.

سکندر، جمہوریت اور طرز حکمرانی

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوال یہ ہے کہ کوئی مخبوط الحواس یا دیوانہ بکار خویش ہشیار شخص واشنگٹن، لندن، ٹوکیو یا نئی دہلی میں دو جدید ہتھیار لہراتا بیوی بچوں کے ساتھ سڑک پر نکل آتا، پولیس ناکہ توڑ کر دو چار ہوائی فائر کرتا اور نا معقول مطالبات کی ایک فہرست پولیس اہلکاروں کو تھما دیتا تو حکومت، انتظامیہ، پولیس، سول سوسائٹی اور میڈیا کا ردعمل کیا ہوتا؟ سول مشینری بریک ڈاؤن کر گئی؟ اسلام آباد کیا پورا ملک یرغمال بن گیا؟ اور نیوکلر ریاست ناکام ہوگئی؟ وغیرہ وغیرہ یا کچھ اور؟ بندوق بردار کے اردگرد آٹھ دس فٹ کے فاصلے پر کیمرہ مین، فوٹو گرافر، رپورٹر اور تجزیہ نگار کھڑے تماش بنوں کے جلو میں فی الفور فائر کھولنے کا مطالبہ کرتے، قانون دان، قانون شکن فرد کو بیوی بچوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنانے کی قانونی دفعات نکال کر دکھاتے، پولیس اور انتظامیہ کے بااختیار عہدیدار بے بسی سے دوسرے شہر میں موجود وزیر داخلہ سے قانونی کارروائی کے لیے اجازت اور رہنمائی طلب کرتے یا ایس ایس پی رضوان اور آئی جی سکندر حیات کی طرح دور اندیشی، صبر، تحمل، انسانی جان کے تحفظ کی حکمت عملی پر کاربند رہتے۔

ہمارے پیارے رسول ﷺ کا ارشاد ہے ایک بے گناہ کی وجہ سے اگر ننانوے قصوروار بھی چھوٹ جائیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ میرے خیال میں وفاقی حکومت کا سربراہ میئریا ناظم اپنے معاونین پولیس و انتظامی افسروں کے ساتھ مل کر بندوق بردار کو بہلاتا پھسلاتا، غصہ ٹھنڈا کرتا، مطالبات کی فہرست پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کرتا، اس کے بیوی بچوں کے علاوہ اردگرد موجود شہریوں، میڈیا پرسنز اور سرکاری اہلکاروں کی جان بچاتا اور میڈیا کی ناراضی مول لے کر لائیو کوریج روک دیتا تاکہ ملک و قوم اور سرکاری ادارے پوری دنیا کے سامنے مذاق کا نشانہ بنیں نہ ایک غیر متوازن شخص کا انفرادی فعل ریاستی اداروں کی ناکامی کا تصور ابھارے۔

جس شخص سے اسلحہ لہرانے اور ہوائی فائر کرنے کے سوا کوئی جرم سرزد نہیں ہوا اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے دنیا بھر میں اپنی سنگدلی اور وحشت و بربریت کی مثال ہرگز قائم نہ کرتا جنرل پرویز مشرف کی سفاکیت اور لال مسجد و جامعہ حفصہ میں معصوم بچوں، یتیم بچوں پر فاسفورس بموں کا استعمال اور ملک و قوم پر اس موقعہ کے منحوس اثرات کو یقینا ذہن میں رکھتا۔ عبدالفتاح السیسی اور منتخب عوامی نمائندے میں فرق ہوتا ہے۔ زمرد خان کا جذبہ قابل ستائش، نیت نیک اور اخلاص شک و شبہ سے بالاتر مگر ان کے جذباتی فعل کو کوئی معقول، متوازن اور آئین و قانون پسند شخص ہرگز درست قرار نہیں دے سکتا۔ سکندر اور زمرد خان میں فرق ہونا چاہئے حکومت، سرکاری اداروں اور قانون کی ناکامی کسی شخص کو اپنی حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں دیتی اور طالبان پر یہی اعتراض کیا جاتا ہے سکندر کی گولی سے کوئی زخمی ہوا نہ کوئی خوف اور جذباتی صدمے سے دوچار مگر زمرد خان نے سکندر کے بیوی بچوں کے علاوہ ٹی وی سکرین سے لگے ہزاروں بچوں اور خواتین کی چیخیں نکلوا دیں اور کئی نفسیاتی الجھنوں سے دوچار کیا۔

وجوہات کئی ہیں اور سارے ڈرامے نے ملک و قوم کی بدنامی میں کوئی کسر نہ چھوڑ مگر اختیارات کی مرکزیت، بروقت فیصلہ نہ ہوسکنے کی عادت اور رائے سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد اور اداروں سے مرعوبیت اہم ترین سبب ہے جس کا تدارک اب نہ کیا گیا تو یہ تماشہ بار بار ہوگا اور ہمیں ہر موقع پر ریاست کی ناکامی اور حکومت کی نااہلی کا پروپیگنڈہ سننے کو ملیگا۔دنیا بھر میں اس طرح کے معاملات سے وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ یا وزیراعظم نہیں نمٹتے، اعلیٰ سرکاری حکام نوٹس ضرور لیتے ہیں مگر حکمت عملی مقامی سطح پرطے کی جاتی ہے اور مقامی حکومت (عرف عام میں بلدیاتی ادارے) پولیس و انتظامیہ کی رہنمائی کرتی ہے۔

مقامی حکومتیں اور پنچائتیں اس لیے وجود میں لائی جاتی ہیں کہ وہ کسی بھی نوعیت کے مقامی واقعہ پر قصہٴ زمین برسرزمین کے اصول کے تحت حکمت عملی طے کر کے ماتحت پولیس و انتظامیہ کے ذریعے نمٹ سکیں۔ مگر ہمارے ہاں جملہ اختیارات کا منبع وزیراعظم اور وزیراعلیٰ ہے یا پھر اس کا چہیتا کوئی وزیر مشیر اور ساری بدنظمی، غفلت، سہل پسندی اور ناکامی کا بوجھ صوبے یا ریاست کو برداشت کرنا پڑنا ہے، یہ اختیار میں ذمہ دار ہوتا ہے اور ہدف تنقید۔ ان دنوں ملک میں بلدیاتی اداروں کے قیام کے لیے قانون سازی ہورہی ہے مگر اب تک سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے جو مسودہ ہائے قانون متعارف کرائے ہیں وہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے بلدیاتی نظام کا چربہ ہیں جس میں اختیارات کا منبع وزیراعلیٰ صاحب بہادر ہے اور وسائل کی کنجی وزارت خزانہ کے پاس ہے جو آئین کی دفعہ 140 (A) کی نفی ہے۔

غیر جماعتی انتخابات کا فیصلہ پارلیمانی جمہوریت کے تقاضوں، مسلم لیگ (ن) کے منشور اور میثاق جمہوریت کے آرٹیکل 10 سے متصادم ہے اور اختیارات کی مرکزیت کے خواہش مند اور حکمرانوں کے عزائم کی آئینہ دار ۔حالانکہ پارلیمانی جمہوریت میں وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرح مقامی حکومت بھی بنیا دی ستون کا درجہ رکھتے ہیں اور سیاسی کارکنوں کی تربیت کے علاوہ قومی امور میں شرکت کا ذریعہ ہیں اور عوام کو گھر کے قریب سہولتیں فراہم اور روز مرہ مسائل نمٹانے میں مددگار۔

خوشی کی بات ہے کہ فی الحال عمران خان خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کے نعرے پر ڈٹے ہیں مگر بیورو کریسی کی خواہش یہ ہے کہ ان اداروں کو صوبائی انتظامیہ کے ماتحت کردیا جائے۔ اگر ملک میں مقامی حکومتیں قائم،فعال اور بااختیار ہوتیں تو اسلام آباد کا میئر یا ناظم سکندر ٹائپ شخص سے نمٹنے میں کتنا وقت لیتا؟ مقامی نوعیت کا واقعہ عالمی سطح پر شہرت کیسے حاصل کرتا، زمرد خان کو ٹپکنے کی اجازت کیوں ملتی ؟ کسی کو یہ کہنے کا موقع کیوں ملتا کہ حکومت اور ریاست ناکام ہوگئی زیادہ سے زیادہ کوئی اینکر، تجزیہ کار اور سیاسی مخالف مقامی حکومت اور میئر یا ناظم پر تبرا تولتا کہ وہ ناکام ہو گیا۔

اللہ اللہ خیر سلا۔ غالباً اسی بناء پر ہمارے سیاستدان اور جمہوری حکمران مقامی حکومتوں کے حق میں نہیں انہیں سیاسی،انتظامی اور معاشی و مالیاتی آزادی اور اختیارات دینے سے ہچکچاتے ہیں کہ پھر کوئی اعلیٰ و ادنیٰ پولیس افسر ان سے اجازت اوررہنمائی طلب نہیں کریگا۔ ہر صبح، دوپہر، شام میڈیا پر وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور وزیر وں، مشیروں کے نام گونجیں گے نہ شکلیں نظر آئیں گی اور نہ ان کے بے مغز بے تکے بیانات نشر اور شائع ہوں گے اقتدار کے بھوکوں اور اختیارات کے پیاسوں کو اپنی شہرت اور ٹہور ٹپے سے غرض ہے اچھی یا بری، قوم اور ملکی جائیں بھاڑ میں۔ سکندر اور زمرد نہ ہوں تو انہیں بھلا کون پوچھے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.