کارپوریشنز اور عوام

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ارب پتی میٹ رومنی باراک اوباما کے مقابلے میں صدارتی انتخابات اپنے ایک احمقانہ بیان کی وجہ ہار گئے۔ اُنھوں نے کہا تھا …’’ کارپوریشنز عوام ہی ہوتی ہیں‘‘… یہ بات اُنھوں نے اُس وقت کی تھی جب اُن سے پوچھا گیا تھا کہ وہ امریکہ کے کاروباری اداروں سے ٹیکس وصول کرنے کے حوالے سے نرم رویہ کیوں رکھتے ہیں۔ ارب پتی نواز شریف بھی ایسی ہی کاروباری ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک مخصوص ذہنیت رکھنے والے افراد ہی عوامی کارپوریشنز کے سربراہ بنیں کیونکہ ہم خیال افراد کے ساتھ کاروباری معاملات چلانا آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اب تو لندن میں ان کے میزبان، ایک دولت مند شخص، چوہدری محمد سرور، جو اب لاہور کے گورنر ھاؤس میں ہیں، بھی ان کو اچھی بزنس ایڈوائس دے سکتے ہیں۔

ساٹھ سالہ سرور اس عہدے پر فائز ہونے کے لیے اہلیت رکھتے ہیں … بطور برطانیہ کے رکنِ پارلیمنٹ، وہ ہزار سالہ تاریخ میں پہلے ایم پی تھے جنھوں نے قرآنِ پاک پر حلف اٹھایا۔ ٹھیک ہے، لیکن اس کے علاوہ ان میں اور کیا خاص بات ہے کہ وہ گورنر پنجاب بنا دیے گئے؟ یقیناً اُنھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں صنعت، تجارت اور کاوربار کے لیے اچھا ماحول قائم کریں گے۔ ذرا خاطر جمع رکھیں! شنید ہے کہ شوکت ترین کو ’’SOE‘‘ کے بورڈ ممبران کی سلیکشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ بات دبے لفظوں میں اس شخص کی طرف سے کی گئی ہے جو کاروباری حلقوں کا نبض شناس ہے۔

نواز شریف کی طرف سے مقرر کیے جانے والے سلیکٹرز کا حجم بڑھ رہا ہے اور ان میں ارب پتی افراد جگہ پا رہے ہیں۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان کے زیادہ تر کاروبار پاکستان کی بجائے بیرونی ممالک میں ہے، چناچہ اسی طرح ان کے بنک اکاونٹس اور غیر منقولہ جائیداد بھی وہیں ہیں۔ ’’رائل کچن ‘‘ میں ارب پتی شیف جمع ہو رہے ہیں … میاں منشا، محمد سرور اور شوکت ترین۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سوں کی آمد متوقع ہے اور بہت جلد ٹریفک جام کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ نواز شریف نے پہلے ہی تین افراد کو پسِ پردہ رہ کر کام کرنے پر لگا دیا ہے۔ یہ تینوں افراد جن کو سلیکشن سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، ریٹائرڈ سرکاری افسر عبدالرؤف چوہدری، شمس قاسم لکھا اور عالمی بنک کے سابقہ ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اعجاز نبی ہیں۔ اب ان میں شوکت ترین بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی اس گروپ میں آمد دھماکہ خیز ہوگی کیونکہ وہ اپنی راہ بنانا جانتے ہیں۔ جب وہ آصف زرداری کے فنانس منسٹر تھے تو اُنھوں نے ہار مانتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی مالی بدانتظامی کو برداشت نہ کرسکے۔ اس کے بعد وہ پھر بیرونِ ملک اپنے بنک، جہاں سے وہ آئے تھے، میں چلے گئے۔

یہ دیکھ کر کہ نواز شریف نے من پسند سیاست دانوں، صنعت کاروں اور سرکاری افسروں کو پبلک سیکٹر میں چلنے والے اداروں کا سربراہ بنا دیا ہے، عالمی بنک نے سرخ جھنڈی دکھا دی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے اپنے ’’پالیسی نوٹ‘‘ میں عالمی بنک نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ من پسند افراد کو نوازنے کی پالیسی ترک کر دے کیونکہ ایسی تقرریاں شفاف اصولوں کے خلاف ہیں۔ اس نے حکومت کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ وزرأ اور سرکاری افسران کو ان عہدوں پر فائز کرنے سے باز رہے۔ عالمی بنک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پبلک سیکٹر میں چلنے والے سینکڑوں ادارے ہیں جو قومی آمدنی کا دس فیصد فراہم کرتے ہیں جبکہ سٹاک مارکیٹ میں بھی ان کے سرمائے کی شرح ایک تہائی کے قریب ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان کے پاس ’’ایس او ای‘‘ (state-owned entities) کے حوالے سے کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت جلدی سے اس ضمن میں قانو ن سازی کرے ۔ عالمی بنک ایڈوائس کرتا ہے کہ جو ادارے ٹارگٹ پورے کرنے میں ناکام رہیں، اُنہیں زائد فنڈز نہ دیے جائیں۔ تاہم نواز شریف ان ہدایات پر عمل کرتے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ اس وقت وہ ماہرین کی تقرری خاموشی سے کر رہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے اُنھوں نے گھوڑے کے آگے تانگے کو جوت دیا ہے۔ ان سب باتوں کی نشاندہی پی آئی اے، کے ایس ای اور اینگرو کے سابقہ چیئرمین ظفر خان نے کی ہے۔ اُنھوں نے ایک انگریزی روزنامے میں مدیر کے نام خط میں لکھا ہے…’’ایسا لگتا ہے کہ نواز حکومت سی ای اوز کا چناؤ کرکے انہیں پبلک سیکٹر میں چلنے والی انٹر پرائزز میں لگانے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ سی ای او کی تقرری یا برطرفی اس ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا استحقاق ہوتا ہے۔ جب ایک حکومت ہی سی ای اوز کی تقرری کرے گی تو وہ بورڈز کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ اس عمل سے بورڈ کی اتھارٹی اور احتسابی عمل متاثر ہوگا۔ ‘‘

اسی طرح کی ایک اور معقول تجویز معین فدا، جو کہ ایک مشہور کاروباری شخصیت ہیں، کی طرف سے بھی آئی ہے۔ وہ اس ٹاسک فورس کے ممبر تھے جس نے مارچ 2013 میں پی ایس سی کارپوریٹ کے قواعد و ضوابط کا مسودہ ڈرافٹ کیا تھا۔ ان کے مطابق اس ضمن میں قوانین واضح ہیں … ’’کمپنیوں کے پیشہ ور ماہرین پر مشتمل بورڈ ہی سی ای از کی تقرری کرے گا۔ اس عمل میں حکومت کی مداخلت نہیں ہوگی‘‘ تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت ان قوانین کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ سو سے زائد اداروں کے سی ای اوز اپنی مرضی سے لگانا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے سہ رکنی کمیشن قائم کیا ہے جو اس عمل کی نگرانی کرے گا۔
ان سی ای اوز کی آسامیوں کے لیے قومی پریس میں دیے جانے والے اشتہارات اتنے غیر سنجیدہ زبان میں کیوں ہیں؟ کیا انہیں وزیرِ اعظم کے سیکرٹریٹ کے کسی نیم خواندہ کلرک نے ڈرافٹ کیا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام سی ای اوز کی آسامیوں کے لیے یکساں تعلیمی قابلیت درکار ہو؟ دیے گئے اشتہار کے مطابق ،مثال کے طور پر، OGDCL، جو پاکستان کی ائل اور گیس کی تلاش کرنے والی کمپنی ہے، کے سی ای اوکے لیے پندرہ سالہ تجربہ درکار ہے۔ اس کمپنی میں کم از کم دو ہزارکے قریب ایسے ملازمین ہیں جن کا تجربہ پندرہ سال سے زائد ہے۔ کیا اب یہ تمام افراد سی ای او کی آسامی کے درخواست دے سکتے ہیں اور کیا مذکورہ کمیشن ان سب کا انٹرویو کرنے کے لیے تیار ہے؟

خدشہ ہے کہ نواز شریف اور اس کے وزرا، جیسا کہ خاقان عباسی، احسن اقبال اور خواجہ آصف کے پاس قوتِ فیصلہ کی کمی ہے۔ وہ ملک کو اسی شش و پنچ میں مبتلا رکھیں گے یہاں تک کہ یکایک ان کو احساس ہوگا کہ 2018 آ گیا ہے اور اب ان کے گھر جانے کا وقت ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے ایم ڈی کے لیے ایک غیر ملکی ائیر ہوسٹس نے بھی درخواست دے دی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے اور بھی غیر ملکی اس عہدے کے خواہش مند ہیں۔ کیا سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھے گی کہ ایسے حساس عہدوں پر غیر ملکیوں کی تعیناتی درست ہے یا نہیں؟

اس کے علاوہ تعیناتی کا عمل بھی خاصا چکرا دینے والا دکھائی دیتا ہے … چشم تصو ر یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ رؤف چوہدری، شمس لکھا اور اعجاز نبی ڈیسک پر بیٹھے ہوں گے جبکہ امیدواران لمبی قطاروں میں ان کے سامنے پیش ہو کر چناؤ کے عمل سے گزریں گے۔ عقل حیران ہے کہ یہ افراد کس طرح کسی امیدوار کی اہلیت اور دیانت کو ایک نظر میں جانچ لیں گے۔ یہ سب کچھ ہماری اور آپ کی نظروں کے سامنے نہیں ہو گا، اس لیے حکومت سے کم از کم یہ استدعا ہے کہ وہ قواعد وضوبط کی پاسدای کے دعووں سے دستبردار ہو جائے۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں