.

عقل بہادری کی محتاج ہوتی ہے

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے ساتھی سہیل وڑائچ اور دیگر بہت سارے پڑھے لکھے لوگوں کے ”مطابق“ حکمرانوں کو بیک وقت عقل مند اور بہادر بھی ہونا چاہئے مگر شاید اس وقت عقل مند سے زیادہ بہادر حکمران کی ضرورت ہے۔ اس بیان میں ”شاید “ کالفظ اس لئے آ گیا کہ پڑھے لکھے لوگ عام طور پر بہت محتاط بھی ہوتے ہیں۔ کوئی بیان آخری اور حتمی عدالتی فیصلے کے طور پر صادر نہیں فرماتے اس میں ”شائد“ کی گنجائش رکھتے ہیں اور حکمرانوں کی عقلمندی اور بہادری کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے وقت شاید کی گنجائش ہونی بھی چاہئے کیونکہ حکمرانوں کی عقل مندی اور بہادری کے بارے میں فیصلے ان کے بعد آنے والے حکمران ہی کیا کرتے ہیں یا ان کے جانے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ عقل مند تھے یا بہادر تھے۔ یہ پہلی بار ہواہے کہ میاں محمد نواز شریف کی موجودہ حکومت کو اس کے پہلے 76 دنوں میں اس سوال کی زد میں آنا پڑاا ور وہ بھی وفاقی وزیر داخلہ کی وجہ سے۔

چند روز پہلے دنیا کی آبادی کے لحاظ سے ساتویں بڑے ملک اور دنیا کی تازہ ترین ایٹمی طاقت کے دارالحکومت کو پانچ گھنٹوں سے زیادہ عرصے تک یرغمال بنائے رکھنے والے مسلح شخص کی گرفتاری کے سلسلے میں پی پی پی کے لیڈر زمرد خان کی جرأت مندانہ مداخلت کے حوالے سے اور خاص طور پر اس واردات پر وفاقی وزیر داخلہ کے تبصرے سے عقلمندی اور بہادری کے بارے میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ وزیر داخلہ کاکہنا ہے کہ ان کے دوست زمردخان نے بہادر ی کا مظاہرہ تو کیا ہے مگر عقل مندی کا ثبوت فراہم نہیں کیا۔

مہذب دنیا میں بہت عرصہ پہلے یہ بحث ختم ہوچکی ہے کہ عقلمندی اور بہادری کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں؟ مگر ہمارے ہاں یہ بحث عالمی دہشت گردی کے ساتھ آئی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے عقلمندی کے علاوہ بہادری بھی ضروری ہے اور بہادری میں اکثر اوقات جنون اور جذبے کا بھی بہت دخل ہوتاہے جو عقل اور سمجھ بوجھ کے معیاروں سے ماورا ہوتے ہیں۔ جرأت اور بہادری کے بعض ایسے واقعات بھی ہوسکتے ہیں جو عقل و شعور کے معیاروں سے بے وقوفی اور حماقت کی ذیل میں آتے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم نے بعض ایسے لوگوں کو بہادری کے اعلیٰ اعزازوں سے نوازا ہے جو اگر اپنی بہادری کے اس کارنامے کے بعد زندہ بچ گئے ہوتے تو ان کے خلاف انکوائری کرائی جاتی اور پوچھا جاتا کہ انہوں نے اپنی ا ور دوسروں کی زندگی کا اتنا بڑا ”رِسک“ کیوں لیا تھا؟ عقل و خرد ، ہوش، سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی تھی؟

شاعر مشرق نے بھی فرمایا ہے کہ:
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو ِ تماشائے لبِ بام ابھی

گویا عشق اگر آتش نمرود میں کودنے سے پہلے عقل و خرد سے مشورہ کرنے میں مصروف ہو جاتا تو آتش نمرود گلزار خلیل میں تبدیل ہونے کا معجزہ نہیں دکھا سکتی تھی۔ حالات کو تبدیل کرنے اور بہتر بنانے والے اگر میدان عمل میں داخل ہونے کی زبردستی نہ کرتے تو صدیوں بلکہ قرنوں سے حالات ”جوں کے توں“ ہوتے کہیں کوئی خلاف ورزی نہ ہوتی، کہیں کوئی جرأت ِانکار نہ کرتا اور کہیں کوئی موجود کو غیرموجود نہ کرتا تو دنیا میں کوئی انقلاب نہ آتا، کوئی تبدیلی نہ آتی،کوئی بہتری وجود میں نہ آسکتی، کوئی ایجاد، کوئی دریافت نہ ہوتی، کوئی نیا ملک، کوئی پاکستان وجود میں نہ آتا ۔ہمیں خود اپنے کلمہ ٴ طیبہ کو بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر ”لا الہ“ نہ ہوتا تو ”الا اللہ“ کہاں سے آتا۔ جب تک یہ نہیں کہیں گے کہ ”نہیں ہے کوئی“ یہ نہیں کہہ سکیں گے ”سوائے اللہ کے“۔ موجود سے بیزارہی موجودات میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جرات انکار کرنے والے ہی جہالت اور غلامی کا دور ختم کرنے کے ذمہ دار ثابت ہوئے۔ حالات کو تبدیل کرنے کی جرأت نہ ہوتی تو پہیہ ایجاد نہ ہوتا، پنسلین بھی دریافت نہ ہوتی، کمپیوٹر بھی وجود میں نہ آتا اورعلم کے نئے افق بھی دریافت نہ کئے جا سکتے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.