے اس احساس کے بعد میں نے تمام تر توانائی اس کام میں صرف کرنا شروع کردی جس کے لیے میں بنی تھی۔ میرا خیال ہے کہ میں کسی اور میدان میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ میں کسی بھی خوف سے نجات پا چکی تھی کیونکہ جیسی زندگی میں گزار رہی تھی، اس لیے بعد ناکامی کی کوئی منزل نہیں ہوتی ہے۔ اب میرے پاس کامیابی کے لیے تمام تر’’اثاثے ‘‘ موجود تھے… ایک پرانا ٹائپ رائٹر اور میرے تخیلات۔زندگی کو جتنی نچلی بنیاد سے شروع کیا جائے، کامیابی کی عمارت اتنی ہی مضبوط بنتی ہے۔‘‘

ہیری پورٹر کے علاوہ رولنگ کی دو اور کتابیں بھی نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلرلسٹ پر آئیں۔ گزشتہ اکتوبر، جس سینڈی نامی طوفان نے ایک ہفتہ تک نیوجرسی، جہاں میں رہتی ہوں، کو تاریک کر دیا تو ان سرد اور تاریک دنوں میں ، میں نے جے کے رولنگ کا پہلا ناول ’’The Casual Vacancy‘‘ پڑھا۔ اگرچہ اس میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے لیکن یہ بہت ہی دلچسپ ناول ہے اور میں نے خراب اور تکلیف دہ موسم کے باوجود اسے پورا پڑھا۔ اس کی تازہ ترین کتاب ’’The Cuckoo’s Calling‘‘ایک فرضی نام رابرٹ گلبریتھ کے نام سے لکھی گئی تھی۔ تاہم رولنگ کی شناخت اس طرح ظاہر ہو گئی کہ اس کے وکیل نے اپنی بیوی کی دوست کو بتادیا اور اس نے ’’دی سنڈے ٹائمز ‘‘ کو (خواتین اور اخفائے راز؟، حیرت ہے وکیل صاحب کی عقل پر) بتا دیا۔ اس طرح سب کو علم ہو گیا کہ یہ کتاب بھی جے کے رولنگ نے ہی لکھی ہے۔ رولنگ نے اپنے اس پر عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر دیا اور جیت گئیں کیونکہ اُس کا کہنا ہے کہ وہ ایک نئے نام سے کتاب لکھنے اور اس کی مارکیٹ کرنے کا تجربہ کرنا چاہتی تھی۔ یہ ایک پرلطف کام تھا لیکن افشائے راز نے سارا کام خراب کر دیا۔

ایک نوجوان انگریز خاتون کی گانتانامو بے کے قیدیوں کے بارے میں لکھی گئی کتاب کی بھی ستر ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ہاں بھی ایک ہنگامہ خیز ناول کا میٹریل تیار ہے۔ تاہم طالبان کی مسلسل پیش قدمی کے بعد کوئی بچ گیا تو شاید لکھ لے لیکن کیا اس وقت چشمِ تخیل آنے والے حقائق کو نہیں دیکھ سکتی؟

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.