.

نریندر مودی اور کتے کا پلا

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

”آپ کو سانحہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے لقمہ اجل بننے پر افسوس ہے؟“ خبر رساں ایجنسی ”رائٹر“ کے نمائندے نے سوال کیا: ”اگر آپ گاڑی ڈرائیو کر رہے ہوں یا کوئی دوسرا کار چلا رہا ہوں آپ ساتھ بیٹھے ہوں اور کتے کا پلا (Puppy) گاڑی کے نیچے آ جائے تو بطور انسان آپ کو افسوس کیوں نہیں ہو گا؟“ بھارتی ریاست کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے برجستہ جواب دیا۔

یہی نریندر مودی بھارتی جنتا پارٹی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور بھارت کے طول و عرض میں Hit n Fit For PM کے نعرے گونج رہے ہیں۔ نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندو نیشنلسٹ ہیں اور دوسروں کی طرح منافق نہیں۔

پاکستان میں خدا کے فضل و کرم سے کبھی نہ تو گجرات طرز کے ہندو مسلم فسادات ہوئے ہیں اور نہ 2013ء کی انتخابی مہم میں کسی سیاسی مذہبی جماعت نے بھارت مخالف نعرے لگا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر سیکولرازم، روشن خیالی اور جمہوریت کے علمبردار بھارت میں صرف شیوسینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں کانگریس بھی اپنی انتخابی مہم پاکستان مخالف نعروں پر چلاتی ہے اور حالیہ سرحدی کشیدگی بھی اسی انتخابی مہم کے شاخسانہ نظر آتی ہے مگر کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ کی یہی ایک وجہ نہیں۔

بھارت کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے حالیہ دنوں میں جنگی جنون کو ہوا دے کر پاکستان میں ان بھارتی شردھالوؤں کے پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی ہے، جو اٹھتے بیٹھے پاکستان کو مذہبی تنگ نظری اور اردو پریس کو جنگجوئی کا نعرہ دیتے اور بھارتی سیاستدانوں کے علاوہ میڈیا کو امن پسند، روشن خیال اور ذمہ دار قرار دیتے نہیں تھکتے۔ انہیں اندرون و بیرون ملک ہر پیش آنے والے ہر واقعہ میں پاکستانی اسبیلشمنٹ، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ نظر آتا ہے یا نان سٹیٹ ایکٹرز کی کارستانی اور حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان دشمنی آج بھی بھارت میں مقبول موضوع ہے اور قومی سوچ کا مرکز و محور اس لئے میڈیا ان جذبات کو ہوا دے رہا ہے۔ کوئی غیر مقبول موضوع آخر کس طرح ہیڈ لائنز کا حصہ بن سکتا ہے۔

کنٹرول لائن پر کشیدگی کس کی پیدا کردہ ہے اور کیوں؟ یہ راکٹ سائنس کا معاملہ نہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی ان دنوں شدید اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار ہے، اندرون ملک دہشت گردی، مغربی سرحد پر دباؤ اور مغربی و پاکستانی میڈیا کے علاوہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرف سے ا ٹھنے والی انگلیاں نہ صرف اس کی قوت عمل کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ اسے ہر قسم کی مہم جوئی سے بھی روکتی ہیں جبکہ بھارت کی ثقافتی یلغار نے بھی بھارت مخالف جذبات کو سرد کر دیا ہے جس کا فائدہ فوج اور آئی ایس آئی اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔

اس کے برعکس بھارتی فوج، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان اس وقت سیاسی، اقتصادی اور سماجی عدم استحکام کی آخری حدود کو چھو رہا ہے، حکومت اور فوج ایک صفحہ پر نہیں، امریکہ اور یورپ اسلامک نیو کلیئر ریاست سے خوش نہیں ا ور امریکہ و بھارت کے پروردہ ، ریاستی اداروں سے ناراض اور پاکستان کی سلامتی و استحکام سے کسی قسم کی دلچسپی نہ رکھنے والے علیحدگی پسندوں، دہشت گردوں اور مذہبی جنگجوؤں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ سنہ 1971ء کی طرح پاکستان کے اندرونی حالات سے موقع اٹھانے کا یہ بہترین وقت ہے اور پارلیمنٹ و ممبئی حملوں کی طرح کا کوئی ڈرامہ تخلیق کر کے جنگ کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے، ”را“ سقوط ڈھاکہ کے سحر سے اب تک نہیں نکل سکی، اسے یقین ہے کہ بھارتی قوم اور اپنے میڈیا کے علاوہ پاکستان کی ”سپاہ دانش“ اس کی ہمنوا ہو گی۔

ہندو جوتشی، نجومی اور پنڈت بھی کئی سال سے شور مچا رہے ہیں کہ چین کے تعاون سے پاکستان 2013ء میں بھارت پر حملہ کر سکتا ہے، 2011ء میں بھارتی اکنامک گروتھ رکنے کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے پر ان جوتشیوں اور پنڈتوں پر ضعیف الاعتقاد، توہم پرست، بھارتی فوجی و سیاسی قیادت کا اعتماد بڑھ گیا ہے ا ور وہ سمجھتی ہے کہ اگر اس ٹولے نے جنگ کی مہورت نکالی ہے تو درست ہی ہو گی۔ پنڈتوں نے 2013ء میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے ایک مہارشی کے اترنے کی پیش گوئی کی ہے جو بھارتی فوج کی قیادت کرے گی۔ اگر بھارت نے ان جوتشیوں کے بقول 2013ء میں پاکستان کی اندرونی صورتحال سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر پاکستان ناقابل تسخیر ہو سکتا ہے اور بھارت کے لئے بہت بڑا خطرہ۔ شادی بیاہ اور بچے کی پیدائش کے معاملے میں جوتش پر یقین رکھنے والے بھارتی آخر ان باتوں کو سچ کیوں نہ مانیں؟

کوئی پاکستانی بھارت سے جنگ کا خواہاں ہے نہ بھارت سے مذاکرات کا مخالف۔ البتہ کشمیر اور پانی کے بنیادی مسئلہ پر مذاکرات کے بجائے تجارتی و ثقافتی روابط پر اعتراض کرنے والوں کی کمی نہیں اسلام کے تصور جہاد کا جارحیت اور جنگ وجدال سے کوئی تعلق نہیں اور عام پاکستان جنگ کی بھاشا کے بجائے ”امن کی آشا“ کی طرف مائل ہو۔ حضرت علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد، مسلم لیگ کی قرار داد لاہور اور قائداعظم کی طرف سے پاک بھارت تعلقات کے لئے امریکہ کینیڈا تعلقات کی تشبیہ مسلمانوں کے اس عزم کا اظہار تھی کہ وہ خطے میں امن و سلامتی سے رہنا چاہتے ہیں اور آئے دن کے فرقہ وارانہ فسادات کو پسند نہیں کرتے جو بھارت میں اب بھی ہر دوچار سال بعد ہوتے ہیں۔

سنہ 2013ء کے بھارت کی انتخابی مہم میں بھی پاکستان دشمنی اہم انتخابی موضوع ہے اور کانگریسی حکومت نریندر مودی جیسے فرقہ پرست، مسلمان و پاکستان دشمن مدمقابل کا توڑ سرحدی کشیدگی، پاکستانی سفارت کار پر حملے اور دوستی بس کے سامنے رکاوٹوں کی صورت کر رہی ہے، لیکن اگر مسلمانوں کو کتے کے پلے سے تشبیہ دینے والے نریندر مودی نے پاکستان دشمن عوامی جذبات کے فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کر لی۔ مسلمانوں کو کتے کے پلے سے تشبیہ دینے والے نریندر مودی نے پاکستان دشمن عوامی جذبات سے فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرلی تو بھارتی جوتشیوں کی پیش گوئیوں کے مطابق پاک بھارت تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟

من موہن سنگھ نواز شریف ملاقات سے پاکستان کو کیا حاصل ہو گا؟ اور پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں تفریق پیدا کرنے کی خواہش مند امریکی و بھارتی لابی سرحدی صورتحال کو کس انداز میں پیش کر رہی ہے؟ یہ سوچنا ہماری قیادت کا کام ہے مگر اسے تو دہشت گردوں نے چکرا دیا ہے۔

وہ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور تابعدار صدر کے بعد فرمانبردار آرمی چیف اور چیف جسٹس کی تلاش میں ہے، سرحدی کشیدگی کے اسباب اور نتائج و عواقب پر غور کرنے کی فرصت کس کو کہاں؟

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.