.

انتہا پسندی ہی اصل مسئلہ ہے

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پنجاب پاکستان کی جان ہے ! بالکل درست، لیکن کیا اب یہ پاکستان کی جان لینے کے درپے ہے؟یہ خطرناک سوچ ہے لیکن سوال بے محل نہیں ہے کیونکہ پانچ دریاؤں کی یہ سرزمین، جو اس وقت مسائل زدہ پاکستان پر حکمرانی بھی کر رہی ہے، دنیا کے ہر مسئلے سے آگاہ ہے لیکن جب انتہائی پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت، جنھوں نے اس ملک کو جہنم زار میں بدل دیا ہے، کی بات کی جائے تو یہ ریت میں سر چھپا لیتی ہے۔ یہاں فرقہ واریت عام تفرقہ بازی، جو دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے، نہیں ہے بلکہ یہ آتش و آہن میں نہائی، خون میں ڈوبی، خوفناک فرقہ واریت ہے جس کے دلائل گولی اور بم کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

طالبان نے جیل توڑ کر اپنے ساتھیوں کو رہائی دلاتے ہوئے مہارت اور جرأت جبکہ ہمارے محافظوں نے بزدلی کا ثبوت دیا ہے، ملک میں قتل وغارت جاری رہتی ہے اور یہ سنگین معاملات ہیں، لیکن صورت ِ حال ان بظاہر ہولناک واقعات سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ذرا طالبان کی حکمت ِ عملی پر غور کیجیے … اُنھوں نے بنوں اور ڈی آئی خان میں کارروائی کی اور جب ہم نے سوچنا شروع کیا کہ اصل مسئلہ ملک کے مغربی حصے میں ہے تو فوراً ہی لائن آف کنٹرول پر چھیڑ خانی شروع ہو گئی اور راتوں رات بھارت کے ساتھ معاملات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ پاک فوج کی توجہ مغربی علاقوں سے ہٹ کر مشرقی سرحد کی طرف ہو گئی۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی اسٹرٹیجی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں ممبئی حملے بچوں کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ اب یہ فارمولہ مستعمل ہو گا … جب فوج مغربی علاقوں میں کارروائی کرنے آئے تو اسے مشرق میں مصروف کر دو۔ دو ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے اور ہم بھی تک سوچ میں ڈوبے ہوئے الحمد لله دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پالیسی سازی کے روحانی عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے ضمیر پر بوجھ کا اندازہ کیجیے کہ اس وقت عملی طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والی حکومت ادھورے مینڈیٹ کی وجہ سے ملک پر حکومت کر رہی ہے اور مسئلہ منہ پھاڑے سامنے کھڑا ہے لیکن یہ اس سے نمٹنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت کی تفہیم سے عاری ہے کہ طالبان کی دہشت گردی صرف افغانستان میں امریکا کی موجودگی کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ ہی ہر آن وسعت پذیری پر مائل شمالی وزیرستان کی ”اسلامی ریاست“ امریکیوں کے جاتے ہی تحلیل ہو جائے گی۔

اب معاملہ یہ ہے کہ پنجاب میں موجود مدرسے، جو اس انتہاپسندی کی آبیاری کر رہے ہیں، کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرنے سے پنجاب کے شدت پسند عناصر ناراض ہو جائیں گے اور یہ عناصر پنجاب کے کاروباری، متوسط اور غریب طبقوں میں اپنی جڑیں رکھتے ہیں اور تاثر یہ ہے کہ یہ حلقے ہی موجودہ حکومت کا ووٹ بنک ہیں۔ اس طرح سیاسی حکومت کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کر رہی ہے تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی عملی طور پر گریز کی پالیسی پر ہی عمل کر رہی ہے کیونکہ اس کے موجودہ چیف کی مدت اس نومبر میں ختم ہو جائے گی۔ جنرل کیانی صاحب نے اچھے کام بھی کیے، جیسا کہ مشرف دور میں فوج کے انحطاط پذیر مورال کو بلند کرنا، تاہم کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اپنے بھائیوں کی کاروباری صلاحیتوں پر بھی نظر رکھتے۔ کیا فائدہ اس شہرت کا جسے آنے والے دنوں میں کچھ قریبی عزیزوں کے کارنامے داغدار کر دیں۔ یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ پرویز مشرف نے بھی کچھ اچھے کام کیے تھے لیکن کیا آج کوئی شخص ان کے لئے کوئی نرم گوشہ رکھتا ہے؟ ہم نے اس ریاست میں کچھ نہ سیکھنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ ہمارے کمانڈر اس بات کا احساس کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ اُنہیں کب چلے جانا چاہئے۔

کہنے کو تو آج ہمارے ہاں ایک مستحکم حکومت ہے اور اسے تمام تر اختیار حاصل ہے۔ آج کا وزیر اعظم اپنے پیش رو، بلکہ پرویز مشرف سے بھی زیادہ اتھارٹی رکھتا ہے لیکن جب سر ہی ریت میں دیا ہوا ہو تو کیا پالیسی اور کیا کاروائی۔ دوسری طرف فوج اس انتظار میں ہے کہ کب سورج مغرب میں ڈوبے اور ایک نیا دن طلوع ہو۔ اس طرح حکومت اور دفاعی ادارے ساکت و جامد ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار ایک قابل شخص ہیں مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ بولتے بہت ہیں۔ تاہم معاملہ بہت زیادہ باتوں کا متقاضی نہیں ہے، بلکہ کسی حدتک دو ٹوک ہے کیونکہ جیشِ محمد، لشکر طیبہ اور سپاہ محمد، جنہیں ہم پنجابی طالبان کہتے ہیں، پنجاب میں ہی اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی عمل شکل دکھائی دے رہی ہو لیکن اس کے فکری سر چشمے پنجاب کی سر زمین سے ہی پھوٹتے ہیں۔ پنجاب کی حکومت، جو خود کو ہر قسم کی غلطی سے مبرّا گردانتی ہے، کے ہوتے ہوئے یہ صورت حال ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے کو بھول جائیں، ابھی تو پنجاب میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کا کھلم کھلا استعمال لاؤڈ اسپیکر ضابطے کا منہ چڑا رہا ہے۔ اگر وزارت ِ داخلہ اس مسلے پر قابو پا چکی ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ کسی کو ان کی باتوں پر یقین آ جاتا ۔

حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں حکومت کارروائی کرنا چاہتی ہے، وہاں یہ بہت تیز ی سے کر گزرتی ہے۔ ذرا زیرگردشی قرضوں کی ادائیگی کے معاملے پر غور کیجیے کہ اتنی بھاری رقم بغیر کسی پوچھ گچھ کے کس سرعت سے ادا کر دی گئی ہے۔ نندی پور پاور منصوبے کی لاگت بڑھتی چلی گئی لیکن حکومت کی جبین شکن آلود نہیں ہوئی۔ جہاں اس کا اپنا مفاد ہوتا ہے، پارسائی اور معصومیت کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور اس کی پھرتیاں قابل دید ہوتی ہیں، لیکن جب معاملہ ہو انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ پرستی سے نمٹنے کا تو پھر رسمِ شتر مرغ کی ادائیگی، ریت میں سر دینا، ہی واحد حکمت عملی ہے۔ ویسے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے سے ان کا کوئی مالی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ دوسری طرف طالبان اپنے مقاصد میں تیر کی طرح سیدھے اور چٹان کی طرح واضح ہیں۔ وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور انتہا پسندی پھیلانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ان سے ہمارا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اصولی طو ر پر ایک ریاست کے پاس مالی اور فوجی وسائل زیادہ ہوتے ہیں اور ہمارے پاس بھی ہیں لیکن مسلہٴ یہ ہے کہ اسے ایک قیادت بھی چاہئے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جب ہمیں پر عزم قیادت چاہئے تھی تو ہمارے نصیب میں ایسی حکومت آئی جس کے پاس سب کچھ تھا سوائے عزم کے۔

ایک چیز واضح ہونی چاہئے اور یہ کسی بھی جنگ کا پہلا اصول ہے کہ کوئی حکمران، جس کی رقم بیرونِ ملک محفوظ بنکوں میں ہو، جان پر کھیل جانے والے معرکوں میں شریک نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی اسٹیبلشمنٹ جو لڑنے کے ساتھ ساتھ باقی کاروبار بھی کرتی ہے قوم کے لئے زندگی اور موت کی بازی نہیں لگاتی۔ یہ جنگ کا دوسرا اصول سمجھ لیں۔ ونسٹن چرچل کے پاس کتنے مکان تھے؟ ان کے پاس واحد ایک مکان ”چرچل ہاؤس“ تھا جو اُنھوں نے کالم نویسی اور کتابوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی سے خریدا تھا۔ ذرا تصور کریں، اُس رہنما، جس نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی قوم کو فتح دلائی تھی، کے پاس اتنے مالی وسائل نہ تھے کہ وہ جنگ کے بعد اس مکان کو اپنے پاس رکھ سکتا، چنانچہ ایک کاروباری ادارے نے اسے خرید لیا۔ اس کے بعد چرچل اور ان کی بیوی تمام عمر اس مکان کا کرایہ ادا کرکے اس میں رہتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد یہ مکان نیشنل ٹرسٹ کے پاس جانا تھا۔ جب 1965 میں مسٹر چرچل کا انتقال ہوا تو ان کی بیوہ نے فوراً ہی وہ مکان نیشنل ٹرسٹ کے حوالے کر دیا۔ اسٹالن کے پاس کتنے مہنگے سوٹ تھے؟ امریکی فوج کو شکست سے دوچار کرنے والی ویت نام کی فوج کے رہنما ہوچی منہ کی الماری میں کیسی پوشاکیں تھیں؟ چنانچہ ہم کن معاملات میں الجھے ہوئے ہیں؟ معمول کے حالات میں سستی اور غفلت زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، جنگ میں نہیں۔ حکمران اپنی رائے ونڈ کی جاگیر پہلے سے بھی وسیع کر لیتے اوراسٹیبلشمنٹ جی بھر کے وسیع وعریض بنگلے بنواتی رہتی لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ طالبان دروازے پر کھڑے ہیں اور وہ عزم اور حکمت عملی میں ہم سے بہتر ہیں۔

ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے لئے یہ ملک ہی واحد جائے مفر ہے۔ ہمارا دنیا میں اس کے سوا کوئی اور گھر نہیں ہے۔ اس میں بھی بہت لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر دوسرے مقامات پر رہنا پڑتا ہے۔ گزشتہ صدی میں ہونے والے سب سے بڑی تقسیم کا قہر ہم نے جھیلا، بازو ہمارا کٹا (سقوط ِ ڈھاکہ) اور اب ہم نے مزید اور کتنے صدمے برداشت کرنے ہیں! اب تو مزید کوئی بوجھ اٹھانے کی سکت بھی جواب دیتی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا سے بے گھر ہونے والے افراد پشاور میں پناہ لے سکتے ہیں، شمالی وزیرستان کے باشندے کوہاٹ میں چلے جاتے ہیں لیکن پنجاب کے ”آئی ڈی پی“ کہاں جائیں گے؟

اب ہمارے پاس نیم دلی سے کئے جانے والے اقدامات کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وقت ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے ستارے گردش میں ہیں۔ اس وقت برائے مہربانی کسی جری جوان، کسی لڑاکا جنرل، نہ کہ دیوان خانے کا مجاہد، کو آرمی چیف بنائیں۔ اگرحکومت کو اس میں کوئی تذبذب ہو تو پھر فتح یا معیشت کو بھول جائیں اور سکون سے گھر بیٹھ کر طالبان کا انتظارکریں۔ وہ آتے ہی ہوں گے اور وہ ہمیں امن کی پیش کش کرتے ہوئے، لبوں پر نہایت دلنشیں مسکراہٹ دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟ اس تردد میں پڑنے کی ضرورت نہیں، جو اُنھوں نے مناسب سمجھا کر گزریں گے۔

پس تحریر: دہشت گردی کے موضوع پر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اور طارق محمود، جو کہ سابقہ سیکرٹری ہیں، کے شاندار کالم پڑھنے کو ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے درمیان وہ لوگ موجود ہیں جنہیں اس مسئلے کی فہم ہے۔ صرف ہمارے ناخدا ہی الجھن کا شکار ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.