.

نواز شریف کا خطاب۔ منجمد ٹیم متحرک خواب؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں قومی سلامتی کولاحق خطرات، دہشت گردی، معشیت کی بدحالی، بجلی اور بدامنی سمیت تمام بحرانوں اور تلخ حقائق کا ذکر بھی کیا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے حکومتی مشینری کی ناکامی کے اعتراف کے باوجود انتہا پسندوں سمیت تمام سیاسی اور غیر سیاسی عناصر سے ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ حکومتی طاقت کے بھرپور استعمال سمیت تمام آپشنز کو اپنانے کا اعادہ بھی کیا۔

اسی خطاب میں حکومت کی انتظامی مشینری کی بے حسی یا بے عملی اور مسائل پر قابو پانے میں ناکامی کو ناقابل قبول قرار دیکر بیورو کریسی کی کارکردگی کوچیلنج کر دیا۔ امور خارجہ میں پاک چین تعاون ودوستی، ڈرونز حملے ناقابل قبول، سارک ممالک اور سینٹرل ایشیائی ممالک کو تجارت اور شاہراہوں کے ذریعے لنک کرنے کے ارادوں کا اظہار کیا اور پھر مسائل اور مایوسی کی شکار قوم کو مستقبل کے حوالے سے مثبت اور مفید منصوبوں اور خوابوں کا اظہار بھی کیا جو پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ امریکہ وکینیڈا سمیت بیرونی ملکوں میں آباد پاکستانیوں نے سنا اور دیکھا۔ خدا کرے نواز شریف قومی خطاب میں بیان کردہ وعدوں، منصوبوں اور خوابوں کی تعمیل وتعبیر میں مکمل عملی کامیابیاں حاصل کر سکیں مگر مجھ سمیت بیرون ملک بہت سے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے وزیروں مشیروں کی ٹیم کیلئے کچھ سوالات بھی لئے ہوئے ہیں، کیونکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی ٹیم ملک وقوم کونئی منزلوں کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے حکومتی مشینری میں جمود، بے حسی یا بے عملی کے باعث مسائل پر قابو پانے میں ناکامی کو ناقابل قبول تو بالکل درست طور پر قرار دیا لیکن اسی تناظر اور تقابل میں بیرون ملک پاکستانی مجھ سمیت چند سوالات لئے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کی وزارتی کابینہ اور مشاورتی ٹیم تووہی پرانی ٹیم ہے جو14سال قبل تھی جو بالکل نارمل ملکی حالات، پارلیمینٹ میں دوتہائی اکثریت اور اقتدار پر مضبوط گرفت کے باوجود جمہوریت اور اپنی حکومت کواپنے ہی کئے گئے مشوروں، فیصلوں کے ہاتھوں تباہ کروا بیٹھی اور پھر ملک پر ایک ایسی آمریت کا قبضہ ہوا کہ جس کے فیصلوں نے ملک اور قوم کی معیشت، معاشرت اور مہورت( امیج) کو تباہ کر ڈالا

(1) وزیراعظم نوازشریف کی موجودہ ٹیم میں بھی وہ چہرے شامل ہیں جنہوں نے نواز شریف حکومت کے سابقہ دور میں ایٹمی دھماکوں کے بعد قومی ہیرو کاروپ لئے وزیر اعظم نواز شریف کو قوم پر اعتماد سے اپیل اور تعاون پر انحصار کرنے کے بجائے یہ مشورہ دیا کہ بیرون ملک آباد پاکستانیوں کے پاکستانی بنکوں میں موجود ڈالرز اکاوٴنٹس کو منجمد کر دیا جائے۔

زرمبادلہ کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ڈالرز اکاوٴنٹس کو جبری طور پر منجمد کر ڈالنے کے جو تباہ کن سیاسی اور معاشی نتائج نکلے نواز شریف حکومت اور ان کی پارٹی اور مشیر آج تک اپنے اوپر لگے ہوئے اس دھبے کو دھونے میں ناکام ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حکومت کے آخری ایام میں اسلام آباد میں غیر ممالک کے پاکستانیوں کے ایک کنونشن میں وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کے بعد جب میں نے مائیک پر پاکستانیوں کے ڈالرز اکاوٴنٹس کو منجمد کرنے کے فیصلے کے بارے میں سوال اٹھایا تو اس فیصلے پر عمل کی تباہ کاریوں سے آگاہ نواز شریف نے انتہائی کرب اور تلخی کے ساتھ اسٹیج پر موجود بزرگ وزیر سرتاج عزیز کو یہ کہتے ہوئے مائیک پر بلایا کہ جنہوں نے یہ مشورہ دیا تھا وہی آکر اس سوال کا جواب دیں باقی تمام کارروائی بھی کنونشن کے ریکارڈ میں ہو گی حالانکہ ایٹمی دھماکوں کے بعد نواز شریف ایک قومی ہیرو کے طور پر مقبول تھے اور اگر وہ قوم سے مشکلات کا ذکر کرکے قوم سے زرمبادلہ کیلئے اپیل کرتے توغیر ممالک کے پاکستانی اور پاکستانی قوم کی اکثریت رضا کارانہ طور پر اپنے وسائل پاکستانی بنکوں میں لاکر ڈھیر کر دیتے۔

اسی طرح پاکستانی شہری ایمل کانسی کو امریکہ سے قیدیوں کے تبادلے کے کسی معاہدے کے بغیر اپنے ملک کے قوانین اور عدالتی طریقہ کار کی تعمیل کے بغیر ہی امریکہ کے حوالے کردیا گیا ۔ یہ پرویز مشرف دور سے بھی قبل کی بات ہے اور اب تو ایمل کانسی پر امریکہ میں مقدمہ قتل کے بعد امریکی جیل میں موت کی سزا پر عملدرآمد ہوئے بھی کئی سال گزر چکے مگر اپنے ہی پاکستانی قوانین اور عدالتی طریق کار کے تقاضوں کوپامال کرکے ایک پاکستانی شہری کو امریکہ کے حوالے کردینے کا مشورہ دینے والے آج بھی نواز شریف کی وزارتی و مشاورتی ٹیم کا حصہ ہیں ۔

(2) پرویز مشرف وزیر اعظم نواز شریف کی سفارش اور فیصلے کے نتیجے میں فوج کے سربراہ بنے تھے اور ظاہر ہے ان کے اس فیصلے میں مشیروں کے مشورے اور عملی حمایت بھی شامل تھی پھر اس کے بعد کارگل، آئین سے بغاوت اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر 9 سال تک آمرانہ انداز میں حکمرانی کے نتیجے میں پاکستان کو جس تباہی میں دھکیلا گیا وہ پاکستانیوں کی نسلیں یاد رکھیں گی۔

ابھی تو مشرف دور کے بہت سے اسرار اور حقائق سے پردہ اٹھنا باقی ہے کہ اپنے ذاتی اقتدار کو دوام کیلئے، بیرونی سرپرستوں کو خوش کرنے کیلئے کیا کچھ پیش کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کا وہی فوجی آمر جس کا نام امریکی صدارت کے امیدوار کو معلوم تک نہ تھا وہ کچھ عرصہ بعد منتخب امریکی صدر جارج بش کا ذاتی دوست، بااعتماد اور حمایت یافتہ پاکستانی حکمراں کے طور پر امریکی صدر جارج بش کے ساتھ نیو یارک، واشنگٹن اور کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ اور اعلانیہ ملاقاتوں کا مستحق ٹھہرا۔ آخر پرویز مشرف کی بطور آرمی چیف تقریری بھی تو مشیروں کی اسی دور اندیش، مخلص، محنتی اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ٹیم کی مشاورت کا نتیجہ تھی اور وہ موجودہ ٹیم کا حصہ بھی ہیں ۔ پرویز مشرف کی آمریت اور حکمرانی کے احتساب کے ساتھ ساتھ ان کی تقریری کی حمایت ومشورہ دینے والے مشیروں کی ذہانت کا احتساب بھی ضروری ہے صرف سسٹم کی آڑ میں مستقبل کے فیصلوں میں ایسے مشیروں کوٹیم کا حصہ بنانا درست نہیں ہے۔

(3)امور خارجہ کے شعبے میں بھی وزیر اعظم کی مشاورتی ٹیم نہ صرف جمود کا شکار ہے بلکہ کفایت کے نام پر بیرون ملک سفارتی مشنوں میں سفارتی عملے کوجس طرح کم کیاجارہا ہے اس کٹوتی سے توبہتر ہوگا کہ سفارتی مشن ہی بند کردیئے جائیں کیونکہ سفارتی افسروں کی جس قدر کمی اور کام کا جس قدر دباوٴ بڑھایا جارہا ہے اس کے نتیجے میں تخلیقی سفارتکاری تو دور کی بات ہے ان نوجوان سفارتکاروں کوتو دفتری کام اور ذمہ داریاں ادا کرنے کا وقت بھی کم ہوگا ۔ انتظامی امور پر فیصلوں کے علاوہ پاک بھارت تعلقات، پاک امریکہ تعلقات، پاک افغان تعلقات کے بارے میں ابھی تک تخلیقی ڈپلومیسی کی شروعات تک نہیں ہوئیں۔

بھارت کے سابق وزیر اعظم ایٹمی دھماکوں کے بعد نوزائیدہ ایٹمی پاکستان کے شہر لاہور کے مینار پاکستان آکر تاریخی حقائق کوتسلیم کرنے اور معاملات طے کرنے کیلئے آگئے تھے ۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی خاموش سفارتکاری کا شکریہ مگر کارگل اور اس کے بعد کے حالات نے سب کچھ سبوتاژ کر دیا۔ اب تو مشیر خارجہ محترم سرتاج عزیز خود بھی پاک بھارت تعلقات میں امریکی حمایت یافتہ بھارتی برتری اور گھمنڈ، افغانستان کے دباوٴ اور پاکستان کی تمام سرحدوں کے غیر محفوظ ہونے کے اثرات کی مشکلات اور مجبوریوں کا اعتراف کررہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان متحرک سفارتکار توموجود ہیں مگر وزارت خارجہ کی قیادت منجمد ہاتھوں میں ہے۔ تو میمو گیٹ کے اسکینڈل سے پوری قوم واقف ہے۔

حسین حقانی صدر زرداری کی حکومتی صفوں میں شامل اور موثر تھے تو میمو گیٹ کے دوسرے کردار منصور اعجاز کے محترم سرتاج عزیز سے تعلقات اور اثرات کی بات تو نواز شریف کے پچھلے دور میں بھی خوب دیکھی گئی ۔میاں نواز شریف صاحب آپ کا جذبہ نیک نیتی، پاکستان کی ترقی اور سلامتی کے بارے میں آپ کے خیالات ، ارادے ، پلان واقعی قابل تحسین ہیں مگر آپ کی مشاورتی اور وزارتی ٹیم پر جمود ، بے حسی اور بے عملی طاری ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.