ریوڑیوں کی تقسیم

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ڈیمو کریٹ امریکی صدر اوبامہ نے سولہ شہریوں کے لئے اپنے ملک کے ا علی ترین سول اعزاز پریذیڈنٹ میڈل آف فریڈم کا اعلان کیا ہے۔ یہ میڈل دینے کا آغاز پچاس سال قبل ایک ڈیمو کریٹ صدر کینیڈی نے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے کیا تھا۔ پہلے سال 31 شہریوں کو یہ ایوارڈ دیا گیا اور اب تک پانچ سو افراد اس اعزاز کے مستحق ٹھہرے ہیں۔

صدر اوبامہ کی فہرست میں جن ناموں کو میں پہچان سکتا ہوں، ان میں سابق صدر بل کلنٹن، سابق سینیٹر لوگر اور واشنگٹن پوسٹ کے سابق ایڈیٹر بین بریڈلے شامل ہیں۔ ان تینوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان کا یا تو براہ راست تعلق حکمران ڈیمو کریٹ پارٹی سے ہے یا انہوں نے ریپبلکن صدر نکسن کی حکومت کا تختہ الٹنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ہم پاکستانیوں کے لئے امریکی مثال مشعل راہ ہوتی ہے، 14 اگست کے اخبارات میں پاکستان کے سول اور فوجی اعزازات پانے والے108 شہریوں کی فہرست شائع ہوئی ہے۔ اس میں عطا الحق قاسمی اور عرفان صدیقی کے نام دیکھ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ یہ حضرات، ن لیگ کے ساتھ گہری وابستگی اور کومٹ منٹ رکھتے ہیں۔ عطا قاسمی تو ن لیگ کی سابقہ دو حکومتوں میں ناروے اور تھائی لینڈ میں سفیر بنے، پھر الحمرا کمپلیکس کے مدارالمہام بنا دیئے گئے، اس مرتبہ گورنر پنجاب کے لئے ان کا نام لیا جا رہا تھا مگر ہما چودھری سرور کے سر پر بیٹھ گیا۔

میاں نواز شریف نے جلاوطنی سے واپسی کی کوشش کی تھی تولندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے جو جہاز روانہ ہوا، اس کی بزنس کلاس میں عرفان صدیقی، میاں صاحب کے پہلو میں تشریف فرما نظر آئے۔ یہ قرب، خاص خاص اور خال خال لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اس وقت اگر ن لیگ کی حکومت نہ ہوتی اور ان دوستوں کو کوئی بھی اعزاز ملتا تو ہر کوئی سمجھتا کہ حق بہ حقدار رسید، مگر اب تو یوں لگتا ہے جیسے پیپلز پارٹی اپنے جیالوں میں یہ اعزازات ریوڑیوں کی طرح بانٹتی رہی، اب ن لیگ نے بھی وہی وطیرہ پکڑ لیا ہے۔ اگرچہ لسٹ بہت طویل ہے، لیکن میں نے دیگ کے دو دانے چکھے ہیں ۔

ن لیگ کے حامی اور ہمدرد قلم کاروں کے درمیان جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ پتہ نہیں انہوں نے کیا کیا آس لگا رکھی تھی اور کیا کیا خواب پلکوں پہ سجا رکھے تھے، ان کی آرزئوں کی شکستگی کا منظر اللہ کسی کو نہ دکھائے۔ دل کے آبگینے بڑے نازک ہوتے ہیں، ان کی کرچیاں بھرے چوکوں میں بکھر بکھر گئی ہیں، یہ المیے پر المیہ ہے۔ ویسے دنیا بھر میں رواج چلا آ رہا ہے کہ ہر حکومت اپنے اعتماد کے لوگوں کو اعلی مناصب پر بٹھاتی ہے مگر ان کی صلاحیت اور تجربے کو دیکھ کر ان کی تقرری عمل میں آتی ہے، یہاں کا دستور الٹا ہے، ایک ہی دلیل ہے کہ فلاں نے اتنی قربانی پیش کی، فلاں نے وفا داری کا حق ادا کر دیا۔ اس دلیل کے مطابق تو قربانی کا صلہ اور وفاداری کا انعام پارٹی لیڈر اپنی جیب خاص یا پارٹی فنڈ سے ادا کرے، وہ قوم کے خزانے پر وفاداروں کی اس فوج ظفر موج کا بوجھ کیوں لادے۔

حکومت نے اگرآتے ہی ساری بھرتیاں کر لی ہوتیں تو شاید یہ شور نہ مچتا۔ مگر دن، ہفتے اور مہینے گزرتے جا رہے ہیں اور حکومت ابھی تک نامکمل پڑی ہے، وزیر خارجہ نہیں، وزیر فاع نہیں ہے۔ سب کچھ وزیر اعظم کی جیب میں ہے، پنجاب کا صوبہ سب سے بڑا ہے، پنجاب والے تو اسی کو پاکستان کہتے ہیں مگر یہاں کا باوا آدم بھی نرالا ہے۔ ایک وزیر اعلی اور ان کے فرزند محترم نے سارا بوجھ سہار رکھا ہے، وہ دونوں ادھر ادھر ہو جائیں تو حکومت زلزلے سے دوچار ہو جاتی ہے، وزیر اعلی نے عید تو سیلاب زدگان کے ساتھ ادا کی، بڑا عمدہ کام کیا مگر ان کے پیچھے بھی کوئی ہوتا، حکومت کی صرف ایک تہہ نہیں ہوتی، یہ تہہ در تہہ ہوتی ہے۔ اگر سیلاب زدگان میں کوئی دوسری، تیسری حکومتی تہہ کا وجود ہوتا تو سیلاب زدگان میں امدای راشن تقسیم کرنے پر گولی چلنے کی نوبت نہ آتی۔ کچھ کو سیلاب نے مار دیا، کچھ گولیوں سے مر رہے ہیں۔

یہ جن لوگوں کو ریاست کے اعلی تریں اعزازات دیئے جا رہے ہیں، ان میں سے ہی کوئی وہاں ہوتا، لکھنے والے بڑے رقیق القلب واقع ہوتے ہیں، یہ سیلاب زدگان کے دکھوں کو سمجھ سکتے تھے، ان کو گلے لگا کر ان کے سارے گلے دور کر سکتے تھے مگر بندوق کی گولی تو صرف گلا کاٹ سکتی ہے، اب اس کا خون بہا کون ادا کرے گا۔ اس کے لئے بھی ان ہلال امتیاز پانے والے خوش نصیبوں کو سیلاب میں دھکیلا جائے۔ پھر ان کے امتیاز کا بھرم کھلے گا۔

حکومتی تقرریوں کا یہ پیمانہ کہاں سے آ گیا کہ اس کے لئے وفاداری کی شرط رکھ دی گئی ہے۔ جی ایچ کیو میں بھی وفا داری کی چھلنی نصب کر دی گئی ہے، کسی ا یسے جرنیل کی تلاش ہے جو ضیا الدین بٹ کی طرح وفا دار نکلے چاہے نوکری سے چلا جائے۔ میں نے اخبار میں ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ کی پاسنگ آئوٹ کی ایک تصویر دیکھی ہے، پاک فوج کا کیڈٹ اسد مشتاق کس شان اور تمکنت سے کھڑا ہے اور کائونٹس آف سسیکس سے شمشیر اعزاز حاصل کر رہا ہے، کیا اس نے یہ انعام برطانیہ سے وفا داری کے صلے میں پایا ہے مگر یہ اس کی بد قسمتی ہو گی جب پاکستان میں اعلی عہدوں پر پہنچے گا اور اس کو سیاسی وفا کے پیمانے سے جانچا جائے گا۔ سیسل چودھری کی وفا داری کس سے تھی، عزیز بھٹی کس سیاسی پارٹی کا دم بھرتے تھے۔ لا حول ولا قوہ، یہ کیا معیار ہے جس پر نوکریاں دی جاتی ہیں اور سول اعزاز ریوڑیوں کی طرح نچھاور کئے جاتے ہیں۔

جنرل مشرف کے دنوں میں کتنے ہی باضمیر تھے جنہوں نے سول اعزازات لینے سے ا نکار کر دیا تھا، پی پی پی کی حکومت سے بھی اعزاز لینے سے معذرت کرنے والے کم نہیں تھے۔ مگر ن لیگ کے اعزاز کو بھی کوئی ٹھکرانے کی ہمت کرے، لکھنے والے صدیوں اور زمانوں اور نسلوں کے لئے لکھتے ہیں، ان کا صلہ شاہنامے رقم کرنے والے مؤرخ دیتے ہیں۔

حا شا و کلا میں یہ سب کچھ حسد میں نہیں لکھ رہا ہوں، مجھے کسی سیاسی بنیاد پر کوئی اعزاز لینے کاہر گز شوق نہیں ہے۔ سن1985میں میاں نواز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلی کے طور پر مجھے اپنا میڈیا ایڈوائزر بنانے کی کوشش کی تھی، ڈاکٹرغلام رسول چودھری ایک گواہ تھے، اللہ کو پیارے ہوگئے، ڈاکٹر طاہر القادری دوسرے گواہ موجود ہیں، مگر میں نے انکار میں سر ہلایا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر مجید نظامی کو میاں صاحبان کے پورے گھرانے، نے منصب صدارت کی پیش کش کی مگر اس مرد قلندر کی غیرت نے یہ سیاسی انعام قبول نہ کیا۔ ان کو تو مصطفی صادق مرحوم بھٹو کے پاس لے گئے کہ ان کے اشتھار بحال کروا دیں مگر ساری باتیں ہوئیں اور اشتھار کی بات کئے بغیر ملاقات کا وقت ختم ہو گیا، بھٹو پھٹ پڑا۔ اوئے! مصطفی، اشتھاروں کی بات کیوں نہیں کی۔ سیاست کے جمعہ بازار میں ہر کوئی اپنی قیمت نہیں لگواتا۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں