.

بان کی مون اور نواز، منموہن ملاقات کے امکانات؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گو کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے دورہ پاکستان کا فیصلہ اور تفصیلات عید سے بھی قبل طے پا چکی تھیں لیکن پاکستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے باعث اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے اس دورہٴ پاکستان کا سرکاری اعلان 12اگست کو اس وقت جاری کیا گیا جب بان کی مون اپنے دو روزہ دورے کیلئے روانہ بھی ہوچکے تھے۔ بہرحال بان کی مون کا دورہ خیرسگالی کا مقصد لئے ہوئے تھا ان کا یہ بیان کہ اگر فریقین راضی ہوں تو وہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کیلئے تیار ہیں،کوئی نیا اعلان نہیں اور نہ ہی اس کو معنی پہنانے کی ضرورت ہے۔ بان کی مون سے قبل ان کے پیشرو کوفی عنان بھی اپنے دور میں بھی یہ پیشکش دہرا چکے تھے کیونکہ اس بیان کا مقصد واضح ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت بھی (یعنی دونوں فریقین) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بنانے کو تیار ہوں تو وہ اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں۔ بھارت تو کھلے عام عالمی ادارے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہتا چلا آرہا ہے، وہ پہلے ہی کسی کی ثالثی کو تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے تو پھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بے معنی ہوجاتی ہے۔ تنازع کشمیر کا ایک فریق (بھارت) پہلے ہی انکاری ہے تو پھر بان کی مون کی اس پیشکش کی لفظی علامت کے علاوہ عملی افادیت کچھ بھی نہیں رہتی۔ ہاں! اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستان کے فوجی افسر اور جوان دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔ ہمارے فوجی افسر، جوان اور پولیس حکام اقوام متحدہ کی آسمانی رنگ کی اقوام متحدہ کی ٹوپی پہن کر دنیا کے مختلف ممالک میں امن کیلئے کام کررہے ہیں جن کی خدمات کا اعتراف بھی بان کی مون کے دورہٴ پاکستان کی ایک بڑی وجہ ہے۔

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث اقوام متحدہ نے رکن ممالک سے عطیات کی اپیل اور امداد کیلئے جو اعلان کیا تھا وہ فنڈ پاکستانی حکومتوں نے کہاں اور کیسے استعمال کرکے بھلائی کا کتنا کام کیا،اس کا جائزہ بھی بان کی مون لیں گے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سیلاب اور اس سے قبل زلزلے کے متاثرین کیلئے دنیا نے جتنا فنڈ اور امداد دی اس سے تو تباہ شدہ علاقے دوبارہ آسانی سے آباد ہوسکتے تھے مگر غریب متاثرین کے نام پر یہ فنڈاور امداد کہاں گئی اس کا آڈٹ یا حساب کتاب ہونا وطن عزیز کے منتظمین کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ لہٰذا مختصر الفاظ میں بان کی مون کے دورہ پاکستان کا مقصد نہ تو کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانا تھا نہ ہی کنٹرول لائن کے مسائل کو حل کرنا تھا بلکہ افغانستان کے معاملات پر گفتگو کرکے پاک بھارت کشیدگی کی بگڑتی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پوزیشن عملاً یہ ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے پر کوئی بھی رول صرف اسی وقت ادا کرسکتے ہیں جب اقوام متحدہ کے طاقتور پانچ ممالک یعنی عالمی طاقتوں کی مرضی و حمایت حاصل ہو۔ دنیا کے ساتھ ساتھ اب اقوام متحدہ بھی تبدیل ہو چکی ہے اور صرف سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ہی ”عالمی برادری“ کہلاتے ہیں لہٰذا سیکرٹری جنرل خوش آمدید۔

ادھر بھارت میں انتخابی ضرورت اور کنٹرول لائن کے واقعات نے نیویارک میں متوقع بلکہ یقینی نواز من موہن ملاقات اور ”جپھی“ سے تو جان ہی نکال دی ہے۔ میری رائے میں کنٹرول لائن کی اس کشیدگی سے تو ملاقات کا مغز اور مقصد اب صرف رسمی رہ گیا ہے۔ ادھر اس پیدا کردہ پاک، بھارت کشیدگی کی آڑ میں ”بیک ڈور چینلز“ کے ذریعے پاکستان کو جو کچھ کرنے کو کہا جارہا ہے وہ پاکستانی حکومت کیلئے ناقابل قبول ہے۔ اس کا ایک علامتی اظہار وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو (M.F.N) یعنی موسٹ فیورڈنیشن کا درجہ اور رعایت دینے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔بھارت کی جانب سے کئے جانے والے مطالبات کو پورا کرنے کا بوجھ نوازشریف حکومت تو سنبھال ہی نہیں سکتی لہٰذا نیویارک میں متوقع نواز، من موہن ملاقات دونوں طرف کی سخت ضرورت ہونے کے باوجود اب خدشات کا شکار ہے۔ اگر یہ ملاقات نیویارک میں ہو بھی گئی تو رسمی بیانات اور مقصد و منزل سے محروم ڈائیلاگ پر ختم ہوگی۔ بھارت کی موجودہ حکمراں کانگریس پارٹی انتخابی ضرورت اور اپوزیشن کے دباؤ کے باعث بھارتی انتخابات سے قبل پاکستان سے کوئی بھی ڈیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ امریکہ بھی کانگریس پارٹی کی حکمرانی کے تسلسل کا حامی نظر آتا ہے لہٰذا ستمبر میں نیویارک میں نواز، منموہن ملاقات میں بھارتی مطالبات ابتدائی و رسمی ڈائیلاگ تو ہوسکتا ہے مگر جس بامقصد ڈائیلاگ کی توقع کی جا رہی ہے وہ فی الوقت نیویارک ملاقات میں ممکن نہیں نظر آتا۔

امریکی اوباما انتظامیہ بھی فی الوقت پاکستان کو موجودہ دباؤ کی کیفیت میں ہی رکھ کر دہشت گردی اور امریکی افواج کے پرامن انخلاء کی تکمیل چاہتی ہے۔ افغانستان میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس سلسلے میں بھی بھارتی اور امریکی مفادات اور پاکستان سے مطالبات خاصے مشترک ہیں جو پاکستان پورے نہیں کرسکتا لہٰذا پاکستان کے دو ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان میں انتخابات کی فضا اور ضروریات نواز شریف حکومت کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ ماضی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نواز شریف کے دور حکومت میں پاک، بھارت وزرائے اعظم کی ملاقاتیں ہوتی رہیں جن میں ہونے والی پیشرفت خوش کن تھی مگر عملاً کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس طرح مشرف دور میں بھی ستمبر کے مہینے میں بھارتی وزیراعظم سے ڈائیلاگ اور ملاقاتوں کی ایک تاریخ ہمارے سامنے ہے پھر صدر آصف زرداری اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان بھی ملاقات اور خوشگوار موڈ میں ”جپھی“ (بغل گیر ہونا) کے مناظر یاد ہیں مگر پیشرفت اور اعلانات پر عمل نظر نہیں آیا۔ ورنہ آج کنٹرول لائن میں پاک، بھارت کشیدگی نہ ہوتی۔ وزیراعظم نوازشریف بھارت سے تعلقات کو ایک بار پھر اس ٹریک پر دیکھنا چاہتے ہیں جو صدر بل کلنٹن کے دور میں تھا اور بھارتی وزیراعظم واجپائی خود چل کر لاہور آئے تھے۔

اب وزیراعظم نواز شریف کو بھارت میں انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ بامقصد پاک، بھارت ڈائیلاگ شروع ہوسکے ورنہ موجودہ صورتحال پاکستان کیلئے دباؤ لئے ہوئے ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.