.

ضمنی انتخابات کا سبق

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ضمنی انتخابات کے نتائج سے کئی نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ پہلا نتیجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک ایک صوبے تک محدود ہوتی جا رہی ہیں۔

گزشتہ عام انتخابات کے دوران خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے حاصل کردہ ووٹ 2008ء کے انتخابات کے مقابلے میں بہت زیادہ تھے ۔ لیکن گزشتہ انتخابات سے قبل صوبائی قیادت کی غلطیوں اور انتخابات کے بعد مرکزی قیادت کے روئیے نے اس صوبے سے مسلم لیگ (ن) کا رہا سہا بستر بھی گول کرا دیا۔ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے کسی ایک نشست پر بھی انتخاب نہیں لڑا اور میاں نوازشریف صاحب نے اپنے تمام امیدوار مولانا فضل الرحمن کے حق میں دست بردار کرادئے۔

یوں اس صوبے میں اگر تحریک انصاف کی مقبولیت کم ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) مقبول بن گئی ۔ سندھ کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) یہاں مقبول جماعت نہیں بن سکی اور بدستور اس صوبے میں پیپلز پارٹی کا بول ہی بالا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے نور ربانی کھر صاحب کی جنوبی پنجاب میں جیت اس کی کامیابی ہے لیکن مجموعی طور پر گزشتہ عام انتخابات کا رجحان برقرار نظر آتا ہے کہ اصلاً پیپلز پارٹی سندھ کی اور مسلم لیگ(ن) پنجاب کی جماعتیں بنتی جا رہی ہیں ۔

پشاور کی قومی اور مردان کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اے این پی کے امیدواروں کی جیت اور تحریک انصاف کی ہار، تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی کا تو بین ثبوت ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اے این پی کی سابقہ پوزیشن بحال ہو گئی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹ غیرمعمولی حد تک کم ہو گئے ہیں لیکن اے این پی کے ووٹ نہیں بڑھے ہیں۔ اب کے بار غلام احمد بلور کو جے یو آئی ‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی بھی حمایت حاصل تھی لیکن عام انتخابات کے مقابلے میں ان کے ووٹوں میں چند ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے امیدوار گل بادشاہ کو تقریباً 29 ہزار ووٹ ملے حالانکہ عمران خان نے یہاں سے ایک لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کئے تھے۔ تب تحریک انصاف تنہا لڑرہی تھی لیکن اب کے بار اسے پشاور میں جماعت اسلامی اور آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف کس قدر تیزی کے ساتھ نیچے آگیا ہے اور چند ماہ کی کارکردگی نے اس ہوا کی ہوا نکال دی جو گزشتہ انتخابات کے موقع پر تحریک انصاف کے حق میں چلی تھی۔ اسی طرح میانوالی میں عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست پر مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کی کامیابی سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات کے موقع پر عمران خان کے روئیے نے اگر ان کے قریبی عزیزوں انعام اللہ نیازی اور حفیظ اللہ نیازی کو مایوس کیا تھا تو اب کے بار ان کے غیرجمہوری روئیے نے میانوالی کے ووٹروں اور سپورٹروں کو بھی ناراض کر دیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان اس شکست سے سبق لے کر اپنے روئیے میں تبدیلی لائیں اور نوواردوں کی بجائے پارٹی کے حقیقی ‘ نظریاتی اور مخلص کارکنوں کو آگے لانے کی کوشش کریں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کے بارے میں اس حقیقت کو تحریک انصاف کی قیادت بھی تسلیم کرتی ہے کہ اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی باقی ملک میں تحریک انصاف کے مستقبل کا تعین ہو گا۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو نہ صرف یہ کہ باقی ملک میں تحریک انصاف کی کامیابی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا بلکہ خیبرپختونخوا بھی اس کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

ضمنی انتخابات کے نتائج کا سبق یہی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا‘ اسپیکر اور اہم وزراء پارٹی اور حکومتی عہدوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ کابینہ جو میرٹ کی بجائے پارٹی میں پوزیشن‘قیادت سے قربت یا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر بنی ہے کو تحلیل کیا جائے اور دوبارہ میرٹ کی بنیاد پراسے تشکیل دیا جائے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت صوبائی معاملات میں غیرضروری مداخلت ختم کر دے۔

صوبائی حکومت کو زمینی حقائق کے مطابق حکومت چلانے دے اور پارٹی قیادت ماہانہ بنیادوں پر صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے جبکہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کا رویہ چھوڑ کر حکمران جماعت کا رویہ اپنالے۔ کراچی اور میرپورخاص کے نتائج سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایم کیوایم اب بھی شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے کیونکہ فوج کی نگرانی میں ہونے والے شفاف انتخابات میں بھی وہ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ اسی طرح عام انتخابات کے نتائج کے بعد اب ضمنی انتخاب کے نتائج سے بھی ثابت ہو گیا کہ کراچی میں جماعت اسلامی، اے این پی اور پیپلز پارٹی کی بجائے تحریک انصاف دوسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔

یہ ایم کیوایم کے لئے بھی وارننگ ہے کہ اگر اس نے اپنی خامیوں پر قابو نہ پایا تو تحریک انصاف مستقبل میں اس کی جگہ لے سکتی ہے اور تحریک انصاف کے لئے بھی پیغام ہے کہ اگر وہ محنت، لگن اور تسلسل سے آگے بڑھے تو شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا کہ عام انتخابات کے موقع پر مقامی سطح پر دھاندلی ضرور ہوئی ہے لیکن قومی سطح پر اس حد تک نہیں ہوئی کہ حکومت سازی پر اثر ڈالا ہو یا پارٹی پوزیشن میں کوئی جوہری تبدیلی کا ذریعہ بنی ہو۔ یہ نتائج تحریک انصاف کی قیادت کو سبق دے رہے ہیں کہ وہ دھاندلی کے ایشو کو زندہ رکھے اور جہاں تک ہوسکے عدالتی محاذ پر جنگ لڑے لیکن پورے انتخابی عمل کومشکوک بنا کر سڑکوں پر آنے سے گریز کرے۔

یہ نتائج پیپلز پارٹی کی قیادت کیلئے پیغام ہیں کہ اگر وہ اپنی غلطیوں پر قابو پالے اور ازخود اپنے آپ کو سندھ تک محدود کرنے کی روش چھوڑ دے تو پیپلز پارٹی ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کر کے قومی جماعت بن سکتی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو بھی پیغام دے رہے ہیں کہ وہ پنجاب سے نکل کر قومی قیادت کا رویہ اپنالے۔ انتخابات کے بعد جس طرح پارٹی کو معطل کیا گیا ہے اس کو بحال کرے ۔ اقربا پروری اور دوست پروری کی بجائے اہلیت اور میرٹ کی پالیسی اپنائے ۔ ایسا ہوا تو مسلم لیگ(ن) ایک بار پھر پنجاب سے نکل کر قومی جماعت بن سکتی ہے نہیں تو پنجاب پر اس کی اجارہ داری بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.